30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کان وکان بحیث یکون حصۃ عبداﷲ مما یبقی بعد اداء الدین اقل من مائۃ تکون الترکۃ مشغولۃ بالدین مانع بنفسہ عن صحۃ الصلح الا اذا عزل مقدار مابقی بہ و اجری الصلح فی مابقی،فی الشامیۃ عن البزازیۃ عن شمس الاسلام التخارج لایصح اذا کان علی المیت دین ای یطلبہ رب الدین لان حکم الشرع ان یکون الدین علی جمیع الورثۃ [1] اھ۔وقد کنت اوضحت معنی قولہ ای یطلبہ رب الدین فیما علقتہ علی ھوامش ردالمحتار ثم رأیت التصریح بعینہٖ فی الہندیۃ عن الظہیریۃ و نصھا ان کان علیہ دین فصولحت المرأۃ عن ثمنہا علی شئی لا یجوز ھذا الصلح لان الدین فی الترکۃ وان قل یمنع جواز التصرف فان طلبوا الجواز فطریق ذٰلك ان یضمن الوارث دین المیت یشترط ان لایرجع فی الترکۃ او یضمن اجنبی بشرط براءۃ المیت او یؤدوا دین المیت من مال اٰخر ثم یصالحوھا |
بیویوں کا مہر نہ ہو،اگراس کے ذمہ مہر باقی ہو تو اب ترکہ میں سے یہ دین ادا کرنے کے بعد عبدالله کا ترکہ میں حصہ ایك سو درہم سے کم ہوجائے تو بھی ترکہ کا دین میں مشغول ہونا صلح کی صحت سے مانع ہے الا یہ کہ قرض ودین کو منہا کرنے کے بعد مابقی پر صلح ہو تو جائز ہوگی۔فتاوٰی شامیہ میں بزازیہ سے شمس الاسلام کے حوالے سے ہے کہ کسی وارث کو صلح کے طورپر وارثت سے خارج کرنا صحیح نہیں جبکہ میت پر کوئی دین ہو یعنی قرضخواہ کا مطالبہ ہو کیونکہ شرعی حکم یہ ہے کہ میت پر دین تمام ورثاء کے ذمہ ہوتاہے اھ،حالانکہ میں نے ان کے قول کہ"قرض خواہ طالب ہو"کا معنی ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں واضح کردیا تھا۔پھر میں نے بعینہٖ اس کی تصریح ہندیہ میں ظہیریہ کے حوالہ سے دیکھی جس کی عبارت یہ ہے اگر میت پر قرض ہو اور بیوی سے کسی چیز کے بدلے اس کے مہر کی رقم پر صلح کرلی گئی ہو یہ صلح جائز نہ ہوگی کیونکی ترکہ پر قرض کم بھی ہو تو وہ تصرف کے جواز سے مانع ہے اور ورثاء جواز کے طالب ہوں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی وارث میت کے قرض کا ضامن بن جائے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس ضمان میں ترکہ سے کچھ نہ لے گا،یا کوئی اجنبی شخص اس شرط پر ضامن ہوجائے کہ ضمان سے میت بَری ہے یا ورثاء میت کا دَین اپنے کسی اور مال |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع