30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اتناہی زید کو دیا جائے اس سے زیادہ اصلا نہ لے۔یہ بھی اس صورت میں جبکہ وارث بکر محض احسانا اس کا روپیہ تجارت میں لگائے اور اس کے نفع میں اپنا حصہ نہ چاہے ورنہ جو باہم قرارداد ہوجائے اتنا حصہ نفع میں اپنا لے کر باقی زید کو دے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳:کیا ارشاد ہے علمائے دین کا اس مسئلہ میں کہ رب المال اور مضارب میں وقت دینے مال کے نفع کی تعیین ہوجانی چاہئے کہ مضارب نفع میں سے نصف لے گا یا ثلث وغیرہ یا بعد حصول نفع کے دونوں باہم تراضی سے طے کرلیں اگربوقت مال دینے کے طے کریں تو اسی جلسہ میں ہو،اگر جلسہ بدل جائے تو حرج تو نہیں رب المال نے مضارب کو ایك شہر معین میں بھیجا اس نے وہاں جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہاں فروخت کرنے میں کوئی فائدہ نہ ہوگا تو اب اس کو کیا کرنا چاہئے۔رب المال کے پاس واپس جانے یا دوسرے شہر میں جہاں مناسب جانے کام کرے۔یا شہر معین میں فروخت کرتے کرتے مال بچ رہا تو مابقی کو لوٹا لائے یا دوسری جگہ مناسب پر فروخت کردے۔اگر رب المال وقت عقد کے توسیع کردے کہ جہاں مناسب سمجھے بیچے اور جو بات مفید دیکھے وہ کرے تو اس کے اختیارات وسیع ہوجائیں گے یا نہیں۔رب المال کے ذمہ سفر خرچ وخورد ونوش مضارب کا ہے اس سے مراد طعام بقدرضرورت ہے یا دیگر اشیاء بھی مثلا اس کا جی چاہا فصل کی کوئی شیئ کھالی یا روٹی سالن کافی تھا کہ اس نے پلاؤ زردہ کھایا یا کسی مسکین کو خیرات میں کچھ دیا یا لباس کی ضرورت پر کپڑا خرید کر استعمال کیا مثلا ٹوپی کافی ہوسکتی تھی کہ اس نے عمامہ خریدا یا اس کی حیثیت کے موافق ایك آنہ کی ٹوپی مناسب تھی کہ اس نے چارآنے کی خریدی۔
الجواب:
نفع میں جو حصہ شائعہ مضارب کا تعین نفس عقدمیں ضرورہے۔اگر عقد بلا تعیین حصہ شائعہ کیا مثلا تجھے مضارب کیاا س شرط پر کہ کچھ نفع مجھے دے دیا کر نا اس شرط پر کہ جتنا چاہوں اتنا نفع تجھے دیا کروں تو عقد فاسد وحرام ہے۔بلکہ اگر یوں کہا کہ زید وعمر میں باہم جتنے نفع پر مضاربت ہوئی ہے اسی قدر پر میں نے تجھ سے مضاربت کی اور عاقدین میں ایك کو اس کی مقدار معلوم نہیں۔عقد فاسد ہوگا اگر چہ دوسرے کو معلوم ہو،ہاں اسی جلسہ میں تعیین کرلیں یا علم ہوجائے توجائز ہوجائے لان المجلس یجمع الکلمات(کیونکہ مجلس متفرق کلام کی جامع ہوتی ہے۔ت)تبدل جلسہ ہوتے ہی فساد متقرر اور گناہ مستقر ہوجائے گا و المسائل کلہا معلومۃ من الفقہ (یہ تمام مسائل فقہ میں واضح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع