30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۵: از گورکھپور محلہ گھوسی پورہ مرسلہ مولوی حکیم محمد عبداﷲ صاحب ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مرض موت میں بحضور ایك جماعت معز زین زوجہ کے مہر کا اقرارکیا اور کہا کہ میرے ذمہ پچاس ہزار روپیہ دین مہر میری زوجہ کا واجب الادا ہے وہ اب تك مجھ سے ادا نہیں ہوا اب ادا ہونا اس کا ضروری ہے،لہذا میں اپنی زوجہ کو اختیار دیتاہوں کہ وہ دین مہر اپنا میری جائداد منقولہ وغیر منقولہ سے وصول کرلے،بعدہ زوجہ نے بناء برہدایت شوہر اپنے کل جائداد شوہری پر قبضہ اپنا کرلیا،بعدہ ورثہ مقرباہم مختلف ہوئے،اکثر نے اقرار اپنے مورث کا تسلیم کیا۔اور بعض کا بیان ہے کہ دعوٰی اقرار غلط ہے اور مہر زوجہ کا اس قدرنہیں بندھا تھا۔اب استفسار یہ ہے کہ اقرارمورث جو کہ بشہادت معزز لوگوں کے ثابت ہے شرعا قابل اعتبارہے یانہیں،اورمقدار مہر مطابق اقرار مورث کے شرعا واجب الثبوت ہے یانہیں،اور قبضہ زوجہ مقر کا بعوض دین مہر اپنے جائداد شوہری پر شرعا قابل نفاذ ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
اصل یہ ہے کہ مرض موت میں وارث کے لئے اقرار بے تصدیق دیگر ورثہ معتبرنہیں۔
|
کما نصواعلیہ قاطبۃ وعللوہ بان حقہم تعلق بمالہ ففی تخصیص البعض بہ ابطال حق الباقین۔ |
جیسا کہ اس پرسب نے نص فرمائی ہے اور انہوں نے اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ تمام ورثاء کا حق میت کے تمام ترکہ سے متعلق ہے تو ترکہ سے کچھ ورثاء کی تخصیص میں باقی ورثاء کے حق کو باطل کرناہے(ت) |
مگر جبکہ نکاح معروف ہو تو عورت کے لئے مہر مثل تك اقرار صحیح ومقبول ہے وجہ اس کی یہ کہ مہر مثل موجب اصلی نکاح ہے کما صرح فی الہدایۃ وغیرھا(جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں اس کی تصریح ہے۔ت)تو خود ثبوت نکاح اس کے اثبات میں کافی، فان الشیئ اذا ثبت ثبت باحکامہ(کیونکہ جب کوئی شے ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے احکام سمیت ثابت ہوتی ہے۔ت)ولہذا عورت کی بلابینہ اس مقدار تك تصدیق کی جاتی ہے۔
|
فی وصایا الخانیۃ رجل مات عن اولادہ الصغار وادعت المرأۃ مہرھا قالو ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الی مھر مثلہا یدفع ذٰلك |
خانیہ کے وصایا میں ہے ایك شخص فوت ہوا نابالغ اولاد چھوڑی او رعورت نے ترکہ پر اپنے مہر کا دعوٰی کیا تو فقہاء کرام نے فرمایا اگر عورت سے میت کا نکاح معروف ومعلوم ہے تو عورت کامہر مثل تك دعوٰی قبول کیا جائے گا اور اتنا مہر عورت کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع