30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی دوسرے حصے میں کسی کام سے جا سکتی ہے یا نہیں ؟ سائلہ:سدرہ شاہین عطاریہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم
اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب
اسلامی بہن اعتکاف کیلئے مخصوص کی گئی جگہ سے حاجتِ شرعی وطبعی کے علاوہ نہیں نکل سکتی، اگر نکلے گی اگرچہ گھر ہی کے کسی دوسرے حصے کی طرف تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔خیال رہے کہ جس طرح مرد کا اعتکاف بلا عذرِ شرعی مسجد سے نکلنے سے ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح عورت بھی اگر بلا عذرِ شرعی اس مسجدِ بیت (گھر میں نماز پڑ ھنے کیلئے مخصوص کی گئی جگہ جہاں اعتکاف کیا جا تا ہے )سے نکلے گی تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
درمختار و ردالمحتار میں ہے:”(وحرم علیہ الخروج)ای: من معتَکفہ ولو مسجد البیت فی حقّ المرأ ۃ فلو خرجت منہ ولو الی بیتھا بطل اعتکافھا لو واجباً(الّا لحاجۃ الانسان) “یعنی معتکف کاحاجتِ انسانیہ کے علاوہ اپنی اعتکاف کی جگہ سے نکلنا حرام ہے اگر چہ وہ عورت کیلئے مسجدِ بیت ہو،اگر عورت اپنی مسجدِ بیت سے نکلے گی اگر چہ گھر کے دوسرے حصوں ہی کی طرف تو اس کااعتکاف باطل ہو جا ئے گا جبکہ وہ اعتکاف واجب ہو۔‘‘ ([1]) اسی طرح فتاوی عالمگیری میں ہے :’’اذا اعتکفت فی مسجد بیتھا فتلک البقعۃ فی حقّہا کمسجد الجماعۃ فی حقّ الرجل لاتخرج منہ الّا لحاجۃ الانسان.....ولا تخرج المرأۃ من مسجد بیتہا الی المنزل ھکذا فی محیط السرخسی“یعنی جب کو ئی عورت مسجدِ بیت میں اعتکاف کر لے تو وہ بُقْعۂ زمین اس عورت کے حق میں مرد کیلئے مسجدِ جماعت کی طرح ہے وہ اس سے حاجتِ انسانیہ کے علاوہ نہ نکلے گی.....اور عورت مسجدِ بیت سے گھر کے دوسرے حصوں کی طرف نہیں نکلے گی اسی طرح محیط سرخسی میں ہے۔ ([2])
وَاللہُ اَعْلَم عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ ٗ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ابو الصالح محمد قاسم القادری
26 ذوالحجۃ الحرام1432ھ23نومبر 2011ء
اعتکاف میں بیٹھنے کیلئے مانعِ حیض ادویات کا استعمال کرنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی لڑکی اعتکاف میں بیٹھنا چاہے اوراعتکاف کے آخری ایام میں اس کے حیض کے ایام ہوں توکیاوہ مانعِ حیض گولیاں استعمال کرکے اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے ؟سائلہ :ڈاکٹرفاطمہ (ڈیرہ غازیخان)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم
اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب
عورت کامانعِ حیض گولیوں کا استعمال چاہے اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے ہویا کسی اوروجہ سے دونوں صورتوں میں شرعی اعتبار سے جائز ہے ۔البتہ طبّی اعتبار سے اگر ان کے استعمال سے عورت کو نقصان ہوتا ہو تو پھر اس سے اجتناب کرنا ہوگا۔اوردورانِ اعتکاف حیض آنے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گاجس کی بعد میں قضاواجب ہے۔
واضح رہے کہ گولیوں کی وجہ سے حیض نہ آئے توحائضہ شمار نہ ہوگی حکمِ طہارت باقی رہے گا ،روزہ رکھ سکتی ہے اور اعتکاف بھی کرسکتی ہے۔
طحطاوی علی الدرمیں درِّ مختارکے اس قول”فیقضیہ“کے تحت ہے: ’’سواء فسد بصنعہ بغیر عذر کالخروج والجماع، والاکل والشرب فی النہار او فسد بصنعہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع