30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَسَلَّمَمجھ سے جسم مس کرتے تھےحالانکہ میں حائضہ ہوتی اور اپنا سر مبارک بحالتِ اعتکاف میری طرف نکال دیتے تومیں آپ کے سر کو دھو دیتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔ ([1])
اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ دورانِ اعتکاف غسل کے لئے مسجد سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں اس لئے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَصرف سر مبارک نکالتے تھے لہٰذا اگر معتکف اپنا سر دھونے کے لئے مسجد سے باہر نکال دے تو اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔
المبسوط میں ہے:’’(ولا بأس بأن یخرج رأسہ من المسجد إلی بعض أھلہ لیغسلہ) لما روی أنّ النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلم فی اعتکافہ کان یخرج رأسہ الی عائشۃ فکانت تغسلہ وترجلہ۔“([2])
اگر غسل خانہ فنائے مسجد میں ہے تو بغیرغسل واجب ہوئے گرمی وتروتازگی کے لئے مناسب طریقہ سے غسل کر سکتے ہیں۔صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’فنائے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریاتِ مسجد کے لیے ہے مثلاًجوتا اتارنے کی جگہ اور غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا.....فنائے مسجد اس معاملہ میں حکمِ مسجدمیں ہے ۔“([3])
اگر غسل خانہ مسجد سے باہر ہے تو گرمی و تروتازگی کے لئے غسل کرنے جانے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
وَاللہُ اَعْلَم عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ ٗ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
الجواب صحیح کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ابوالصالح محمد قاسم القادری المتخصص فی الفقہ الاسلامی
ابواحمد محمد انس رضاعطاری المدنی
21 شعبان المعظم1431ھ03اگست2010ء
عورت کا غسل کیلئے مسجدِ بیت سے نکلنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت دورانِاعتکاف شدید گرمی کے سبب جائے اعتکاف کے علاوہ باتھ روم میں غسل کرسکتی ہے؟
سائلہ: بنت ِ لیاقت (جمشید روڈ نمبر2، باب المدینہ کراچی (
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم
اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب
مرد اصلِ مسجد (یعنی وہ جگہ جو نماز پڑھنے کے لئے خاص کرکے وقف ہوتی ہے) سے متصل وقف جگہ جو ضرویات و مصالحِ مسجد کے لئے وقف ہوتی ہے جسے فنائے مسجد کہا جاتا ہے اس میں بنے ہوئے غسل خانہ میں دورانِ اعتکاف بغیر ضرورت کے بھی غسل کرسکتا ہے فنائے مسجد میں جانے سے اس کا اعتکاف نہیں ٹوٹتا جبکہ عورت گھر میں متعیّن کردہ جگہ میں اعتکاف کرتی ہے،جو”مسجدِ بیت“کہلاتی ہےاور مسجدِ بیت میں فناکا کوئی تصور نہیں ہوتا اس لئےعورت مسجدِ بیت سے باہر بلا ضرورت نہیں نکل سکتی، صورتِ مسئولہ میں عورت اگرفرض غسل کے علاوہ کسی غسل مثلاً گرمی کی وجہ سے ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے نکلے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع