30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن ثمنھا او صداقھا علی نحوما قلنا وان لم یضمن الوارث ولکن عزلوا عینا فیہا لدین المیت وفاء ثم صالحوہا فی الباقی علی نحوما قلنا جاز اھ [1]۔ |
سے اداکرکے پھر بیوی سے اس کی رقم کے بدلے صلح کرلیں جیسا کہ ہم نے بتایا اور اگر کوئی وارث ضامن نہ بنے لیکن پہلے عین ترکہ میں سے میت پرقرض کی مقدار علیحدہ کرلیں پھر باقی میں بیوی سے صلح کا عمل کریں جیسے ہم نے بتایا ہے، تو جائز ہے۔اھ(ت) |
پس صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات اگر زنان کلو دونوں خواہ ایك کا مہر یا اس کے سوا اور کچھ دین ذمہ کلو ہو تو پہلے ادا کریں جو بچے اس کے تہائی سے کلو کی وصیت اگر اس نے کی ہو نافذ کرکے باقی کو ایك سو بارہ۱۱۲ سہام پر تقسیم کریں سات۷ سات۷ کلو کی ہز زوجہ اور چھپن۵۶ صغرٰی اور بارہ۱۲ بارہ۱۲ چُھٹن وعبدالله اور چھ۶ چھ۶ چھوٹی سینا اور دو دو امام بخش و یارمحمد اور ایک۱ ایک۱ دختران ملو کی کودیں اگر عبدالله کو اس تقسیم میں سو روپے سے زیادہ پہنچیں تو اس کا حصہ پورا کردیں اورکم ملیں تو جتنا زیادہ پہنچ گیا ہے واپس لیں اورکلو کا بھتیجا جسے اس نے بیٹا کرکے پالا اصلا وارث نہیں۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے زوجہ شہزادی بیگم اور نظام بیگم پدر حیدر علی دختر اعجاز فاطمہ وارث اور چارہزار دو سو باون۴۲۵۲ روپیہ نقد ایك مکان قیمتی ڈیڑھ ہزار روپیہ کا چھوڑ کر انتقال کرگیا شہزادی بیگم کا مہر پانچ ہزار روپے تھا اس کے سوا کوئی قرضہ زید پر نہ تھا اور نہ کچھ متروکہ زید ہے،باہم جملہ ورثاء مذکورین میں یہ فیصلہ وقرارداد ہوا کہ نظام بیگم وحیدر علی ساڑھے سات سو روپے لےلیں اور بقیہ زر نقد ومکان دختر وزوجہ کے حصص شرعی میں اور زوجہ کے مہر میں کردیں زوجہ بھی اس پر راضی ہوئی اب دعوٰی مہر نہ رہا،پس صورت مستفسرہ میں وہ مکان اور بقیہ روپیہ تین ہزار پانسو دو زوجہ دختر میں کس طرح تقیسم ہوگا؟ بینوا توجروا
الجواب:
زوجہ دختر کا مہر وحصتین کے عوض مکان وبقیہ زر پر راضی ہونا تین احتمال رکھتاہے:
(۱)زوجہ مہر سے دست بردار ہوئی اور اس بقیہ کو اپنی اور دختر پر حسب وارثت تقسیم ہونے پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع