30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لا یوجب شیئا من ذٰلك لایوجب فسادھا نحوان یشترطا ان تکون الوضیعۃ علیہما کذا فی الذخیرۃ [1]۔ |
جو چیز ایسی چیز کا باعث نہ ہو تو مضاربت کو فاسد نہ کرے گی مثلا دونوں نے شرط لگائی کہ نقصان کو دونوں خود برداشت کریں گے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
کل شرط یوجب جہالۃ فی الربح یفسدہ لاختلال مقصودہ وغیر ذٰلك من الشروط الفاسدۃ لایفسدھا ویبطل الشرط کاشتراط الوضیعۃ علی المضارب [2]۔ |
ہر ایسی شرط جو نفع میں جہالت کا موجب بنے وہ مضاربت کو فاسد کردے گی کیونکہ یہ مقصود میں اختلال ہے اور جو شرائط فاسدہ ایسی نہ ہوں وہ مضاربت کو فاسد نہ کریں گی بلکہ خود باطل ہوجائینگی مثلایہ شرط کہ نقصان مضارب پر ہوگا۔(ت) |
عقود دریہ میں ہے:
|
سئل فیما اذا اخسر المضارب فہل یکون الخسران علی رب المال،الجواب نعم [3]۔ |
ان سے سوال ہوا کہ جب مضارب کو خسارہ ہوا ہو تو کیا رب المال خسارہ میں شریك ہوگا؟ الجواب:ہاں!(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
المضاربۃ ایداع ابتداء وتوکیل مع العمل لتصرفۃ بامرہ وشرکۃ ان ربح وغصب ان خالف وان اجاز رب المال بعدہ واجارۃ فاسدۃ ان فسدت فلا ربح للمضارب حینئذ بل لہ اجر مثل عملہ [4]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مضاربت ابتداء میں امانت کی کارروائی ہے اور عمل کے بعد وکیل بنانے کا معاملہ بن جاتاہے کیونکہ مضارب رب المال کے حکم سے اس کے مال میں تصرف کرتاہے اور جب نفع حاصل ہوجائے تو شراکت بن جاتی ہے اور اگر مضارب خلاف ورزی کرے تو غصب بن جاتی ہے خواہ بعد میں رب المال اس کارروائی کو جائز بھی کردے۔اور مضاربت فاسد ہوجائے تو اجارہ فاسدہ بن جاتا ہے۔اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع