30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاتری انہ رحمہ اﷲ تعالٰی خص اخذ العین بما اذا کانت الترکۃ دراھم اودنانیر وفی غیرہ انما اجازا لاستیفاء بالبیع لااخذ العین فی الدین ونص انہ لابدفیہ من البیع حیث قال وان کانت شیئا مما یحتاج الی البیع [1] الخ۔فمعنی قولہ وتأخذ الثانی تأخذ المہر من الثمن وان لم یرض الورثۃ بل اظن وارجو ان اکون فی ظنی صادقا ان"لا"سقطت من تاخذ الثانی من قلم الناسخ وانما العبارۃ"ولاتاخذ من غیر رضا الورثۃ"اذبہ یحسن المقابلۃ بین ھذا وبین ماقدم من قولہ"تاخذ من غیر رضا الورثۃ ان کانت دراھم او دنانیر"فالمعنی تبیع وتستوفی قہرا علیہم ولا تاخذ العین الابرضا ھم فلتراجع نسخ الخلاصۃ فان النسخۃ التی عندی قد تقطعت اوراقہا من ھذا المقام ومن المحال ان |
آپ دیکھ رہے ہیں کہ صاحب خلاصہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے تخصیص کی ہے کہ اگر ترکہ دراہم ودنیار ہیں تو عین ترکہ کولیناجائز ہے۔اور اگر ترکہ دراہم ودنانیر کا غیر ہو تو انہوں نے فروخت کرکے حق کی وصولی کو جائز کہاہے نہ کہ اس عین سامان ترکہ کو فروخت کرنے کی ضرورت پرنص فرمائی ہے جہاں انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسی چیز ہو جس کو فروخت کرنے کی ضرورت ہے الخ اور عبارت میں دوسرے"تاخذ"کا معنی یہ ہے کہ بیوی اس چیز کے ثمن سے مہر وصول کرے اگر چہ ورثاء کی رضانہ ہو بلکہ میرا ظن ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اس ظن میں صادق ہوں،وہ یہ کہ یہاں"تاخذ"سے قبل"لا"نقل کرنے والے کے قلم سے ساقط ہوگیا ہے جبکہ اصل عبارت یوں تھی:ولاتاخذ من غیر رضا الورثۃ،یعنی ورثاء کی رضا کے بغیر نہ لے۔کیونکہ یوں اس عبارت کا پہلی عبارت سے مقابلہ درست ہوجاتاہے پہلی عبارت کہ اگر ترکہ دراہم ودینار ہو تو ورثاء کی رضا کے بغیر وصول کرلے تو اب دوسری عبارت کا معنی یہ ہوا کہ سامان کو فروخت کرے اور حق کو اس کے ثمن سے جبرا وصول کرے اور عین سامان کو ان کی مرضی کے بغیر نہ لے۔آپ خلاصہ کے مختلف نسخوں کی طرف مراجعت کریں میرے پاس جو نسخہ ہے اس مقام کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع