30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن جمیع الدعاوی والخصومات شیئ زائد علٰی مفاد الصلح فانہ انما یقطع نزاعا خاصا لاکل خصومۃ بل اذا ادعی دارا ثم صالح مثلا علی نصفہا او قیمتہ فانما تجاوز عن نصف دعواہ لاعن جمعیہا لوصول بعضہا الیہ عینا او بدلا،واذاکان ھذا زائدًا علی قضیۃ الصلح کان کلاما مستقلا غیر مبتن علی الصلح فلا یضرہ بطلان الصلح ونظیرہ اذا زادفی الکلام علی قدر الجواب لم یجعل مجیب بل صار مبتدئا فلا یعاد السول فیہ کما نصوا علیہ۔ |
نہ ہوگا کہ تمام دعادی اور خصومات سے ابراء صلح کے مفاد سے زائد چیز ہے کیونکہ صلح ایك خاص نزاع کو قطع کرتی ہے نہ کہ تمام خصومات کو بلکہ جب کوئی شخص پورے مکان کا دعوٰی کرکے پھر نصف مکان یا نصف کی قیمت پر صلح کرے تو اس نے صلح میں اپنے نصف دعوٰی سے اعراض کیا نہ کہ تمام دعوٰی سے،کیونکہ اس سےاس کو بعض عین یا اس کےبدل کو وصولی ہوئی،تو جب یہ ابراء صلح سےزائد امر ہےتو یہ ایك مستقل کلام ہوگا جو کہ صلح پر مبنی نہ ہوا تو اس لئے صلح کا بطلان اس ابراء کو مضر نہ ہوگا اس کی نظیر یہ ہے کہ جب کوئی کلام قدرجواب سے زائد ہوتو اس کلام والے کو مجیب نہیں بلکہ ایك مستقل ابتداء والا اقرار دیا جاتاہے۔لہذا اس کلام میں سوال کا اعادہ متصورنہیں کیا جاتا جیسا کہ اس پر فقہاء نے نص فرمائی ہے(ت) |
لہذا صورت مستفسرہ میں ہندہ کو اجراء ڈگری سے کوئی مانع نہیں ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی(یہ میرے فہم میں ہے جبکہ حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸: از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راوالپنڈی ڈاکخانہ جاتلی۔مسئولہ تاج محمود صاحب ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
جو کہ صلح ہے وہ واقع منازعہ حق انسان میں ہے یا حق خدائے تعالٰی میں بھی ہے؟
الجواب:
صلح اگر برضا ہے تو عندالله بھی ہوگئی اور دب کرہے تو دنیا میں ہوئی آخرت میں مطالبہ باقی ہے والله تعالٰی اعلم۔
____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع