30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قیدیوں کے لیے اِصلاحی اِسلامی مَدَنی نصاب
فیضانِ اِسلام کورس{حصہ دوم}
مرتب: مجلس المدینۃ العلمیۃ
پیش کش: مجلس اِصلاح برائے قیدیان
(فیضانِ قرآن فاؤنڈیشن)
ناشر
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
نام کتاب----- :----- فیضان اسلام کورس (حصہ دوم)
مرتب----------:----- مجلس المدینۃ العلمیۃ (شعبہ اصلاحی کتب)
پیش کش-----:----- مجلس اِصلاح برائے قیدیان (فیضانِ قرآن فاؤنڈیشن)
ناشر----------:----- مکتبۃ المدینہباب المدینہ کراچی
سالِ اِشاعت-----:----- محرم الحرام 1434ھ ، نومبر 2012ء
قیمت----------:-----
مدنی التجاء : کسی اور کو یہ کتاب چھاپنے کی اجازت نہیں ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَاَلسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ ؕ
’’اے رب مجھے علم زیادہ دے ‘‘ کے سترہ حروف کی نسبت سے
اس کتاب کو پڑھنے کی ’’17 نیّتیں ‘‘
فرمانِ مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :’’ اچھی نیّت بندے کو جنَّت میں داخِل کر دیتی ہے۔‘‘
( الجامع الصغیر،الحدیث: ۹۳۲۶ ،ص ۵۵۷ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
دو مَدَنی پھول:
{1} بِغیر اچھی نیّت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔
{2}جتنی اچھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ۔
{1}ہربارحَمدو{2}صلوٰۃ اور{3}تعوُّذو{4}تَسمِیہ سے آغاز کروں گا (اسی صَفْحہ پر اُوپر دی ہوئی دو عَرَبی عبارات پڑھ لینے سے چاروں نیّتوں پر عمل ہوجائے گا) {5} اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کیلئے اس کتاب کا اوّل تا آخِر مطالَعہ کروں گا {6} حتَّی الامکان اِس کا باوُضُو اور {7}قِبلہ رُو مُطالَعَہ کروں گا{8} قرآنی آیات اور {9}اَحادیثِ مبارَکہ کی زِیارت کروں گا {10}جہاں جہاں ’’ اللّٰہ ‘‘ کا نام ِپاک آئے گا وہاں عَزَّوَجَلَّ اور{11} جہاں جہاں ’’سرکار‘‘کا اِسْمِ مبارَک آئے گا وہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پڑھوں گا{12}جو مسئلہ سمجھ میں نہیں آئے گا اس کیلئے آیت کریمہ’’ فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ(۴۳) ( پ ۱۴ ،النحل: ۴۳) ترجمہ کنز الایمان: تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ۔‘‘ پر عمل کرتے ہوئے علماء سے رجوع کروں گا {13} )اپنے ذاتی نسخے پر( عندالضرورت(یعنی ضرورتاً) خاص خاص مقامات پر اَنڈر لائن کروں گا {14}کتاب مکمَّل پڑھنے کے لیے بہ نیّت ِحُصولِ علم ِدین روزانہ کم از کم چار صفحات پڑھ کر علم ِدین حاصل کرنے کے ثواب کا حقدار بنوں گا {15} دوسروں کویہ کتاب پڑھنے کی ترغیب دلاؤں گا {16}اس کتاب کے مطالَعے کا ساری اُمّت کو ایصالِ ثواب کروں گا {17} کتابت وغیرہ میں شَرعی غلَطی ملی تو ناشرین کو تحریری طور پَر مُطَّلع کروں گا۔ (ناشِرین ومصنّف وغیرہ کو کتا بوں کی اَغلاط صِرْف زبانی بتانا خاص مفید نہیں ہوتا)
پیش لفظ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَاَلسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ ؕ
علم دین حاصل کرنا بہت بڑی سعادت ہے قرآن و حدیث میں اسکے بے شمار فضائل وارِد ہوئے، ایک حدیث مبارکہ میں اسے افضل ترین عبادت فرمایا چنانچہ علم دین عام کرنے اور عمل کا جذبہ بیدار کرنے کیلئے الحمد للّٰہ ’’فیضانِ اِسلام کورس‘‘ کا سلسلہ شروع کیا گیاجس کے پہلے حصے کو بہت سراہا گیا اور بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی اب دوسرا حصہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ حصہ تین اَبواب پر مشتمل ہے پہلے باب میں ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّم کی سنتوں اور آداب کا بیان ہے ،دوسرے باب میں مسنون دُعائیں اور آخری باب میں اِصلاحی بیانات ہیں لہٰذا سنتیں سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی نیت سے توجہ کے ساتھ ان کا مطالعہ فرمائیے اور اپنے شب و روز کو سنتوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کیجئے نیز مختلف موقعوں کی دعائیں یاد کرلیجئے اور ذکر اللّٰہ کی نیت اوردیگر اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ ان کو حسب موقع پڑھئیے۔ اِصلاحی بیانات کی روشنی میں فکر آخرت کرتے ہوئے اپنا محاسبہ کیجئے کہ اسلاف کرام سے ایسا کرنا ثابت ہے بلکہ امیر المومنین حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روزانہ اپنا اِحتساب فرمایا کرتے اور جب رات آتی تو اپنے پاؤں پر دُرَّہ مار کر فرماتے: بتا! آج تو نے’’کیا کیا‘‘کیا ہے؟( احیاء علوم الدین،کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، المرابطۃ الرابعۃ فی معاقبۃ النفس علی تقصیرہا، ج ۵ ،ص ۱۴۱) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں علم دین حاصل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ! آمین مجلس المدینۃ العلمیۃ (شعبہ اِصلاحی کتب)
ہر کلمے پرسال بھر کی عبادت کا ثواب
ایک بار حضرتِ سیِّدُنا مُوسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلیْہِ الصَّلٰوۃُ وَاَلسَّلَامُ نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جو اپنے بھائی کو نیکی کا حکم کرے اور بُرائی سے روکے اُس کی جزا کیا ہے؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’میں اُس کے ہر ہرکلمہ کے بدلے ایک ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اُسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حَیا آتی ہے۔ ‘‘ ( مُکاشَفۃُ الْقُلوب ،ص ۴۸ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
پہلا باب
سلام و مُصافَحہ،بات چیت ،گھرمیں آنے جانے ،چھینکنے،کنگھاکر نے،
خوشبو لگانے،چلنے پھرنے، سونے جاگنے وغیرہ کی سنتیں وآداب
سنتیں اور آ داب (1)
سلام کرنے کی سنتیں اورآداب
{1} مسلمان سے ملاقات کرتے وقت اُسے سلام کرنا سنّت ہے ۔{2} سلام میں پہل کرنا سنّت ہے۔ {3} سلام میں پہل کرنے والا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا مُقَرَّب ہے۔{4} سلام میں پہل کرنے والا تکبُّر سے بھی بَری ہے۔(2) {5} سلام کرنے سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے۔(3) {6} سلاممیں پہل کرنے والے پر نو ّے رَحمتیں اور جواب دینے والے پر دس رَحمتیں نازِل ہوتی ہیں ۔(4) {7} سلام کے بہترین الفاظ یہ ہیں ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ ‘‘یعنی تم پر سلامتی ہواور اللّٰہ عزَّوَجَل کی طر ف سے رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ (5){8} اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہنے سے دس نیکیاں اور ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ‘‘کہنے سے بیس جبکہ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُـہ ‘‘ کہنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں ۔(6) {9}جواب میں بھی’’ وَ عَلَیْکُمُ اَلسَّلَامُ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَا تُــہٗ ‘‘کہہ کر تیس نیکیاں حاصل کی جا سکتی ہیں ۔{10} سلام کا جواب فوراً اور اتنی آوازسے دینا واجِب ہے کہ سلام کرنے والا سن لے۔{11} سلام کرنا حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ اَلسَّلَامُ کی بھی سنت ہے ۔{12} ہر مسلمان کو سلام کرنا چاہئے خواہ ہم اسے جانتے ہو ں یا نہ جانتے ہوں ۔(7) {13} بات چیت شروع کرنے سے پہلے سلام کرنا چاہیے۔(8)
{14} چلنے والا بیٹھے ہوئے کو ، تھوڑے زیادہ کو اور سوار پیدل کو ( اورچھوٹا بڑے کو ) سلام کرنے میں پہل کریں ۔(9) {15} جب کوئی کسی کا سلام لائے تو اس طر ح جواب دیں ’’ عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ اَلسَّلَامُ ‘‘یعنی تجھ پر بھی او ر اُس پر بھی سلام ہو۔‘‘(10) {16} سلام اور جوابِ سلام کا دُرُست تلفُّظ یاد فرما لیجئے! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ( اَسْ ۔ سلام ۔ عَلَیْ ۔ کُمْ ) وَعَلَیْکُمُ اَلسَّلَامُ ( وَ ۔ عَ ۔ لَیْکُ ۔ مُسْ ۔ سلام )۔
مُصافَحہ (ہاتھ ملانے) کی سنتیں اورآداب
{1} دومسلمانوں کابَوقتِ ملاقات سلام کر کے دونوں ہاتھوں سے مُصافَحَہ کرنا یعنی دونوں ہاتھ ملانا سنّت ہے۔ {2} نبی مُکَرَّم رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ معظَّم ہے:’’جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہوئے مُصافَحہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خیریت دریافت کرتے ہیں تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کے درمیان سو رحمتیں نازل فرماتاہے جن میں سے ننانوے رحمتیں زیادہ پُرتپاک طریقے سے ملنے والے اور اچھے طریقے سے اپنے بھائی سے خیریت دریافت کرنے والے کے لئے ہوتی ہیں ۔‘‘(11) {3} جب دودو ست آپس میں ملتے ہیں اور مُصافَحَہ کرتے ہیں اور نبی ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) پردُرُود پاک پڑھتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔(12) {4} ہاتھ ملاتے وقت درود شریف پڑھ کر ہو سکے تو یہ دعا بھی پڑھ لیجئے!’’ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَنَا وَ لَـــکُم ‘‘(یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفِرت فرمائے) ۔{5} دو مسلمان ہاتھ ملانے کے دَوران جو دعا مانگیں گے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قَبول ہو گی، ہاتھ جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کی مغفرت ہو جائے گی۔(13) {6} آپس میں ہاتھ ملانے سے دُشمنی دُور ہوتی ہے ۔{7} دونوں طرف سے ایک ایک ہاتھ ملانا سنّت نہیں ، مصافحہ دو ہاتھ سے کرناسنّت ہے۔ (14) {8} بعض لوگ صِرف اُنگلیاں ہی آپس میں ٹکرا دیتے ہیں یہ بھی سنت نہیں ۔ {9} ہاتھ ملاتے وقت سنّت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال یا کوئی اور چیزنہ ہو، دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہئے۔(15)
بات چیت کرنے کی سنتیں اورآداب
{1} مسکرا کر اور خندہ پیشانی سے بات چیت کیجئے۔{2} مسلمانوں کی دلجوئی کی نیّت سے چھوٹوں کے ساتھ مُشفِقانہ اور بڑوں کے ساتھ مُؤدَّ بانہ لہجہ رکھئے! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ثواب کمانے کے ساتھ ساتھ دو نوں کے نزدیک آپ مُعزَّز رہیں گے۔ {3} چِلّا چِلّا کر بات کرنا جیسا کہ آجکل بے تکلُّفی میں اکثر دوست آپس میں کرتے ہیں سنّت نہیں ۔{4} چاہے ایک دن کا بچّہ ہو اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اُس سے بھی’’ آپ جناب‘‘ سے گفتگو کی عادت بنایئے ۔ آپ کے اخلاق بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عمدہ ہوں گے اور بچّہ بھی آداب سیکھے گا۔ {5} بات چیت کرتے وقت پردے کی جگہ ہاتھ لگانا، انگلیوں کے ذریعے بدن کا میل چُھڑانا، دوسروں کے سامنے بار بار ناک کو چھونا یا ناک یا کان میں انگلی ڈالنا، تھوکتے رہنا اچھی بات نہیں ، اس سے دو سرو ں کوگِھن آتی ہے۔{6} جب تک دوسرا بات کر رہا ہو اطمینان سے سنئے۔ اس کی بات کاٹ کراپنی بات شرو ع کر دینا سنّت نہیں ۔ {7} بات چیت کرتے ہوئے بلکہ کسی بھی حالت میں قہقہہ نہ لگائیے کہ سر کار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا ۔{8} زیادہ باتیں کرنے اور بار بار قہقہہ لگانے سے ہیبت جاتی رہتی ہے ۔{9} سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: ’’جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اسے دُنیا سے بے رغبتی اور کم بولنے کی نعمت عطا کی گئی ہے تو اس کی قربت وصحبت اختیار کرو کیونکہ اسے حکمت دی گئی ہے۔‘‘(16) {10} فرمانِ مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ’’ جو چُپ رہا اُس نے نَجات پائی ۔‘ ‘(17) لہٰذا بلا ضرورت ہرگز نہ بولیں ۔{11} کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصدبھی ہونا چاہیے اور ہمیشہ مخاطَب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے ۔{12} بدزبانی اور بے حیائی کی با تو ں سے ہر وقت پرہیز کیجئے ، گالی گلوچ سے اِجتناب کر تے رہئے اور یاد رکھئے کہ کسی مسلمان کو بِلااجازتِ شَرعی گالی دینا حرامِ قَطعی ہے(18) اور بے حیائی کی بات کرنے والے پر جنت حرام ہے ۔حضور تا جدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اس شخص پر جنت حرام ہے جو فُحش گوئی (بے حیائی کی بات ) سے کام لیتا ہے ۔‘ ‘(19)
1 اس باب میں شامل سنتوں اور آداب کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعات آداب طعام، 163 مَدنی پھول، سنتیں اور آداب اور 101 مدنی پھول سے استفادہ کیا گیا ہے۔
2 شعب الایمان،الحادی والستون،باب فی مقاربۃ۔۔۔الخ، الحدیث: ۸۷۸۶ ، ج ۶ ،ص ۴۳۳
3 سنن ابی داود ،کتاب الادب،باب فی افشاء السلام، الحدیث: ۵۱۹۳ ، ج ۴ ، ص ۴۴۸ ماخوذا
4 الجامع الصغیر للسیوطی، الحدیث: ۴۸۷ ،ص ۳۶ ملخصاً
5 ماخوذ از فتاوی رضویہ،ج ۲۲ ،ص ۴۰۹
6 سنن الترمذی،کتاب الاستـئذان والآداب،باب ما ذکر فی فضل السلام، الحدیث: ۲۶۹۸ ، ج ۴ ،ص ۳۱
7 صحیح البخاری،کتاب الاستـئذان،باب السلام ۔۔۔الخ، الحدیث: ۶۲۳۶ ، ج ۴ ،ص ۱۶۷
8 سنن الترمذی،کتاب الاستـئذان والآداب، باب ماجاء فی السلام ... الخ، الحدیث: ۲۷۰۸ ،ج ۴ ،ص ۳۲۱
9 صحیح مسلم،کتاب السلام،باب یسلم الراکب علی الماشی۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۱۶۰ ،ص ۱۱۹۱
10 سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی الرجل یقول فلان یقرئک السلام،الحدیث: ۵۲۳۱ ،ج ۴ ، ص ۴۵۸ ماخوذا
11 المعجم الاوسط للطبرانی،الحدیث: ۷۶۷۲ ،ج ۵ ،ص ۳۸۰
12 شعب الایمان للبیھقی،الحادی والستون، باب فی مقاربۃ۔۔۔الخ ، فصل فی المصافحۃ۔۔۔الخ، الحدیث: ۸۹۴۴ ، ج ۶ ، ص ۴۷۱
13 المسند للامام احمد بن حنبل، الحدیث: ۱۲۴۵۴ ، ج ۴ ،ص ۲۸۶
14 ردالمحتار،کتاب الحظر و الاباحۃ،باب الاستبراء وغیرہ،ج ۹ ،ص ۶۲۹
15 ردالمحتار،کتاب الحظر و الاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ،ج ۹ ،ص ۶۲۹
16 سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد،باب الزھد فی الدنیا،الحدیث: ۴۱۰۱ ، ج ۴ ، ص ۴۲۲
17 سنن الترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ،باب ۵۰ ،الحدیث: ۲۵۰۹ ،ج ۴ ،ص ۲۲۵
18 فتاویٰ رضویہ،ج ۲۱ ،ص ۱۲۷
19 الجامع الصغیر للسیوطی، حرف الجیم، فصل فی المحلی بأل من ہذا الحرف، الحدیث: ۳۶۴۸ ،ص ۲۲۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع