٭ شَہر میں مقیم ہونا ٭ صِحّت یعنی مریض پر جُمُعہ فرض نہیں مریض سے مراد وہ ہے کہ مسجِدِ جُمُعہ تک نہ جاسکتا ہو یا چلا توجائے گا مگر مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھّاہو گا۔ شیخِ فانی مریض کے حکم میں ہی٭ آزاد ہونا ، غلام پر جُمُعہ فرض نہیں اور اُس کاآقا مَنع کرسکتاہے ٭ مرد ہونا٭ بالِغ ہونا ٭ عاقِل ہونا۔ یہ دونوں شرطیں خاص جُمُعہ کے لیے نہیں بلکہ ہر عبادت کے وُجوب میں عَقل و بُلُوغ شَرط ہی٭ انکھیارا ہونا٭ چلنے پر قادِر ہونا ٭ قَید میں نہ ہونا ٭ بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا خوف نہ ہونا٭ مینہ یا آندھی یا اَولے یا سردی کا نہ ہونا یعنی اِس قَدَر کہ ان سے نقصان کا خوفِ صحیح ہو۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۷۷۰، ۷۷۲)
جن پر نَماز فرض ہے مگر کسی شَرعی عذر کے سبب جُمُعہ فرض نہیں ، اُن کو جُمُعہ کے روز ظہرمُعاف نہیں ہے وہ تو پڑھنی ہی ہوگی۔
نَمازِجُمُعہ کے لئے اوّل وَقت میں جانا، مِسواک کرنا، اچھّے اور سفید کپڑے پہننا ، تیل اور خوشبو لگانا اور پہلی صَف میں بیٹھنا مُستَحَب ہے اور غُسل سنّت ہے۔ (عالمگیری ج۱ص۱۴۹، غُنیہ ص۵۵۹)
مُفسّرِشہیر حکیم الامّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان فرماتے ہیں : بعض عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ غسلِ جُمُعہ نَماز کیلئے مَسنون ہے نہ کہ جُمُعہ کے دن کیلئے۔ لہٰذاجن پر جُمُعہ کی نَماز نہیں اُن کیلئے یہ غُسل سنّت نہیں ، بعض عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ جمُعہ کا غسل نَمازِ جُمُعہ سے قریب کرو حتیّٰ کہ اس کے وُضو سے جُمعہ پڑھو مگر حق یہ ہے کہ غسلِ جُمُعہ کا وقت طُلوعِ فجر سے شروع ہوجاتا ہے۔ (مِراٰۃ ج۲ ص ۳۴ ۳ ) معلوم ہوا عورت اور مسافِر وغیرہ جن پر جُمُعہ واجِب نہیں ہے اُن کیلئے غسلِ جُمُعہ بھی سنّت نہیں ۔
حضرت علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں : نمازِ جُمُعہ کیلئے غُسل کرنا سُنَنِ زَوائِد سے ہے اِس کے ترک پر عتاب (یعنی ملامت) نہیں۔ (رَدُّالْمُحتار ج۱ص۳۳۹)
حضرتِ سیِّدُنا سَمُرَہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَروی ہے، حضور سراپا نور، فیض گنجور، شاہِ غَیور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : حاضِر رہو خطبے کے وقت اور امام سے قریب رہو اِس لئے کہ آدَمی جس قدَر دُور رہے گا اُسی قَدَر جنت میں پیچھے رہے گا اگرچِہ وہ (یعنی مسلمان) جنت میں داخِل ضرور ہوگا ۔ (سُنَنِ ابوداوٗد ج۱ص۴۱۰حدیث۱۱۰۸)
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: جو جمعہ کے دن کلام کرے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تواس کی مثال اُس گدھے جیسی ہے جو کتابیں اُٹھائے ہو اوراُس وقت جوکوئی اس سے یہ کہے کہ ’’ چپ رہو‘‘ تواُسے جمعہ کا ثواب نہ ملے گا۔ (مُسندِ اِمام احمد ج۱ص۴۹۴ حدیث ۲۰۳۳)
جو چیزیں نَماز میں حرام ہیں مَثَلاً کھانا پینا، سلام و جوابِ سلام وغیرہ یہ سب خطبے کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ اَمرٌ بِالْمَعْروف، ہاں خطیب اَمرٌ بِالْمَعْروف کر (یعنی نیکی کی دعوت دے) سکتا ہے۔ جب خطبہ پڑھے، تو تمام حاضِرین پر سننا اور چُپ رَہنا فرض ہے، جو لوگ امام سے دُور ہوں کہ خطبے کی آواز ان تک نہیں پہنچتی اُنہیں بھی چُپ رَہنا واجب ہے اگر کسی کو بُری بات کرتے دیکھیں تو ہاتھ یا سر کے اشا ر ے سے مَنع کر سکتے ہیں زَبان سے ناجائز ہے۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۷۷۴، دُرِّمُختار ج۳ص۳۹)
سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک خطیب نے لیا توحاضِرین دِ ل میں دُرُود شریف پڑھیں زَبان سے پڑھنے کی اُس وقت اجازت نہیں ، یونہی صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ذِکرِ پاک پر اُس وقت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم زَبان سے کہنے کی اجازت نہیں ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۷۷۵، دُرِّمُختار ج۳ص۴۰)
خُطبۂ جُمُعہ کے علاوہ اورخطبوں کا سننا بھی واجِب ہے مَثَلاً خطبۂ عیدین و نکاح وغیرہُما۔ (دُرِّمُختار ج۳ص۴۰)
پہلی اذان کے ہوتے ہی ( نَمازِ جُمُعہ کے لئے جانے کی ) کوشِش (شروع کر دینا) واجِب ہے اوربَیع (یعنی خرید وفروخت) وغیرہ ان چیزوں کا جو سعی (یعنی کوشِش) کے مُنافی (یعنی خلاف) ہوں چھوڑ دینا واجِب ۔ یہاں تک کہ راستے چلتے ہوئے اگر خرید و فروخت کی تو یہ بھی ناجائز اور مسجِد میں خرید وفروخت تو سخت گناہ ہے اور کھانا کھا رہا تھاکہ اذانِ جُمُعہ کی آواز آئی اگر یہ اندیشہ ہو کہ کھائے گا توجُمُعہ فوت ہو جائے گا تو کھانا چھوڑ دے اور جُمُعہ کو جائے۔ جُمُعہ کے لئے اطمینان و وقارکے ساتھ جائے۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۷۷۵، عالمگیری ج۱ص۱۴۹، دُرِّمُختار ج۳ص۴۲)
آج کل علمِ دین سے دُوری کا دَور ہے، لوگ دیگر عبادات کی طرح خطبہ سُننے جیسی عظیم عبادت میں بھی غلطیاں کر کے کئی گناہوں کا اِرتکِاب کرتے ہیں لہٰذا مَدَنی التِجا ہے کہ ڈھیروں نیکیاں کمانے کیلئے ہر جُمُعہ کوخطیب قبل ازاذانِ خطبہ منبر پر چڑھنے سے پہلے یہ اعلان کرے:
٭ حدیثِ پاک میں ہے: ’’ جس نے جُمُعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اُس نے جہنَّم کی طرف پُل بنایا۔ ‘‘ (تِرمِذی ج۲ص۴۸حدیث۵۱۳) اس کے ایک معنیٰ یہ ہیں کہ اس پر چڑھ چڑھ کر لوگ جہنَّم میں داخِل ہو نگے۔ (حاشیۂ بہارِ شریعت ج۱ص۷۶۱، ۷۶۲)
٭ خطیب کی طرف منہ کر کے بیٹھنا سنّتِ صَحابہ ہے۔
٭ بزرگانِ دین رَحمَہُمُ اللہُ الْمُبِین فرماتے ہیں : دوزانو بیٹھ کرخطبہ سنے، پہلے خطبے میں ہاتھ باندھے، دوسرے میں زانوپر ہاتھ رکھے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دو رَکعَت کا ثواب ملے گا۔ (مِراٰۃ المناجیح ج۲ص۳۳۸)
٭ اعلٰی حضرت امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان فرماتے ہیں : خطبے میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک سُن کر دل میں دُرُود پڑھیں کہ زَبان سے سُکوت ( یعنی خاموشی ) فرض ہے۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۳۶۵)
٭ ’’ دُرِّ مختار‘‘ میں ہے: خطبے میں کھانا پینا، کلام کرنااگر چِہ سُبْحٰن اللہ کہنا ، سلام کا جواب دینا یا نیکی کی بات بتانا حرام ہے۔ (دُرِّمُختار ج۳ص۳۹)
٭ اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : بحالتِ خطبہ چلنا حرام ہے۔ یہاں تک عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہو گیا تو مسجِد میں جہاں تک پہنچا وَہیں رُک جائے ، آگے نہ بڑھے کہ یہ عمل ہو گا اور حالِ خطبہ میں کوئی عمل رَوا ( یعنی جائز ) نہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۳۳۳)
٭ اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : خطبے میں کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا ( بھی) حرام ہے۔ (اَیضاًص۳۳۴)
ایک بَہُت ضروری اَمر جس کی طرف عوام کی بالکل توجُّہ نہیں وہ یہ ہے کہ جُمُعہ کو اور نَمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جُمُعہ قائم کرلیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا یہ ناجائز ہے اس لئے کہ جُمُعہ قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اُس کے نائب کا کام ہے ۔ او ر جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ ( عالم) سُنّی صحیحُ الْعقیدہ ہو، وہ اَحکامِ شَرعِیّہ جاری کرنے میں سلطانِ اسلام کا قائم مقام ہے لہٰذا وُہی جُمُعہ قائم کرے، بغیر اُس کی اجازت کے ( جُمُعہ) نہیں ہو سکتا اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں ۔ عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطورِ خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کرلیں ایسا جُمُعہ کہیں ثابت نہیں ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۷۶۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شادی غمی کی تقریبات، اجتماعات، اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔
غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب جنّت الفردوس میں آقا کے پڑوس کا طالب
۲۵ ربیع الغوث۱۴۳۲ھ
کتاب مطبوعہ کتاب مطبوعہ
خزائن العرفان رضا اکیڈمی بمبئی سنن کبری دار الکتب العلمیۃ بیروت
صحیح بخاری دار الکتب العلمیۃ بیروت مجمع الزوائد دار الفکر بیروت
صحیح مسلم دار ابن حزم بیروت الترغیب والترہیب دار الکتب العلمیۃ بیروت
سنن ترمذی دار الفکر بیروت نوادر الاصول دارصادر بیروت
سنن ابو داود دار احیاء التراث العربی بیروت تاریخ دمشق دار الفکر بیروت
سنن ابن ماجہ دار المعرفۃ بیروت لمعات مرکز الاولیاء لاہور
موطا امام مالک دار المعرفۃ بیروت اشعۃ اللمعات کوئٹہ
سنن دارمی دارالکتب العربی بیروت مراٰۃ المناجیح ضیاء القراٰن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور
مسندامام احمد دار الفکر بیروت احیاء العلوم دارصادر بیروت
مسند ابو یعلی دار الکتب العلمیۃ بیروت کیمیائے سعادت انتشارات گنجینہ تہران
مصنف ابن ابی شیبہ دار الفکر بیروت غنیہ سہیل اکیڈمی مرکز الاولیاء لاہور
معجم کبیر دار احیاء التراث العربی بیروت فتاوٰی عالمگیری دار الفکر بیروت
معجم اوسط دار الکتب العلمیۃ بیروت درمختار دار المعرفۃ بیروت
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان دار الکتب العلمیۃ بیروت رد المحتار دار المعرفۃ بیروت
الکامل فی ضعفاء الرجال دار الکتب العلمیۃ بیروت فتاوٰی رضویہ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور
حلیۃ الاولیاء دار الکتب العلمیۃ بیروت بہارِ شریعت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی