30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سہوًا میرے ہاتھ چلی آئی ہے،اب حسینی بیگم کا مکہ شریف میں انتقال ہوگیا لہذا زروئے شرع شریف کے جگنو اور زنجیر کا کیا کا جائے گا اور یہ بھی کہا تھا کہ میرے وارث کو مت دینا۔بینوا توجروا۔
الجواب:
یہاں دو چیزیں ہیں،زنجیر کا نواسی کے لئے اقرار اور جگنو کی نسبت کی خیرات کی وصیت سائل مظہر کی حسینی بیگم کی تین نواسیاں ہیں ان سے کہا گیا تو سب نے انکار کیا کہ وہ زنجیر ہماری نہیں پس صورت مستفسرہ میں اگرچہ بربنائے قول اصح کہ مقرلہ کی جہالت غیر فاحشہ مانع صحت اقرار نہیں کیا۔نص علیہ فی الھندیۃ من التبیین(ہندیہ میں تبیین الحقائق کے حوالے سے اس پر تصریح فرمائی گئی ہے۔ت)اقرار مذکورہ صحیح واقع ہوا مگر جبکہ نواسیوں نے انکار کردیا رد ہوگیا۔یہاں تك کہ اب نواسیاں تصدیق بھی کردیں تاہم معتبر نہ ہوگی۔
|
فی الدرالمختار المقرلہ اذا کذب المقر بطل اقرارہ لما تقررانہ یرتد بالرد الافی ست [1] الخ وفیہ لورد المقرلہ اقرارہ ثم قبل لایصح [2] الخ۔ |
درمختارمیں ہے کہ مقرلہ جب مقرکو جھوٹا قرار دے تو مقر کا اقرار باطل قرار پاتاہے کیونکہ ثابت شدہ امر ہے کہ مقر کا اقرار مقرلہ کے رد کرنے سے رد ہوجاتاہے ماسوائے چھ امور کے الخ،اورا س میں یہ بھی ہے کہ جب مقرلہ اقرار کو رد کرکے پھر بعدمیں اسے صحیح قرار دے تو یہ تصحیح جائز نہیں۔ الخ(ت) |
پس وہ زنجیر تو بشرائط فرائض وارث حسینی بیگم کوملے گی۔رہا جگنو،اگر حسینی بیگم پر کوئی دین نہیں تویہ کل متروکہ کی تہائی،اور دین ہے تو بعد ادائے دین جس قدر بچے اس کی تہائی سے زائد نہیں یا زائد ہے اور ورثہ وصیت جائز رکھتے ہیں جب توکل جگنو تصدق کردیا جائے ورنہ اس کا اس قدر حصہ جو ثلث مال باقی بعد ادائے دین کے قدرہو تصدق کریں باقی وارث کودیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷: از ریاست رامپور مرسلہ امیر احمد صاحب ۱۱محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس معاملہ میں کہ ایك مسماۃ نے ایك مختار نامہ اس مضمون کا ایك شہر میں تصدیق کرایا کہ میں دوسرے شہر کو بوجہ پورے ہونے ایام حمل کے نہیں جاسکتی ہوں اور اس دوسرے شہر میں مجھ کو ایك اقرار نامہ اس مضمون کا تصدیق کرانا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع