30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الیہا[1] اھ ملخصا، |
دے دیا جائے گا اھ ملخصا(ت) |
تو اس قدر میں مریض کی تصدیق اس کے اقرار سے کسی امر غیر ثابت کا ثابت کرنا نہیں بناء براں واجب القبول ہوا۔فتاوٰی امام خیرالدین رملی میں ہے:
|
سأل فیما اذا اقربحضرۃ بینۃ شرعیۃ فی مرضہ بان فی ذمتہ لزوجتہ خمسۃ وعشرین دینارا ذھبا مہرا مؤجلا و صدقتہ فیہ وصدق علی ذٰلك بعد موتہ بعض ورثتہ وکذب البعض فہل الاقرار المذکور صحیح ام لا(اجاب)الاقرار بالمہرصحیح صحیح حیث کانت ممن یؤجل لہا مثل المقربہ کما صرح بہ فی جامع الفصولین وغیرہ معللا بقولہ اذ یقبل قولہا الی تمام مہر مثلہا بلااقرار الزوج [2]اھ بتلخیص۔ |
ان سے سوال ہوا اس صورت کے متعلق کہ جب کوئی شخص اپنی مرض موت میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں یہ اقرار کرے کہ اس کی بیوی کا اس کے ذمہ پچیس دینار سونامہر مؤجل ہے اور بیوی اس اقرار کی تصدیق کرتی ہے اور اس کی موت کے بعد اس کے بعض ورثاء بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ بعض ورثاء اس کو جھوٹ قرار دیتے ہیں توکیا مذکورہ اقرار صحیح ہوگا یانہیں،تو امام خیر الدین رملی نے جواب دیاکہ وہ عورت ایسی ہوکہ اس کےلئے اقرار میں بیان کردہ مہرکی مقدار مؤجل ہوتی ہے۔تومہر کا یہ اقرار صحیح ہے جیسا کہ جامع الفصولین وغیرہ میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ علت بیان فرمائی کہ خاوند کے اقرار کے بغیر بھی مہر مثل کی حدتك عورت کا قول قبول کیا جائے گا اھ ملخصا(ت) |
پس اگر پچاس ہزار روپے عورت کے مہر مثل سے زائد نہیں تو اس پوری مقدارمیں مریض کا اقرار مقبول ہوگا اور زائد ہیں تو صرف مقدارمہر مثل تك معتبراور قدر زائد میں تصدیق ورثہ یا اقامت بینہ عادلہ شرعیہ کی حاجت ہوگی۔
|
فان البینۃ کاسمہا مبینۃ والثابت بالشہادۃ کالثابت بالمشاھدۃ۔ |
کیونکہ بینہ اپنے عنوان کے مطابق واضح کرنےوالا ہے اور شہادت کے ساتھ ثابت شدہ چیزگویا وہ مشاہدہ سے ثابت ہے۔ (ت) |
خیریہ کے فتوٰی مذکورہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع