30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۹ و ۱۰: از بریلی شہر کہنہ مسئولہ صفدر علی ومبارك علی خاں ربیع الآخر ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)زید نے ۱۶ اپریل ۱۸۱۸ میں ایك ہبہ نامہ بحق اپنے بیٹے عمرو کے کیا اور دستاویز میں یہ اقرار کیا کہ وہ مالك ومختار جائداد ہے ہبہ پورا موہوب لہ کو کر دیا اورقابض ودخیل کرکے دخل اپنا مطلقا اٹھالیا،لہذا اقرار یہ ہے کہ بعد تحریر ہبہ ھذا کے کچھ حق میرا یا قائم مقامان میرے کا اس جائداد موہوبہ میں جزءً وکلًا باقی نہیں رہا بعدہ ۲۱ جون ۱۹۱۲ء میں بعد انتقال عمرو پسر مذکور زیدواہب نے دوسرا ہبہ نامہ اس ایك جز وجائداد موہوبہ کا اپنی مان کر اورہبہ نامہ مذکور کو فرضی ٹھہرا کر بنام اپنے نبیرہ گان پسران متوفی کے کیا اس میں اقرار اول سے رجوع کیا کہ اس جزوجائداد کامیں مالك وقابض ہوں اور ہبہ نامہ اگر چہ بنام عمرو متوفی تحریرکا تھا مگر قبضہ نہں دیا اس لئے وہ انتقال شرعا باطل وکالعدم ہے،آیا یہ رجوع زید صحیح ہے یا نہیں؟
(۲)دوسرے ۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو عمرو نے ایك بیعنامہ چند مواضع کا بنام اپنے والد زید کے کیا جس کے متعلق ۱۱ جنوری ۱۹۰۸ء کو زید نے ایك اقرار نامہ بایں الفاظ تحریر کیا کہ بیعنامہ مذکور محض فرضی تھا اور س کے ذریعے سے کوئی انتقال ملکیت بحق میرے وقوع میں نہیں آیا اور کل جائداد مندرجہ بیعنامہ مذکور کا مالك وقابض واقعی میرا لڑکا عمرو ہے مجھے کوئی دعوی ملکیت نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگا پھر بعد وفات عمرو زید نے ایك ہبہ نامہ اپنے نبیرہ گان کے بوجہ مساوی بالاشتراك کیاا ور اس میں بیعنامہ عمرو مورخہ ۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو اصلی واقعی مانا ہے لہذا اس صورت میں بیعنامہ عمرو فرضی متصورہوگا یا واقعی وہ جائداد ورثائے عمرو کی ملك ٹھہرے گی یا ورثائے زید متوفی کی،اور یہ ہبہ زید کا مشاع ہونے کے بعث باطل ہوگا یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
شریعت مطہر ہ کا قاعدہ ہےکہ کوئی مقر اقرار کرکے اپنے اقرار سے پھر نہیں سکتا نہ اس کے خلاف اسکی بات تسلیم ہوسکے۔ہدایہ و اشباہ ودرمختاروغیرہا عامہ اسفار میں ہے لاعذر لمن اقر [1](اقرار کرنے والے کو عذر کا حق نہیں۔ت)دستاویز اول میں جبکہ صاف اقرار کیا کہ میں نے موہوب لہ کو قابض ودخیل کرکے اپنا دخل مطلقا اٹھالیا تو اب بعد موت موہوب لہ یہ کہنا کہ میں نے قبضہ نہیں دیا تھا محض باطل ونامسموع ہے اور پہلی دستاویز ہبہ تام ونافذ وناقابل رجوع ہے۔ درمختارمیں موانع رجوع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع