حضرتِ سیِّدُناابوسعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَروی ہے، سرکارِ دو عالم ، نورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم ، رسُولِ مُحْتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ معظم ہے: پانچ چیزیں جو ایک دِن میں کرے گااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُس کو جنتی لکھ دے گا {۱}جو مریض کی عیادت کو جائے {۲ } نَمازِ جنازہ میں حاضِر ہو {۳} روزہ رکھے{۴} (نمازِ) جُمُعہ کوجائے اور {۵} غلام آزاد کرے ۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حِبّان ج۴ص۱۹۱حدیث ۲۷۶۰)
حضرتِ سیِّدُناابواُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَروی ہے کہ سلطانِ دوجہا ن شَہَنشاہِ کون ومکان، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے: جس نے جُمُعہ کی نَماز پڑھی، اُس دن کا روزہ رکھا ، کسی مریض کی عیادت کی ، کسی جنازہ میں حاضِر ہوا اور کسی نِکاح میں شرکت کی توجنت اس کے لیے واجِب ہوگئی۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۸ص۹۷حدیث۷۴۸۴)
خصوصیَّت کے ساتھ تنہا جُمُعہ یا صِرف ہفتہ کا روزہ رکھنا مکروہِ تَنزِیہی ہے ۔ ہاں اگر کسی مخصوص تاریخ کو جُمُعہ یا ہفتہ آگیا تو کراہت نہیں ۔ مَثَلاً ۱۵ شَعبانُ المُعظَّم، ۲۷ رَجَبُ المُرجَّب وغیرہ۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: جُمُعہ کادِن تمہارے لئے عید ہے اِس دن روزہ مت رکھو مگر یہ کہ اس سے پہلے یابعد میں بھی روزہ رکھو۔ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۲ص۸۱حدیث۱۱)
سرکارِ اعلیٰ حضرت امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : روزۂ جُمُعہ یعنی جب اس کے ساتھ پَنجشنبہ (یعنی جُمعرات کا) یا شَنبہ (ہفتہ کا روزہ) بھی شامِل ہو، مر و ی ہواکہ دس ہزار برس کے روزوں کے برابر ہے۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱۰ص۶۵۳)
جُمُعہ کا روزہ ہر صورت میں مکروہ نہیں ، مکروہ صِرف اِسی صورت میں ہے جبکہ کوئی خصوصیَّت کے ساتھ جمعہ کا روزہ رکھے۔ چنانچِہ جُمُعہ کا روزہ کب مکروہ ہے اِس ضِمن میں فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ جلد10صَفْحَہ 559سے سُوال جواب ملاحظہ ہوں ، سُوال: کیا فرماتے ہیں عُلَمائے دین اِس مسئلے میں کہ جُمُعہ کا روزۂ نَفل رکھنا کیسا ہے؟ایک شخص نے جُمُعہ کا روزہ رکھا دوسرے نے اُس سے کہا : جُمُعہ عیدُ الْمُؤمِنین ہے روزہ رکھنا اِس دن میں مکروہ ہے اوربَاِصْرار بعد دوپَہَر کے روزہ تُڑوا دیا ۔ ۔ ۔ ۔ جواب: جُمُعہ کا روزہ خاص اِس نیّت سے کہ آج جُمُعہ ہے اِس کا ر وزہ بِا لتَّخْصِیص چاہئے مکروہ ہے مگر نہ وہ کراہت کہ توڑ نا لازِم ہوا، اور اگر خاص بہ نیّتِ تَخْصِیْص نہ تھی تو اصلاً کراہت بھی نہیں ، اُس دوسرے شخص کو اگر نیّتِ مکروہہ پر اِطّلاع نہ تھی جب تو اعتراض ہی سِرے سے حَماقت ہوا ، اور ر وزہ توڑ دیناشَرع پر سخت جُرأَت، اور اگر اِطّلاع بھی ہوئی جب بھی مسئلہ بتا دینا کافی تھانہ کہ روزہ تُڑوانا، اور وہ بھی بعد دوپَہَر کے ، جس کا اختیارنَفل روزے میں والدین کے سوا کسی کو نہیں ، توڑنے والا اورتُڑوانے والا دونوں گنہگار ہوئے، توڑنے والے پر قَضا لازِم ہے کفّارہ اَصلاً نہیں ۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَم۔
سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختار، شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ خوشگوار ہے: جو اپنے ماں باپ دونوں یا ایک کی قَبْر پر ہرجُمُعہ کے دن زِیارت کو حاضِر ہو، اللہ تعالیٰ اُس کے گناہ بخش دے اور ماں باپ کے ساتھ اچّھا برتاؤ کرنے والا لکھا جائے ۔ (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی ج۴ص۳۲۱حدیث ۶۱۱۴)
حضُور ِاکرم، نورِ مجسَّم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا: جو شَخص روزِ جُمُعہ اپنے والِدَین یا ایک کی قَبْر کی زِیارت کرے اور اس کے پاس یٰسٓ پڑھے بخش دیا جائے ۔ (اَلْکامِل فِی ضُعَفائِ الرِّجال ج۶ص۲۶۰)
سلطانِ حرمین، رحمتِ کونَین، نانائے حَسَنَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ باعثِ چَین ہے: جو ہر جُمُعہ والِدَین یا ایک کی زِیارتِ قَبْر کر کے وہاں یٰسٓ پڑھے، یٰسٓ ( شریف ) میں جتنے حَرف ہیں ان سب کی گنتی کے برابر یٰسٓ اس کے لئے مغفِرت فرمائے۔ (اِتحافُ السّادَۃج۱۴ص۲۷۲) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہرجُمُعہ شریف کو فوت شُدہ و ا لدین یا ان میں سے ایک کی قَبْر پر حاضِر ہو کر یاسین شریف پڑھنے والے کا تو بیڑا ہی پار ہے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یاسین شریف میں 5 رکوع83 آیات729 کلمات اور3000حروف ہیں اگرعِندَاللّٰہ ( یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک) یہ گنتی دُرُست ہے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ تین ہزار مغفِرتوں کا ثواب ملے گا۔
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: جو شبِ جمعہ ( یعنی جمعرات اور جمعہ کی د ر میا نی شب) یٰسٓ پڑھے اس کی مغفرت ہوجا ئے گی۔ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۱ص۲۹۸حدیث۴)
جُمُعہ کے دن روحیں جَمع ہوتی ہیں لہٰذا اس میں زیارتِ قُبور کرنی چاہئے اور اس روز جہنَّم نہیں بھڑکایا جاتا۔ (دُرِّمُختار ج۳ص۴۹) سرکارِ اعلیٰ حضرت امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان فرماتے ہیں : زِیارت (قبور) کا افضل وقت روزِ جمعہ بعدِنَمازِصُبح ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ص۵۲۳)
حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ ابنِ عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَروی ہے: نبی رَحمت ، شفیعِ امّت، شَہَنشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باعَظَمت ہے: ’’جوشَخص جُمُعہ کے روز سُوْرَۃُالْکَھْف پڑھے اُس کے قدم سے آسمان تک نُوربُلندہوگاجو قیا مت کو اس کے لیے روشن ہوگا اور دوجُمُعوں کے درمِیان جو گناہ ہوئے ہیں بخش دیئے جا ئیں گے ۔ ‘‘ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۱ص۲۹۸حدیث۲)
حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَروی ہے، حضور سراپا نور ، فیض گنجور، شاہِ غَیور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ نورٌ علیٰ نور ہے: ’’جو شخص بروزِ جُمُعہ سُوْرَۃُالْکَھْف پڑھے اس کے لیے دونوں جُمُعوں کے درمِیان نور روشن ہوگا۔ ‘‘ (اَلسّنَنُ الکُبری لِلْبَیْہَقِی ج۳ص۳۵۳حدیث۵۹۹۶)
ایک روایت میں ہے: ’’ جو سُوْرَۃُالْکَھْف شبِ جُمُعہ ( یعنی جُمعرات اور جُمُعہ کی درمِیانی شب) پڑھے اس کے لیے وہاں سے کعبے تک نور روشن ہوگا۔ ‘‘ (سُنَنِ دارِمی ج۲ص۵۴۶حدیث۳۴۰۷)
حضرتِ سیِّدُنا ابواُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَروی ہے، مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنت نشان ہے: جو شخص بروزِ جُمُعہ یا شبِ جُمُعہ سُوْرَۃالدُّخَان پڑھے اس کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۸ص۲۶۴ حدیث ۸۰۲۶ ) ایک روایت ہے کہ اس کی مغفِرت ہو جائے گی ۔ (سُنَنِ تِرمِذی ج ۴ ص۴۰۷حدیث ۲۸۹۸)
امامُ الانصار ِوَ المُہاجِرین ، مُحِبُّ الْفُقَراءِ وَالْمَساکِین جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دِلنشین ہے : ’’ جو شخص رات میں پڑھے تو صبح ہونے تک اس کے لیے ستّر ہزار فرِشتے اِستِغفار کریں گے ۔ ‘‘ (سُنَنِ تِرمِذی ج۴ص۴۰۶حدیث ۲۸۹۷)
حضرتِ سیِّدُنااَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَروی ہے، سلطانِ دو جہان، شَہَنشاہِ کون ومکان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مغفِرت نشان ہے: جو شخص جُمُعہ کے دِن نَماز فَجْر سے پہلے تین با ر اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَوَاَتُوْبُ اِلَیْہِ پڑھے اس کے گنا ہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ سے زِیادہ ہوں ۔ (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی ج۵ص۳۹۲حدیث۷۷۱۷ )
اللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی پارہ28 سُوْرَۃُ الْجُمُعَہ کی آیت نمبر10میں ارشاد فرماتا ہے :
فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (۱۰)
ترجَمۂ کنزالایمان: پھر جب نماز (جمعہ) ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللّٰہ کا فضل تلاش کرو اور اللّٰہ کوبَہُت یا د کرواس اُمّید پر کہ فلاح پاؤ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولاناسیِّد محمد نعیم الدّین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت کے تحت تفسیرخَزائنُ العِرفان میں فرماتے ہیں : اب (یعنی نَمازِجُمُعہ کے بعد) تمہارے لیے جائز ہے کہ مَعاش کے کاموں میں مشغول ہو یا طَلَبِ علم یاعِیادت ِمریض یا شرکت ِ جنازہ یا زِیارَتِ علماء یا اس کے مثل کاموں میں مشغول ہو کر نیکیاں حاصِل کرو۔
نَمازجُمُعہ کے بعد مجلسِ عِلم میں شرکت کرنامُستحَب ہے۔ چُنانچِہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت ِسیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا اَنس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کاقَول ہے: اس آیت میں (فقط) خرید وفروخت اور کسب ِدُنیا مرادنہیں بلکہ طَلَبِ علم، بھائیوں کی زِیارت، بیماروں کی عِیادت ، جنازے کے ساتھ جانا اوراس طرح کے کام ہیں ۔ (کِیمِیائے سَعادَت ج۱ص۱۹۱)
میٹھے میٹھے اسلا می بھا ئیو !ادائیگیٔ جُمُعہ واجِب ہونے کے لئے گیارہ شرطیں ہیں ان میں سے ایک بھی مَعدُوم (کم) ہو تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا تو ہو جائے گا بلکہ مردِ عاقِل بالِغ کے لئے جُمُعہ پڑھنا افضل ہے۔ نابالِغ نے جُمُعہ پڑھا تو نفل ہے کہ اِس پرنَماز فرض ہی نہیں ۔ (دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۳ص۳۰)