30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تیسرا باب
اِصلاحی بیانات
حسنِ اخلاق، صبر، معاف کردینے، والدین کے حقوق، اِحترامِ مسلم
اوردیگر موضوعات پر بیانات
نماز کے فضائل
دُرودِ پاک کی فضیلت
- حضرتِ سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رحمۃٌ لِّلْعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے صبح و شام مجھ پر دس دس بار دُرُودِ پاک پڑھا بروزِ قیامت اُس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔(1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
گناہ جھڑجاتے ہیں
حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ جاڑوں میں باہر تشریف لے گئے، پت جھڑ کا زمانہ تھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دو ٹہنیاں پکڑ یں ان سے پتّے گرنے لگے، فرمایا:اے ابوذر!میں نے عرض کی، لبیک یارسول اللّٰہ! فرمایا: ’’ مسلمان بندہ اللّٰہ کی رضا کیلئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے اس درخت سے یہ پتّے۔‘‘ (2)
خطائیں مٹا دی جاتی ہیں
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بتاؤتو! کسی کے دروازہ پر نہر ہو وہ اس میں ہر روز پانچ بارغسل کرے کیا اس کے بدن پر میل رہ جائے گا؟‘‘ عرض کی: نہیں ۔ فرمایا: ’’ یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے کہ اللّٰہ عزَّوَجَلَّ ان کے سبب خطاؤں کومٹا دیتا ہے۔‘‘(3)
معلوم ہوا کہ مسلمان اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے نماز پڑھتا رہے تو اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں اور وہ گناہوں سے پاک و صاف ہوجاتا ہے۔
عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَاَلسَّلَامُ اور مَیلا کُچیلا پرندہ
ایک دفعہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَاَلسَّلَامُ دریا کے کِنارے کِنارے چلے جارہے تھے، دفعۃً آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَاَلسَّلَامُ کی نظر ایک سفید نُورانی پرندے پر پڑی۔آپ نے دیکھا کہ وہ پرندہ دریا کی میلی کیچڑ میں لوٹ پوٹ ہوا جس سے اس کا بدن آلودہ ہو گیا پھر وہ پرندہ وہاں سے نکل کر دریا میں نَہایا اور پھر اُجلا ہوگیا۔ یہی عمل اُس نے پانچ مرتبہ کیا۔
حضرت سیِّدُنا عیسیٰ رُوح اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَاَلسَّلَامُ کو پرندے کے اِس فعل سے بڑا تعجب ہوا، حضرت جبرائیل َعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَاَلسَّلَامُ نے آپ کو متعجب دیکھ کر بتایاکہ اے عیسٰی! ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَاَلسَّلَامُ ) یہ پرندہ جو آپ کو دِکھایا گیا ہے یہ اُمّتِ محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کے نمازیوں کی مِثال ہے، یہ کیچڑ اُن کے گناہوں کی اور دریا اُن کی نمازوں کی مِثال ہے،مطلب یہ کہ یہ پرندہ جس طرح کیچڑ میں لَوٹا اور نہا کر پاک و صاف ہوگیا اِسی طرح اُمَّتِ محمدیہ کے گُناہگار پانچ نمازوں کے سبب اپنے گناہوں سے پاک و صاف ہوجائیں گے۔(4)
سُبْحٰنَ اللّٰہ! یہ محض اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل و احسان ہے کہ ہم سے سرزد ہونے والے گناہوں کو وہ نماز کی برکت سے معاف فرمادیتا ہے ۔ہمیں چاہیے کہ پابندی سے پانچوں نمازیں ادا کیا کریں تاکہ ہم بھی بخشش و مغفرت کے حق دار بن سیں ۔
پیارے بھائیو! نماز اسلام کا اہم ترین رکن ہے ایمان لانے کے بعد سب سے زیادہ نماز کی اہمیت ہے قرآن پاک میں بار بار نماز کا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ (5)
ترجمہ ٔ کنزالایمان :اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نمازوں کو ان کے حقوق کی رعایت اور ارکان کی حفاظت کے ساتھ ادا کرو۔(6)
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ(۱۱۴) (7)
ترجمہ ٔ کنزالایمان :اورنماز قائم رکھودن کے دونوں کناروں اورکچھ رات کے حصوں میں بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ،یہ نصیحت ہے، نصیحت ماننے والوں کو۔
حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک صاحب سے ایک گناہ سرزد ہوا، وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اورماجرا عرض کیا، اس پر یہی آیت مبارکہ نازل ہوئی، انہوں نے عرض کی، یارسول اﷲصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !کیا یہ خاص میرے لیے ہے؟ فرمایا:’’میری پوری اُمت کے لیے۔‘‘(8) سبحٰن اللّٰہ ! نماز کے مزید چند اور فضائل بھی ملاحظہ فرمائیے:
سب سے بڑا احسان
رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :بندے پر سب سے بڑا احسان یہ کہ اسے دو رکعت نماز ادا کرنے کی توفیق دی گئی۔(9)
جنتوں کے دروازے
حضرت سیِّدُنا ابو امامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’بندہ جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس کے لیے جنتوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس کے اور پروردگار کے درمیان حجاب ہٹا دئیے جاتے ہیں اور حورعین اس کا استقبال کرتی ہیں ، جب تک نہ ناک سِنکے، نہ کھنکارے۔(10)
پریشانیاں دور ہوں
نماز پڑھنے کے جہاں بے شمار فضائل ہیں وہاں یہ بھی فضیلت ہے کہ اس کی برکت سے پریشانیاں اور مشکلات دور ہوتی ہیں چنانچہ جب کوئی مصیبت یا مشکل آجائے تو نماز میں مشغول ہو جانا چاہیے قرآن پاک میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ (11)
ترجمہ ٔ کنزالایمان : اور صبر اور نماز سے مدد چاہو۔
اس آیت میں مصیبت کے وقت نما ز کے ساتھ استعانت (مدد حاصل کرنے) کی تعلیم فرمائی گئی ہے،حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اہم اُمور کے پیش آنے پر مشغولِ نماز ہو جاتے تھے۔ (12)
نماز بے حیائیوں اور برائیوں سے روکتی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ (13)
ترجمہ ٔ کنزالایمان :بے شک نماز منع کرتی ہے بے حَیائی اور بُری بات سے۔
یعنی ممنوعاتِ شرعیہ سے لہٰذا جو شخص نماز کا پابند ہوتا ہے اور اس کو اچھی طرح ادا کرتا ہے تونتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک نہ ایک دن وہ ان برائیوں کو ترک کر دیتا ہے جن میں مبتلا تھا ۔ حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک انصاری جوان سرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا اور بہت سے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتا تھا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس کی شکایت کی گئی فرمایا اس کی نماز کسی روز اس کو ان باتوں سے روک دے گی چنانچہ بہت ہی قریب زمانہ میں اس نے توبہ کی اور اس کا حال بہتر ہو گیا ۔ (14) نماز کی برکت سے برائیوں سے تائب ہونے والے ایک عاشق کی حکایت بھی ملاحظہ فرمائیے: چنانچہ
عاشقِ ناشاد
ایک شخص ایک عورت پر عاشق ہوگیا اور شب و روز اُس کے فِراق میں بے قراررہنے لگا،آخِرکار ہمت کرکے اپنے عشق کا اِظہار کر ہی ڈالا اور وِصال (ملاپ) کاطالب ہوا۔ وہ عورت شادی شدہ تھی اورنہایت شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھی، اسے شوہر کے حقوق کے بارے میں بھی علم تھاکہ شوہر کی نافرمانی سے دُنیا و آخرت میں تباہی اور بربادی کے سِوا کچھ ہاتھ نہیں آتا لہٰذا کچھ سوچ وبچار کے بعد، اپنے شوہر کو اس ’’زبردستی‘‘ کے عاشق کے بارے میں بتادیا۔
اُس کا شوہر پرہیزگار ہونے کے ساتھ ساتھ عقلمند بھی تھا۔ اسے اپنی زَوجہ پر پورا اِعتماد تھا دونوں ایک دوسرے سے خوش بھی تھے، حُسنِ اِتِّفاق سے وہ ایک مسجد میں اِمامت بھی کرتا تھا لہٰذا اپنی زوجہ ہی کی مَعْرِفَت اُس نے یہ جواب دِلوایا کہ’’ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہاری بات مان لوں تو پہلے فُلاں مسجد میں فُلاں اِمام کے پیچھے متواتر چالیس روز پانچوں وقت کی نمازیں باجماعت ادا کرو۔
’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘عاشق جو ٹھہرا، اُس نے شرط مَنظور کرلی اور پابندی سے باجماعت نماز شروع کردی، جوں جوں دِن گزرتے گئے توں توں نماز کی برکتیں اُس پر آشکار ہوتی چلی گئیں ، جب چالیس دن گزر گئے تو اُس کے دل کی دُنیا ہی بدل چکی تھی، چنانچہ اس نے عورت کو یہ پیغام بھیجا:
’’مُحترمہ ! نماز کی برکت سے میری آنکھیں کھل گئیں ہیں ، میں معَاذ اللّٰہ حرام کاری کے خواب دیکھتا تھا لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا کروڑ ہا کروڑ شکر کہ اُس نے مجھے آپ کی محبت سے چھٹکارا عطا فرمادیاہے اور اب میرے دل میں اپنے رب اللّٰہ عَزَّوَجَل کی محبت کا دریا موجزن ہے۔ الحمد للّٰہ عَزَّوَجَل میں نے آپکی محبت اور اپنی بدنیتی سے توبہ کرلی ہے۔‘‘
جب اُس نیک خاتون نے اپنے شوہر کو یہ پیغام سُنایا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی، اپنے ایک بگڑے ہوئے مسلمان بھائی کی اِصلاح کی خبر پا کر وہ مسرت سے جھُوم اُٹھا اور اُس کی زبان سے بے ساختہ یہ جاری ہوگیا: صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمُ یعنی رب ِ عظیم نے بالکل سچ فرمایا :
اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ ( پ ۲۱ ،العنکبوت: ۴۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان :بے شک نماز منع کرتی ہے بے حَیائی اور بُری بات سے۔(15)
دیکھاآپ نے ؟ نماز کی برکت سے ایک ’’عاشقِ ناشاد‘‘ راہِ راست پر آگیا اور اُس کا دل مالکِ حقیقی کی سچی محبت سے سر شار ہو گیا۔درحقیقت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبت ہے ہی ایسی کہ جس خوش نصیب کو یہ لذت و چاشنی نصیب ہوجائے وہ یقیناپھر کسی اور سے دل لگا ہی نہیں سکتا۔
دو عالَم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نماز کا جائزہ لیں ، اپنے وُضو اور غُسل دُرست کریں اور نماز کے ظاہری و باطنی آداب اور سنتیں سیکھ کرخشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھیں تو ضرور اس کے برکات و ثمرات ظاہر ہوں گے۔اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !ہمیں ظاہری و باطنی آداب کے ساتھ نمازیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اٰمِین اٰمین یارب العالمین!
جنت میں بھی علماء کی حاجت ہوگی
مدینے کے سلطان، رحمت عالمیان، سرور ذیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسلَّم کا فرمان پر نور ہے: جنتی جنت میں علمائے کرام کے محتاج ہوں گے اس لیے کہ وہ ہر جمعہ کو اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے، اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا: تَمَنَّوْا عَلَیَّ مَا شِئْتُم یعنی مجھ سے مانگو، جو چاہو۔‘‘ وہ جنتی علمائے کرام کی طرف متوجہ ہوں گے کہ اپنے ربِّ کریم عَزَوَجَلَّ سے کیا مانگیں ؟ وہ فرمائیں گے: یہ مانگو، وہ مانگو، جیسے وہ لوگ دنیا میں علمائے کرام کے محتاج تھے، جنت میں بھی ان کے محتاج ہوں گے۔( الفردوس بمأثورالخطاب،باب الالف،الحدیث: ۷۷۸ ، ج ۱ ،ص ۱۳۸)
1 مجمع الزوائد،کتاب الاذکار، باب ما یقول اذا اصبح ۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۷۰۲۲ ، ج ۱۰ ،ص ۱۶۳
2 المسند للامام احمد، مسند الأنصار،حدیث أبی ذرالغفاری، الحدیث: ۲۱۶۱۲ ، ج ۸ ،ص ۱۳۳
3 صحیح مسلم،کتاب المساجد۔۔۔الخ،باب المشی إلی الصلاۃ۔۔۔الخ، الحدیث: ۶۶۷ ،ص ۳۳۶
4 نزھَۃُ المجالِس، باب فضل الصلوات۔۔۔الخ،ج ۱ ،ص ۱۴۵
5 پ ۱ ،البقرۃ: ۴۳
6 خزائن العرفان،پ ۱ ،البقرۃ تحت الآیۃ: ۴۳
7 پ ۱۲ ،ھود: ۱۱۴
8 صحیح البخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب الصلاۃ کفارۃ، الحدیث: ۵۲۶ ، ج ۱ ، ص ۱۹۶
9 سنن الترمذی،کتاب فضائل القرآن،باب ماجاء فی من قرأ حرفاً ۔۔۔، الحدیث: ۲۹۲۰ ، ج ۴ ،ص ۴۱۸
10 الترغیب والترھیب،کتاب الصلاۃ، الترھیب من البصاق فی المسجد، الحدیث: ۴۴۸ ، ج ۱ ،ص ۱۵۴
11 پ ۱ ،البقرۃ: ۴۵
12 خزائن العرفان ،پ ۱ ،البقرۃ،تحت الآیۃ: ۴۵
13 پ ۲۱ ،العنکبوت: ۴۵
14 خزائن العرفان ،پ ۲۱ ،العنکبوت،تحت الآیۃ: ۴۵
15 نزہۃ المجالس، باب فضل الصلوات ۔۔۔الخ،ج ۱ ،ص ۱۴۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع