30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیما اذا کانت المرأۃ وصیۃ حیث افاد واجاد رحمہ الجواد میت اوصی الی امرأتہ وترك مالا وللمرأۃ علیہ مہر ھا ان ترك المیت صامتا عــــــہ مثل مہرہ اکان لہا ان تبیع ماکان اصلح للبیع وتستوفی صداقہا من الثمن [1] اھ(ملخصا)۔ |
کہ ایك میت نے اپنی بیوی کو وصیت کی اور مال ترکہ چھوڑا جبکہ خود اس بیوی کا میت کے مال میں مہر باقی ہو تو اگر میت نے ترکہ میں صامت مال یعنی نقد وسامان چھوڑا جو مہر کی مثل ہو توبیوی کو(وصی ہونے کی حیثیت سے)اختیار ہوگا کہ وہ مناسب مال کو فروخت کرے اور اپنا حق مہر اس سامان کے ثمن سے پورا کرلے اھ(ملخصا)(ت) |
اور زید کا کہنا"میں اپنی زوجہ کو اختیار دیتاہوں کہ دین مہر اپنامیری جائداد منقولہ وغیر منقولہ سے وصول کرلے"ہر گز اس معنٰی میں نص نہ تھا جو زوجہ نے خواہی نخواہی قرار دے لئے،کہاں جائداد سے وصول کرنا ور کہاں عین جائداد اپنے دین میں لینا آخر علماء یہی عامہ کتب میں فرماتے ہیں کہ ترکہ سے پہلے میت کے دیون ادا کئے جائیں پھر ثلث مابقی سے وصایا،کیا اس کے یہ معنی کہ عین جائداد متروکہ دائنین وموصٰی لہم کو دے دی جائے جو معنی ادا کے کلام علماء میں ہیں بعینہٖ وہی معنی وصول کرلینے کے کلام زید میں،مع ھذا عین بعوض دین دینا نہیں مگر بیع لکونہ مبادلۃ مال بمال(مال کامال سے تبادلہ ہونے کی وجہ سے۔ (ت)او رمرض نہ بالفعل وارث کے ہاتھ بیع کرسکتاہے جب تك باقی ورثہ اجازت نہ دیں۔جامع الفصولین میں ہے:
|
اعطاھا بیتا عوض مہر مثلہا لم یجز اذا البیع من الوارث لم یجز فی المرض ولم بثمن المثل [2](الا اذا اجاز وارثہ) |
خاوند نے مرض موت میں بیوی کو مہر کے عوض مکان دیا تو جائز نہیں کیونکہ مرض موت میں کسی وارث کو بیع کردینا جائز ہے اگر چہ وہ بیع مساوی ثمن کے عوض ہو،ہاں اگر باقی ورثاء جائز کردیں تو جائز ہوجائے گی۔(ت) |
|
عــــــہ:الصامت من المال الذھب والفضۃ والناطق ھو الحیوان(منجد)۔ |
صامت مال سے مرادہونا چاندی اور ناطق سے مراد حیوانات ہیں (المنجد)(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع