30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ ۟ "[1] |
یہ کہ رضا مندی پر مبنی تجارت ہو۔(ت) |
ہدایہ میں بیع مال مدیون بے رضائے مدیون کی نسبت فرمایا:
|
انہ تجارۃ لاعن تراض فیکون باطلا بالنص [2]۔ |
کہ یہ رضامندی کے بغیر تجارت ہے تواس کا باطل ہونا نص سے ثابت ہے۔(ت) |
اسی لئے ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دائن مال مدین عــــــہ سے خلاف جنس دین بے رضائے مدیون،دین میں نہیں لے سکتا،ہدایہ میں ہے:
|
ان کان دینہ دراہم ولہ عروض لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ جبرا[3] اھ ملتقطا۔ |
اگر اس پر دراہم قرض ہیں جبکہ اس کے اس موجود صرف سامان ہے تو قرض خواہ کو وہ سامان جبرا حاصل کرنا جائز نہیں اھ ملتقطا(ت) |
اور عبارت وصایائے خلاصہ:
|
المرأۃ تاخذ مہرہا من الترکۃ من غیر رضا الورثۃ ان کانت الترکۃ دراھم او دنانیر وان کانت شیأا مما یحتاج الی البیع تبیع ماکان اصلح ویستوفیہ صداقتہا سواء کانت الوصیۃ من جہۃ زوجہا اولم تکن وتاخذ من غیر رضا الورثۃ [4]۔ |
اگر ترکہ میں دراہم یا دینار ہیں تو بیوی ترکہ سے اپنا مہر ورثاء کی رضامندی کے بغیر حاصل کرسکتی ہےاور اگر وہ ترکہ ایسا سامان ہے جس کی فروخت کرنے کی ضرورت ہے تو بیوی مناسب نقد پر فروخت کرے اور پنا مہر پورا کرلے خواہ خاوند کی طرف سے وصیت ہویا نہ ہو،اور بیوی ورثاء کی رضاء کے بغیر حاصل کرے۔(ت) |
کہ اس قبضہ کی تجویز جو مفید زوجہ خیال کی گئی ہرگز مفیدنہیں بلکہ صاف خلاف پر نص ہے۔
عــــــہ:فی الاصل ھکذا لعلہ مدیون۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع