30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منظور ہےکہ میرے شوہر نے جو زمینداری اس شہرکی اپنے روپیہ سے خرید کر بیعنامہ اس کا میرے نام اسم فرضی کرایا ہے میں اقرار کرتی ہوں اورلکھے دیتی ہوں کہ وہ زمینداری میرے شوہر کی ہے۔میرا شوہر اس زمیندزری کا اصلی مالك ہے لہذا بدرستی جمیع حواس خمسہ برضاو رغبت خود اپنی جانب سے فلاں مختار کو مختار خاص اپنا قرار دے کر اقرار کرتی ہوں کہ مختار خاص میرا میری جانب سے اقرار نامہ مضمون مندرجہ بالا کی تصدیق کرادے اور جملہ ساختہ وپرداختہ مختار مذکورکا مثل کردہ ذات خود قبول ومنظورہے۔پس بعد تصدیق ہونے مختار نامہ کے مختار نے دوسرے شہر میں جاکر اقرار نامہ تصدیق کرادیا اور مضمون اس اقرار نامہ کا مسماۃ کودکھلادیا اور پڑھ کر سنادیا تھا۔مسماۃ نے سن کر ثبت مہر کی اجازت دی تھی اور مسماۃ علیل نہیں تھی صحیح وسالم تھی بلکہ بہ سواری ڈولی محکمہ رجسٹری میں خود جاکر بزبان خود رجسٹر صدر سے مختار نامہ تصدیق کرایا تھا تکمیل ہونے مختار نامہ مذکور کے ایك روز بعد اولاد پیدا ہوئی تھی اور اولاد کے پیدا ہونے سے ایك ہفتہ بعد اولاد کے پیدا ہونے کی وجہ سے انتقال کیا کیونکہ بہت دشواری سے اولاد ہوئی تھی ہرگاہ بعد فوت مسماۃ مذکورہ وارثان مسماۃ دعوٰی باوجود ہونے دستاویز مصدقہ کے بوراثت حقیت مذکورہ بالا کا کرتے ہیں۔اس صورت میں وہ کلمات کہ جو اقرار نامہ میں اسم فرضی کے ساتھ ملکیت شوہر اپنے کی ازروئے عدالت تصدیق کرچکی ہے نسبت نہ ہونے دعوٰی کے تحریر ہیں واسطے بری ہونے شوہر مسماۃ کے دعوٰی وراثت سے کافی ہوں گے یا نہ ہوں گے۔عنداﷲ وعندالرسول نظر غور فرماکر عاجز مسکین امیرا حمد پر بروایت صحیح جواب باصواب تحریر فرمائیں کہ موجب ثواب اجر عظیم کا ہوگا۔بینو اتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جبکہ ثبوت شرعی سے ثابت ہوکہ عورت نے یہ اقرار اپنی صحت میں کیا تو اب شرعا کوئی دعوی وراثت وارثان زن کا جائداد میں مسموع نہیں ہوسکتا اگرچہ تصدیق اقرار نامہ مختار نے دوسرے شہر میں بحالت مرض الموت زن کی ہو کہ شرعا ملك شوہر ثابت ماننے کے لئے یہی لفظ کافی ووافی تھے جوعورت نے بحالت صحت اس مختارنامہ میں لکھے۔عقود دریہ میں ہے:
|
سئل فیما اذا اقرفی صحتہ لدی بینۃ شرعیۃ انہ اشتری المبیع لاختہ والثمن من مالہا واسمہ فی الصك عاریۃ وصدقتہ اختہ علی ذٰلك فہل یعمل باقرارہ المزبور،الجواب نعم،سئل فی رجل اقر |
ان سے سوال ہوا کہ جب کوئی شخص اپنی تندرستی میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں یہ اقرار کرے کہ فلاں چیز میں نے اپنی بہن کے لئے اسی کی رقم سے خریدی ہے جبکہ رسید میں میرا نام عاریۃ ہے اور اس کی بہن نے اس بات کی تصدیق کردی ہو تو کیا اس کے مذکورہ اقرار پر عمل کیا جائے گا(تو انہوں نے جواب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع