30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امور ذیل کا مطلوب ہے:
(۱)انکارملکیت کسی شخص کا بعد اقرار ملکیت شخص مذکور کے شرعًا جائز ہے یانہیں؟
(۲)بیعنامہ عاقدین پر شرعا حجت ہوتاہے یانہیں؟
(۳)محمد علی خاں کو شرعا یہ حق حاصل ہے یانہیں کہ اس بیعنامہ کو جس میں وہ خود ہی مشتری ہے اور اقرار نامہ تقسیم کو جو بحق ہر سہ مشتریان وہ تحریر وتکمیل وتصدیق کراچکا ہے باطل وناجائز قرار دے کر ہر سہ مشتریان دیگر کی ملکیت ڈیڑھ ڈیڑھ سہام سے بعد اقرار کے انکار کرسکے۔
الجواب:
مدت ہوئی کہ یہ سوال آیا تھا اور سائلوں سے دریافت کیا گیاتھا کہ جو فیاض الرحمن نے احمد علی خان کے نام بیع کیا آیا اس کا کوئی مقدمہ دار القضاء تك پہنچا اور بحکم قاضی وہ سہام ملك فیاض الرحمن قرار پاکر ملك احمد علی خاں ٹھہری یا یونہی خانگی طور پر محمد علی خاں نے اس بیع کو مان لیا مگر اس کا کوئی جواب نہ ملا،اب ملاحظہ تجویز سے ظاہر یہی ہوتاہے کہ استحقاق احمد علی خاں بذریعہ قضا ثابت نہ کیا گیا کہ محمد علی خاں شرعا مکذب ہوجاتا بلکہ اس نے بطور خود اپنے نفع کے لئے استحقاق تسلیم کرلیا اگر ایسا ہے تو تجویز کہ ذی علم مفتی صاحب نے دی بالکل حق وبجا ہے محمد علی خاں کو اپنے اقرار سے پھرنے کا کوئی اخیتار نہیں۔
|
لاعذر لمن اقر [1] من سعی فی نقض ماتم من جہتہ فسعیہ مردود علیہ [2]۔ |
جس نے اقرار کیااس کا کوئی عذر قبول نہیں،جو شخص اپنی طرف سے تام کئے ہوئے معاملہ کو توڑنے کی سعی کرے تو اس کی یہ سعی مردود ہوگی۔(ت) |
اشباہ میں ہے:
|
اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطألم تقبل [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
جب کسی چیز کا اقرار کرے پھر اس اقرار کو خطا قرار دے تو خطا قرار دینا قبول نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع