30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درِّمختار میں روزہ توڑنے کے بارے میں ضابطہ ہے کہ:”والضابط وصول ما فیہ صلاح بدنہ لجوفہ۔“ یعنی روزہ ٹوٹنے کے لیے ضابطہ یہ ہے کہ جس چیز میں بدن کی صلاح ہواس کا روزہ دار کے پیٹ میں پہنچنا۔
ردّالمحتار میں نہر الفائق کے حوالے سے ہے:”والذی ذکرہ المحقّقون انّ معنی الفطر وصول ما فیہ صلاح البدن الی الجوف اعمّ من کونہ غذاء او دواء یقابل القول الاوّل، ھذا ھو المناسب فی تحقیق محلّ الخلاف۔“یعنی وہ جو کہ محققین نے بیان کیا ہے کہ روزہ ٹوٹنے کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز میں بدن کی صلاح ہو اس کا پیٹ میں پہنچ جانا یہ عام ہے چاہے وہ غذا ہو یا دواہو۔یہ قول پہلے قول کے مقابل ہے یہی قول محلِ خلاف کی تحقیق میں مناسب ہے۔ ([1])
درِّمختار میں روزہ نہ توڑنے والی چیزوں کے بیان میں ہے :”(او ادّھن او اکتحل اواحتجم) و ان وجد طعمہ فی حلقہ ۔“یعنی اگر روزہ دار نے سر میں تیل لگایا یا سرمہ لگایا یاپچھنے لگوائے اگرچہ تیل اور سرمہ کا ذائقہ اس نے حلق میں پایا ہویعنی اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔
”وان وجد طعمہ فی حلقہ“کے تحت ردّالمحتارمیں نہرالفائق کے حوالے سے ہے:”لأنّ الموجود فی حلقہ اثر داخل من المسام الذی ھو خلل البدن، والمفطر انّما ھو الداخل من المنافذ للاتّفاق علی انّ من اغتسل فی ماء فوجد بردہ فی باطنہ انّہ لا یفطر۔“ یعنی حلق میں جو ذائقہ پایا گیا ہے وہ مسام کے ذریعے داخل ہونے والا اثر ہے جو کہ خللِ بدن ہے اور روزہ کو توڑنے والی وہ چیز ہے جو منافذ کے ذریعے معدے تک پہنچے اس بات پر اتفاق ہونے کی وجہ سے کہ جس شخص نے پانی میں غسل کیا اور اس کی ٹھنڈک اپنے باطن میں محسوس کی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا۔([2])
وَاللہُ اَعْلَم عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ ٗ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
الجواب صحیح کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ابوالصالح محمد قاسم القادری المتخصص فی الفقہ الاسلامی
عبدہ المذنب محمد نوید چشتی عفی عنہ
06 رمضان المبارک1435ھ05جولائی 2014ء
ناک میں اسپرے کرنے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ پچھلے ماہِ رمضان میں میں نے بیماری کی حالت میں دورانِ روزہ ناک میں اسپرے کیا تھا تو کیا وہ روزہ ٹوٹ گیایانہیں اور اس بارے میں مجھ پر کیا حکم ہے کیا وہ روزہ دوبارہ رکھنا ہو گا؟ سائل:جابر خان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم
اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب
وہ روزہ ٹوٹ گیا آپ پر اس کی قضا یعنی اس روزہ کے بدلے میں ایک اور روزہ رکھنا لازم ہوگا ۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”ان استنشق فدخل الماء جوفہ ان کان ذاکراً لصومہ فسدصومہ وعلیہ القضاء“یعنی اگر کسی شخص نے ناک میں پانی چڑھا یا اور پانی جوف تک پہنچ گیا اور اسے اپنا روزہ دار ہو نا یاد بھی ہے تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا اور اس پر اس روزہ کی قضاء لازم ہو گی۔([3])
مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہارِ شر یعت میں فر ماتے ہیں :’’ ناک میں پانی چڑھایا اور دماغ کو چڑھ گیا روزہ جاتا رہا مگر جب کہ روزہ ہونا بھول گیا ہو تو نہ ٹوٹے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع