30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عقد الصلح حتی یکون متضمنا بالفتح ولا لما فی غمز العیون عن الزاہدی عن استاذہ بدیع الدین انہ اختیار ان الاقرار وان لم یکن فی صلب عقد الصلح لکنہ بناء علی الصلح الفاسد لایمنع الدعوٰی بعد ذٰلك [1] اھ لان حکم الاقرار لایجب ان یکون حکم الابراء فان الاقرار تملیك من وجہ فیحتمل الارتفاع والابراء اسقاط والساقط لایعود بل لما فی الاشباہ من قولہم المبنی علی الفاسد فاسد [2] اھ حتی لو اقر بطلاق زوجتہ ظانا الوقوع بافتاء المفتی فتبیین عدمہ لم یقح کما فی الاشباہ [3]والدر وغیرھما۔ اقول: و لایرد علیہ مافی الحموی عن القنیۃ ان ابرأہ بعد الصلح عن جمیع دعواہ وخصوماتہ صحیح وان لم یحکم بصحۃ الصلح [4] اھ لان الابراء
|
کے بعد لکھنے کی عادت ہے تو صلب عقد میں اس کا پایا جانا ثابت نہ ہوگا تاکہ اس کے ضمن میں پائی جانے والی متضمن (بالفتح) ہوسکے،اورنہ ہی غمز العیون میں مذکور کی وجہ سے انہوں نے زاہدی سے ان کے استاد بدیع الدین کے حوالے سے ذکر کیا کہ ان کا مختار یہ ہے کہ اقرار اگر چہ عقد صلح کے صلب میں نہ ہو تو بھی بعد میں دعوٰی کے لئے مانع نہیں کیونکہ اس کی بناء فاسد صلح پر ہے اھ کیونکہ ضروری نہیں کہ جو اقرار کا حکم ہے وہ بَری کرنے کاحکم ہو،کیونکہ اقرار من وجہ تملیك ہے جو کہ ختم ہوسکتی ہے جبکہ ابراء وہ تو اسقاط کا نام ہے جو بحال نہیں ہوسکتا۔بلکہ اشباہ میں مذکور فقہاء کے اس قول کی وجہ سے کہ "فاسد پر مبنی چیز بھی فاسد ہوتی ہے"اھ حتی کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کی طلاق کا اقرار اس گما ن پر کیا کہ مفتی کے فتوٰی سے فوطلاق ہوگئی جبکہ بعدمیں واضح ہوگیا کہ ایسا نہیں ہے تو اس اقرار سے طلاق نہ ہوگی جیسا کہ اشباہ اور درمختاروغیرہما میں ہے۔ اقول:(میں کہتاہوں)اس پرحموی میں قنیہ کے حوالے سےمذکور بطور اعتراض وارد نہ ہوگاکہ صلح کےبعداس کا تمام دعاوی اور خصومات سے بری کرنا صحیح ہے اگر چہ صلح کے صحیح ہونے کا حکم نہ دیا جائے گا اھ یہ اعتراض اس لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع