دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Jumma | فیضان جمعہ

Jumma Ke Liye Jaldi Nikalna Hajj Hai

book_icon
فیضان جمعہ

جُمُعہ کیلئے جلدی نِکلنا حج ہے

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے رسول،   رسولِ مقبول،   سیِّدہ آمِنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گلشن کے مہکتے پھول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’بلاشبہ تمہارے لئے ہر جُمُعہ کے دن میں ایک حج اور ایک عمرہ موجود ہے،   لہٰذا جُمُعہ کی نَماز کیلئے جلدی نکلنا حج ہے اور جُمُعہ کی نَماز کے بعد  عَصر کی نماز کے لئے انتظار کرنا عمرہ ہے۔  ‘‘     (اَلسّنَنُ الکُبری لِلْبَیْہَقِی ج۳ ص۳۴۲ حدیث ۵۹۵۰) 

حجّ و عُمرہ کا ثواب

  حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتے ہیں :   (نَمازِ جُمُعہ کے بعد ) عَصرکی نَما ز پڑھنے تک مسجِد ہی میں رہے اور اگر نَمازِ مغرِب تک ٹھہرے تو افضل ہے ۔  کہا جاتا ہے کہ جس نے جامِع مسجِدمیں  ( جُمُعہ ادا کرنے کے بعد وَہیں رُک کر)  نمازِ عَصرپڑھی اُس کیلئے حج کا ثواب ہے اور جس نے  (وَہیں رُک کر)  مغرِب کی نَماز پڑھی اسکے لئے حج اور عمرے کا ثواب ہے۔   (اِحیاءُ الْعُلوم ج۱ص۲۴۹) 

سب دنوں کا سردار

    نَبِیِّ مُعَظَّم،  رَسُولِ مُحتَرم،  سُلْطانِ ذِی حَشَم،   تا جَدارِ حَرَم،   سَرَاپا جُود وکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باقرینہ ہے:  ’’جُمُعہ کا دن تمام دِنوں کا سردار ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک  عیدُالْاَضْحٰی اور عیدُالْفِطْر سے بڑا ہے۔   اس میں پانچ خصلتیں ہیں :  {۱} اللہ تَعَالٰی  نے اسی میں آدم (علیہِ السَّلام)  کو پیدا کیا اور {۲} اسی میں زمین پر اُنہیں اُتارا اور {۳} اسی میں اُنہیں وفات دی اور {۴}اِس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اُس وَقت جس چیز کا سُوال کرے گا وہ اُسے دے گا جب تک حرام کا سُوال نہ کرے اور{۵} اِسی دن میں قِیامت قائم ہو گی۔   کوئی مقرب فرشتہ و آسمان و  زمین اور ہواو پہاڑاور دریا ایسا نہیں کہ جُمُعہ کے دِن سے ڈرتا نہ ہو۔  ‘‘   (سُنَنِ اِبنِ ماجہ ج۲ص۸حدیث۱۰۸۴)   

جانوروں کا خوفِ قیامت

ایک اور رِوایت میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کوئی جانور ایسا نہیں کہ جُمُعہ کے دن صُبح کے وَقت آفتاب نکلنے تک قِیامت کے ڈر سے چیختا نہ ہو ،   سوائے آدمی اور جنّ کے ۔    (مُؤَطّا امام مالک ج۱ص۱۱۵حدیث۲۴۶) 

دُعا قَبول ہوتی ہے

سرکارِ مکّۂ مکرَّمہ،   سردارِمدینۂ منوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عِنایت نشان ہے:  جُمُعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے پاکر اس وقت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے کچھ مانگے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسکو ضرور د ے گا اور وہ گھڑی مختصر ہے۔  (صَحیح مُسلِم ص۴۲۴حدیث۸۵۲)       

عَصر و مغرِب کے درمِیان ڈھونڈو

حضور پُر نور ،   شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ پُر سُرور ہے:   ’’جُمُعہ کے دن جس ساعت کی خواہِش کی جاتی ہے اُسے عَصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک تلاش کرو۔  ‘‘  (سُنَنِ تِرمِذیج۲ص۳۰حدیث۴۸۹) 

صاحبِ بہارِ شریعت کا ارشاد

حضرتِ صَدرُالشّریعہ مولانامحمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :   قَبولیّتِ دُعا کی ساعتوں کے بارے میں دو قول قوی ہیں :  {۱} امام کے خطبے کیلئے بیٹھنے سے ختم نَماز تک {۲} جُمُعہ کی پچھلی (یعنی آخِری)  ساعت (بہارِ شریعت ج۱ص۷۵۴) 

قَبولیَّت کی گھڑی کون سی؟

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان فرماتے ہیں :   رات میں روزانہ قَبولیّتِ دعا کی ساعت (یعنی گھڑی)  آتی ہے مگر دِنوں میں صِرف جُمُعہ کے دن ۔   مگر یقینی طور پر یہ نہیں معلوم کہ وہ ساعت کب ہے،   غالِب یہ کہ دو خطبوں کے درمِیان یا مغرِب سے کچھ پہلے ۔  ایک اور حدیثِ پاک کے تَحت مفتی صاحِب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس ساعت کے متعلق عُلَماء کے چالیس قَول ہیں ،   جن میں دو   قَول زِیادہ قوی ہیں ،   ایک د و ۲   خطبوں کے درمیان کا ،   دوسرا آفتاب ڈوبتے وقت کا ۔    (مِراٰۃ  ج ۲ ص ۳۱۹ ،  ۰ ۲ ۳)  

حکایت

حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اُس وقت خود حُجرے میں بیٹھتیں اور اپنی خادِمہ فِضَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو باہَر کھڑا کرتیں ،   جب آفتاب ڈوبنے لگتا تو خا دِ مہ آ پ  کو خبر دیتیں ،  اس کی خبر پر سیِّدہ اپنے ہاتھ دعا کیلئے اُٹھا تیں ۔   (اَیضاً ص۳۲۰)   بہتر یہ ہے کہ  اِس ساعت میں  (کوئی)  جامِع دُعا مانگے جیسے یہ قراٰنی دُعا:  رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (۲۰۱)   (پ۲البقرۃ: ۲۰۱)   (ترجَمۂ کنزالایمان:  اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخِرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذابِ دوزخ سے بچا )  
    (مِراٰۃ  ج ۲ ص۳۲۵)  دُعا کی نیّت سے دُرود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں کہ دُرُود پاک بھی عظیم الشّا ن دُعا ہے۔  افضل یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بغیرہاتھ اُٹھائے بلا زَبان ہِلائے دل میں دُعا  مانگی جائے۔  

ہرجُمُعہ کو ایک کروڑ44 لاکھ جہنَّم سے آزاد

سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ نَجات نشان ہے:  جُمُعہ کے دن اور رات میں چوبیس گھنٹے ہیں کوئی گھنٹا ایسا نہیں جس میں اللّٰہ تعالٰی جہنَّم سے چھ لاکھ آزاد نہ کرتا ہو،   جن پر جہنَّم واجِب ہو گیا تھا۔   (مُسْنَد اَبِی یَعْلٰی ج۳ص۲۹۱۔  ۲۳۵حدیث۳۴۲۱،  ۳۴۷۱) 

عذابِ قَبر سے محفوظ

تاجدارِ مدینۂ منوَّرہ ،  سلطانِ مکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد  فرمایا:  جو روزِ جُمُعہ یا شبِ جُمُعہ  (یعنی جُمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب)  مرے گا عذاب قَبْر سے بچا لیا جا ئے گااور قِیامت کے دن اِس طرح آ ئے گا کہ اُس پر شہیدوں کی مُہرہو گی۔   (حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۳ص۱۸۱حدیث۳۶۲۹) 

جُمُعہ تا جُمُعہ گناھوں کی مُعافی

حضرتِ سیِّدُناسَلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،   سلطانِ دوجہان،   شَہَنشاہِ کون ومکان،   رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے: جو شخص جُمُعہ کے دن نہائے اور جس طہارت ( یعنی پاکیزگی)  کی استِطاعت ہو کرے اور تیل لگائے اور  گھر میں جو خوشبو ہو ملے پھر نَماز کو نکلے اور دو شخصوں میں جُدائی نہ کرے یعنی دو شخص بیٹھے ہوئے ہوں اُنھیں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے اور جو نَماز اُس کے لئے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جب خطبہ پڑھے تو چپ رہے اُس کے لئے اُن گناہوں کی،   جو اِس جُمُعہ اور دوسرے جُمُعہ کے درمیان ہیں مغفِرت ہو جا ئے گی۔   (صَحیح بُخاری ج۱ص۳۰۶حدیث۸۸۳) 

200 سال کی عبادت کا ثواب

حضرتِ سیِّدُناصِدّیقِ اکبر و حضرتِ سیِّدُناعمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ مدینۂ منوَّرہ ،   سلطانِ مکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشاد فرمایا:  جو جُمُعہ کے دن نہائے اُس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اور جب چلنا شروع کیا تو ہر قدم پر بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔   (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۱۸ص۱۳۹حدیث ۲۹۲)  اور دوسری روایت میں ہے : ہر قدم پر بیس سال کاعمل لکھا جاتا ہے اور جب نَماز سے فارغ ہو تو اُسے دو سو برس کے عمل کا اجر ملتا ہے۔   (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۲ص۳۱۴ حدیث ۳۳۹۷) 

مرحوم والِدَین کو ہر جُمُعہ اعمال پیش ہوتے ہیں

دو عالم کے مالِک و مختار،   مکّی مَدَنی سرکار،   محبوبِ پرورد گار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشاد فرمایا:  پیر اور جُمعرات کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور اعمال پیش ہوتے ہیں اور انبیائے کرام علَیھمُ السَّلام اور ماں باپ کے سامنے ہر جُمُعہ کو۔  وہ نیکیوں پر خُوش ہوتے ہیں اور ان کے چہروں کی صفائی و تابِش (یعنی چمک دمک)  بڑھ جاتی ہے ،   تواللّٰہ سے ڈرو اور اپنے وفات پانے والوں کو اپنے گناہوں   سے رنج نہ پہنچاؤ۔   (نَوادِرُ الاصول لِلحَکیم التِرمذِی ج۲ص۲۶۰ )   

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن