دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa e Ahlesunnat Ahkam e Roza o Itikaf - Qist 9 | فتاوی اہلسنت احکام روزہ و اعتکاف

book_icon
فتاوی اہلسنت احکام روزہ و اعتکاف

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابومحمد  علی اصغر العطاری المدنی

09رمضان المبارک 1434ھ19جولائی 2013ء

فدیہ ادا کرنے کی اجازت کس شخص کو ہے؟

      کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص شوگر، بلڈ پریشر اور گرد ے کا مریض ہے روزہ نہیں رکھ سکتا اس کیلئے کیا حکم ہے ؟اسکے ایک روزے کا فدیہ کیا ہو گا اور پورے رمضان کے روزوں کے فدیہ کی کتنی رقم بنتی ہے ؟ سائل: منیر بخش (لائنز ایریا ، باب المدینہ کراچی )

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ  حِیْم

اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب  اَللّٰھُمَّ  ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب

      روزہ کی بجائے اس کا فدیہ ادا کرنے کا حکم شیخِ فانی کیلئے ہے، مریض کیلئے نہیں ۔ شیخِ فانی وہ شخص ہے کہ جو بڑھاپے کے سبب اتنا کمزور ہو چکا ہو کہ حقیقتاً روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو،نہ سردی میں نہ گرمی میں،نہ لگاتار نہ متفرق طور پر اور نہ ہی آئندہ زمانے میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو ۔

چنانچہ نقایہ میں ہے:”وشیخ فان عجز عن الصوم افطر“یعنی بوڑھا شخص جو کہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو وہ روزہ نہیں رکھے گا ۔

شرح نقایہ میں ہے:”(شیخ فانٍ) سُمّی بہ لقربہ الی الفناء او لانّہ فنیتْ قوّتہ“یعنی  شیخِ فانی کو فانی اس لئے کہتے ہیں کہ وہ فناء کے بہت قریب ہو تا ہے یا اس لئے کہ اس کی قوت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔([1])

کسی بیماری میں مبتلا ہونا بھی روزے چھوڑنے کا عذر نہیں بہت سے شوگر و گردے کے مرض والے بھی روزہ رکھتے ہیں ،ہاں البتہ مرض اتنا شدید ہے کہ روزہ رکھنا اس کیلئے ضرر کا باعث ہے توتاحصولِ صحت اسے روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے اور اس کے بدلے اگر مسکین کو کھانا دے تو مستحب ہےتاہم یہ کھانا اس کے روزے کا بدلہ نہیں ہوگا بلکہ صحت پر ان روزوں کی قضا لازم ہے ۔ ہاں البتہ اگر اسی مرض ہی کی حالت میں بڑھاپے کی عمر میں پہنچ گیا اوراس بڑھاپے کی وجہ سے فی الحال یا آئندہ روزہ رکھنے کی استطاعت نہ رہے تو ایسا شخص شیخِ فانی ہے،اب اس صورت میں قضا شدہ روزوں کا فدیہ ادا کرے اور ہر ایک روزہ کا فدیہ صدقۂ فطر کی مقدار کے برابر ہے اور ایک صدقۂ فطر کی مقدار تقریباً 1920 گرام (یعنی دو کلو میں اَسّی گرام کم) گندم، آٹا یااس کی رقم ہے ۔ اور اگر شیخِ فانی کی تعریف میں داخل نہ ہوا تو ورثاء کو قضاء شدہ روزوں کے بدلے میں فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرے ۔

      چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت مجدّدِ دین وملت فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:  ’’بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کیلئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو ،ایسا ہر گز نہیں ،فدیہ صرف شیخِ فانی کیلئے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو ،نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمرجتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اُس کیلئے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کو روزہ مضر ہو ،اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگرچہ تکلیف ہو ،بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازمِ روزہ ہے اور اسی حکمت کیلئے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے ،اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو تو مَعَاذَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  روزے کا حکم ہی بیکار و معطل ہو جائے ۔“([2])

          ایک اور جگہ فرماتے ہیں:”جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتے انہیں بھی کفارہ دینے کی اجازت نہیں بلکہ بیماری جانے کا انتظار کریں،اگر قبلِ شفا موت آجائے تو اس وقت کفارہ کی وصیت کر دیں،غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں



 [1] فتح باب العنایة بشرح النقایة، کتاب الصوم، فصل فيما یفسد الصوم وفيما لا یفسدہ، ۱/۵۸۲.

 [2] فتاوی رضویہ، باب الفدیۃ، ۱۰/۵۲۱.

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن