30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پس روشن ہوگیا کہ قبضہ زوجہ محض بے جاہ وبے معنی ہے،
|
وھھنا فتوی للاخصب ماانا بغافل عنہا ولا ناس لہا لکنہا محمولۃ عندی علی اموال خفیۃ یظفر بہا الدائن الاٰئس من الوصول الی حقہ دون الظاھرۃ و الاسترسال فی تحقیقہ یطول فلتضرب عنہا الذکر صفحا اقتداء بجمیع ائمتنا الاقدمین وجماھیر الاجلۃ المتأخرین حیث لا تیر لہا فی کلامہم عینا ولا اثرا ولا ذکرا ولا خبرا کیف وقد وقعت مخالفۃ للمذہب المجمع علیہ بین ائمتنا ومضادۃ لما اطبقت علیہ المتون قاطبۃ مع الشروح والفتاوی من کتب مذھبنا نعم لاباس بالمصیر الیہاعندی الضرورۃ دفعا للحرج وذٰلك انما یکون عندا الیأس مع القدرۃ علی الاستیفاء بالاخذ وقلما یجتمعان الا فی مال خفی کما لایخفی علی ذی فہم ذکی،واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدۃ اتم واحکم۔ |
یہاں الاخصب کا فتوٰی ہے جس سے میں غافل نہیں اور بھولا بھی نہیں لیکن میرے نزدیك اس فتوٰی کا محمل وہ مخفی اموال ہیں جن پر وصولی سے مایوس قرضخواہ قابو پالے نہ کہ اموال ظاہرہ اس کی واضح تحقیق طویل ہے اس لئے متقدمین تمام ائمہ اور جلیل القدر جمہور متاخرین کی اقتداء میں اس سے پہلو تہی مناسب کیونکہ آپ ان کے کلام میں اس کا ذکر،حکایت اور خبر تك نہ پائیں گے،اور ہو بھی کیسے جبکہ یہ بات ہمارے ائمہ کے متفق علیہ مذھب کے مخالف اور تمام متون بمع شروح وفتاوٰی ہمارے مذھب کی کتب سے متضادہے،ہاں دفع حرج کے لئے ضرورت کے وقت اس کو اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ اس وقت جب وصولی سے مایوسی ہو اوراپنے حق کو حاصل کرنے پر قدرت بھی ہو،اور یہ دونوں باتیں اموال خفیہ کے بغیر بہت کم مجمتمع ہوتی ہیں جیسا کہ ذکی فہم والے پرمخفی نہیں۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت) |
مسئلہ ۶: ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حسینی بیگم بریلوی نے بارادہ حج بیت اﷲ شریف کو جاتے وقت بیس روپیہ اور ایك جگنو طلائی اور ایك زنجیر نقرئی بمبئی میں پاس جمیل النساء کے بایں شرط بطور امانت چھوڑی کہ جس وقت جو شے میں طلب کروں تم بھیج دینا۔اور درصورت میرے مرجانے کے وہ بیت اﷲ شریف میں خیرات کردینا۔اس کے بعد مکہ معظمہ پہنچ کر بیس روپے حسینی بیگم نے جمیل النساء سے منگوالئے اور جگنو اور زنجیر جمیل النساء کے پاس امانت رہا،اور زنجیر کی نسبت کہا تھا کہ یہ میری ایك نواسی کی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع