30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۲: ۲ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان بکر کے ہاتھ بیع کیا اور قبضہ مبیعہ پر مشتری کا کرادیا اور بیعنامہ تصدیق ورجسٹری کرادیا،بیعنامہ میں مبیعہ کی حد غربی میں زید نے دیوار عمرو تسلیم کی بعد بیع وقبضہ بکر مشتری نے جب عمرو کی دیوار مذکور میں تصرفات ناجائز شروع کئے اور عمرو مانع آیا تب بکر نے زید بائع سے ایك اقرار نامہ بطور تصحیح نامہ اس مضمون سے لکھا یا کہ(بیع کے وقت دیوار غربی کا مشترك ہونا تحریر سے رہ گیا تھا دیورا مذکورمکان مبیعہ ومکان عمرو میں مشترك ہے)سوال یہ ہے کہ بیعنامہ میں عمرو کی دیوار لکھنے سے اقرار نسبت وملکیت عمرو کی ثابت ہوتاہے یانہیں اور بیعنامہ مذکور شرعا عاقدین پر حجت ہے یانہیں اور اقرار نامہ مابعد جو بطور تصحیح نامہ کے مرتب ہوا ہے اس سے کل دیوار مذکور کی بابت عمرو کا زوال ملکیت لازم آتاہے یانہیں اور شرعا یہ انکار بعد الاقرار ہے یانہیں؟
الجواب:
تحریر بیعنامہ عاقدیم پر حجت ہے اور اس سے پھر نے کا ان کو کچھ اختیار نہیں جس سے وہ شخص ثالث کوضرر پہنچا سکیں،قاعدہ شرعیہ ہے:
|
المرء مواخذ باقرارہ ولا عذر لمن اقر [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اقرار کرنے والا شخص اپنے اقرار میں ماخوذہوگا اور اقرار کرنے والے کو عذر کا حق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۳: از شہر بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ احمد حسین صاحب ۵اشوال ۱۳۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ نے ایك قطعہ جائداد خریدی اور مسماۃ کے چار بیٹے تھے کچھ دنون کے بعد وہ مسماۃ انتقال کرگئیں اور ان چاروں بھائیوں میں آپس میں مقدمہ داری ہوئی اسی جائداد پر جو کہ مسماۃ نے خریدی تھی،اس میں کسی وجہ سے ایك بھائی نے کچہری کے روبرو بیان کیا کہ میں اس جائداد میں حقدار نہیں ہوں میرا حق نہیں ہے،تو شرعا یہ بیان اس کا لغو ہے یا جائز ہے وہ حقدار اس جائداد میں ہے یانہیں؟
الجواب:
وہ اس میں حقدار نہ مانا جاتا لا عذر لمن اقر [2](جس نے اقرار کیا اس کا کوئی عذرمقبول نہیں۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع