30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی صحتہ ان المبلغ المکتتب باسمہ بذمۃ فلان بموجب صك لفلانۃ واسمہ فی صك الدین عاریۃ فہل یکون اقرارہ المذکور صحیحا الجواب نعم [1](ملخصا) |
میں فرمایا)ہاں عمل ہوگا ان سے سوال ہواکہ ایك شخص نے اپنی تندرستی میں اقرار کیا کہ میرے نام کی لکھی ہوئی رسید کہ اتنی رقم فلاں کے ذمہ ہے وہ رقم فلاں عورت کی ہے میرانام رسید میں عاریۃ ہے تو کیا اس کا مذکور اقرا رصحیح ہوگا؟ الجواب، ہاں صحیح ہے۔(ملخصا)(ت) |
شوہر جانتا ہے کہ واقع میں بھی یہ اقرار زن سچاہے فی الحقیقۃ اس کانام فرضی تھا جب تو عنداﷲ بھی وہ اس جائداد کا مالك ہے اور ورثہ زن کا دعوٰی باطل،اور اگر اسے معلوم ہے کہ فی الواقع عورت ہی اس جائداد کی مابلکہ تھی یہ اقرار اس نے غلط لکھ دیا اگرچہ اپنی صحت ونفاذ تصرف کی حالت میں برضا ورغبت ہی لکھا تو عنداﷲ اس کے لئے اپنے حصہ سے زیادہ حلال نہیں اس پر فرض ہے کہ وارثان شرعی کا حصہ نہ روکے مگر بحالت اقرار مذکور قاضی وحاکم دعوٰی وارثان کو اصلا نہ سنے گا واقع کا علم اﷲ عزوجل کو ہے۔ خانیہ و خلاصہ وبزازیہ وانقرویہ وہندیہ وغیرہا عامہ کتب میں ہے:
|
اقر فی صحتہ وکمال عقلہ ان جمیع ماھوا داخل منزلہ لامرأتہ غیر ماعلیہ من الثیاب ثم مات الرجل و ترك ابنا فادعی الا بن ان ذٰلك ترکۃ ابیہ قال ابو القاسم الصفار ان علمت المرأۃ ان جمیع ما اقرابہ الزوج کان لہا ببیع اوھبۃ کان لہا ان تمنع عن الا بن بحکم اقرار الزوج وان علمت انہ لم یکن بینہما بیع ولاہبۃ لا یصیر ملکا لہا بھٰذا الاقرار [2]۔ |
ایك شخص نے اپنی تندرستی اور کامل عقل میں اقرار کیا کہ میرے لباس کے ماسوامیرے گھرمیں موجود تمام سامان میری بیوی کی ملکیت ہے پھرا قرار کے بعد فوت ہوگیا اور اپنا ایك بیٹا چھوڑا جس نے دعوٰی کیاکہ گھرکاسامان میرے میرے والد کا ترکہ ہے اس پر ابوالقاسم صفار نے فرمایا کہ اگر بیوی اس یقین کا اظہار کرے کہ گھر کا تمام سامان بیع یاہبہ کے طور میری ملکیت ہے تو بیوی کو حق ہوگاکہ خاوند کے اقرار کی بنا پر اس سامان کو بیٹے سے روك لے اور اگر وہ مذکورہ یقین کا اظہار نہ کرپائے تو پھر وہ خاوند کے مذکورہ اقرار کی بناء پر بیوی کی ملکیت نہ بنے گا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع