30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
صورت میں مضارب نفع کا حقدرا نہ ہوگا بلکہ اپنے عمل کے مطابق اجرت کا حقدار ہوگا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۱۔ب: ۲۷ محرم الحرام ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك شخص کے کارخانہ تجارت میں تھوڑے روپے دے کر شریك ہوجانا چاہتاہے اور یہ کہتا ہے کہ چھتیس روپے سال مجھ کو اس کے منافع میں سے دیا کرو اور اس سے زیادہ جو کچھ ہو تم لے لیا کرو بحق مضاربت،اور اگر کم ہو توا س کے بھی تم متحمل ہو۔شرعا یہ امر جائز ہے یانہیں؟بینوا توجروا۔
الجواب:
ناجائز اور گناہ ہے
|
لقطع الشرکۃ فی الربح ولالزام مانقص منہ علی المضارب وکل ذٰلك شرط فاسد والاول مفسد ایضا کما نصوا علیہ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نفع میں شرکت ختم ہوجانے کی بناء پر اور نقصان مضارب پر لازم کرنے کی بناء پر جبکہ دونوں صورتیں شرط فاسد ہیں۔اور پہلی تو مضاربت کے لئے مفسد بھی ہے۔جیسا کہ فقہاء کرام نے تصریح فرمائی ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۲: ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے مبلغ ایك سو پچاس روپیہ بکر کو بہ نیت تجارت دئے کیونکہ بکر میز کرسی کا تاجر تھا اس نے مبلغان مذکورہ کا ساٹھ من بیت خریدا اور سال تمام پر ساٹھ روپے منافع ہوئے لیکن بکر زید کو بایں حساب پانچ روپے ماہوار دیتارہا۔اس عرصہ میں بیت بکر نے بھی خریدا او ر کبھی نہیں خریدا لیکن ہمیشہ پانچ روپے ماہوار دیتا رہا۔بعد ایك عرصہ کے بکر نے قضا کی۔ایك وارث بکر نے وہ مبلغان مذکورہ اپنے ذمے لے کر موافق بکر کے پانچ روپے ماہوار دیئے،لیکن چند ماہ کے بعد وارث بکر نے یہ کہا کہ اس طرح روپیہ دینا ماہوار جائز نہیں۔لہذا جو روپیہ ذمہ بکر کے تھا میں ادا کرتاہوں چونکہ زید ایك ضعیف شخص ہے اور طاقت تجارت وغیرہ کی خود نہیں رکھتا ہے۔اس کی غرض یہ ہے کہ یہ روپیہ وارث بکر کے پاس باقی رہے یا شرع مطہر کوئی طریقہ اس ایسا ارشاد فرمائے کہ ہم کو موافق سابق کے یا اس سے کم وبیش ملے۔بینوا توجروا
الجواب:
ایك رقم تعین کردینا کہ نفع ہو یانہ ہو،کم ہو یازائد۔ہر طرح اس قدر ماہوار دیں گے ضرور حرام ہے بلکہ وارث بکر زر زیدکو تجارت میں لگائے زید نفع ونقصان دونوں کا متحمل رہے۔نفع ہو تو جس قدر ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع