30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۱الف: ۷ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے تجارت بمضاربت بکرکے کی یعنی روپیہ زید کا تھا اور زید وبکر کے درمیان یہ اقرار پایا تھا کہ تجارت مذکور میں جو نفع ونقصان ہوگا تو بکر تیسرے حصہ کا نفع ونقصان اپنے ذمہ لے گااور زید دو حصہ،چنانچہ تجارت مذکورہ میں چونکہ قبل آنے مال کے روپیہ زیادہ مال سے ازروئے تخمینہ کے مال والوں کے پاس پہنچ گیا تھا وقت وصول ہونے مال کے روپیہ پہنچے ہوئے سے مال کم آیا۔اب جو روپیہ کہ باقی مال والوں کے ذمہ رہ گیا ہے تو اس صورت میں اگر وہ روپیہ وصول نہ ہوسکے تو زید بکر سے تیسرے حصہ کے نقصان لینے کا ازروئے شریعت کے مستحق ہے یانہیں؟ دوسرے یہ کہ ایك عرصہ سے بکر بوجہ کوشش وصول کرنے روپیہ مذکور کے اپنی فکر معاش سے بھی معذور ہورہا ہے۔کچھ اس کا بدلہ زید پر ہے یانہیں؟
تیسرے بکر نے باجازت زید ان اشخاص پر نالش وصول کرنے روپیہ کی کی۔روپیہ وصول نہ ہوا تو جو خرچہ نالش میں صرف ہوا زید بکر سے اس خرچہ کے بھی تیسرے حصہ کے نقصان لینے کا مستحق ہوگا یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط باطل ہے وہ اپنی تعدی ودست درازی وتضییع کے سوا کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں جو نقصان واقع ہو سب صاحب مال کی طرف رہے گا،نہ مضاربت صحیحہ میں مضارب اپنی محنت وکوشش کا کوئی بدلہ صاحب مال سے پانے کا مستحق ہے اس کا بدلہ یہی ہے کہ نفع ہو تو حسب قرار داد اس میں شریك ہوگا۔پس صورت مستفسرہ میں جو روپیہ وصول نہ ہوا یا نالش میں جو خرچہ ہوا زید اس کا کوئی حصہ بکر سے نہیں لے سکتا۔اور جو محنت بکر پر پڑے وہ اس کا بدلہ زید سے نہیں لے پاسکتا۔ہندیہ میں ہے:
|
اما الشروط الفاسدۃ فمنہا ماتبطل المضاربۃ ومنہا مالا تبطلہا و تبطل بنفسہا کذا فی النہایۃ قال القدوری فی کتابہ کل شرط یوجب جہالۃ الربح او قطع الشرکۃ فی الربح یوجب فساد المضاربۃ وما |
فاسد شرطوں میں سے بعض مضاربت کو باطل کرتی ہیں اور بعض باطل نہیں کرتیں بلکہ یہ خود باطل ہوجاتی ہیں۔نہایہ میں یوں ہے۔قدوری نے کتاب المضاربہ میں فرمایا ہر ایسی شرط جو نفع میں جہالت یا نفع میں قطع شرکت کا باعث بنے۔تو وہ مضاربت کو فاسد کرنے کا موجب بنے گی،اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع