دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan-e-Data Ali Hajveri | فیضانِ داتاعلی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

Data Sahib Ki Likhi Hoe Kitaboun Ki Tadad Kitni Hain

book_icon
فیضانِ داتاعلی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
            

آپ کى تصانیف

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو علومِ ظاہرى اور باطنى سےنوازا تھا اور دىنِ اسلام کے بہت سےاَسرار و رُموز کا علم بھی عطا فرمایا تھا۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نےحصولِ علم کے لیے جوسفراختیارفرمائے ان سےآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کوکثیرمُشاہدات حاصل ہوئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مخلوقِ خدا کی خیر خواہی کے لىے کئی گراں قدر(قیمتی ) کتب تصنىف فرمائیں جن کے نام یہ ہیں: (۱)منہاج الدین(1) (۲)دیوان(2) (۳)اسرار الخرق والمؤنات(3) (۴)کتاب البیان لاہل العیان(4)(۵)بحر القلوب (5) (۶)الرعایۃ بحقو ق اللہ (۷)کتاب فنا و بقاء (۸) شرح کلام ِ منصور حلاج(۹)ایمان(6) مگر افسوس!فی زمانہ آپ کی کتابوں میں سےصرف کَشفُ المحجوب ہی بآسانی دستیاب ہے ۔

دیوان اپنے نام منسوب کرنےوالے کاانجام

حضرت سیّدنا داتا علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عربی ا شعار پر مشتمل ایک مکمل دیوان مُرتب فرمایا تھاجسے ایک شخص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مانگ کر لے گیا اور اس پورے دیوان کو اپنے نام سے منسوب کرلیا، ولی ٔ کامل کی ایسی دل آزاری کے سبب وہ بے ایمان ہوکر مرا چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاس کے برے خاتمے کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:وہ شخص جو میر ا دیوان لے گیا تھا بے ایمان دنیا سے گیا ۔“(7) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کئی گناہ ایسے ہیں جن کی وجہ سے ایمان ضائع ہونے کا شدید خطرہ ہے۔گناہوں سے نجات پانے اور ایمان کو مضبوط بنانے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔

داتا علی ہجویری نے دستگیری فرمائی

اپنے مسلمان بھائی کی دلجوئی او ر خیر خواہی میں مشغولیت دنیا و آخرت میں سعادت کا ذریعہ ہے کیوں کہ کسی مسلمان کی مدد کرنے والے پر رحمت الٰہی جھوم جھوم کر برستی ہے اور جیسا کہ نبی کریم Β صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندہ کی مدد فرماتارہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے۔(8) حضرت سیدنا ابوسعید ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیدنا داتا علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے رفیق تھے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیدنا داتا علی ہجویری کی بارگا ہ میں ان اُمورسے متعلق استفسار فرمایا: (۱)طریقِ تصوف کی حقیقت (۲)مقامات ِ صوفیہ کی کیفیت (۳)صوفیہ کے عقائد کی وضاحت (۴)صوفیہ کے رُموز و اِشارات (۵)دلوں میں محبتِ الٰہی کے ظہور کی کیفیت (۶)محبتِ الٰہی کی معرفت میں رکاوٹ بننے والے عقلی اور نفسانی حجابات (۷) ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے طریقے چنانچہ حضرت سیدنا داتا علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان تمام باتوں کا تفصیلی جواب دینے کے لیے” کشف المحجوب “ کے نام سے عظیم الشان کتا ب تصنیف فرمائی ۔(9)

کشف المحجوب علمی وثوق اورحیرت انگیز حافظہ کا شاہکار

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی بھی موضوع پر کچھ تحریر کرنے سے قبل مصنف یا مؤلف کو وسیع مطالعہ کرنا پڑتا ہے اور دوران تصنیف بھی مطالعے سے حاصل ہونے والے مَدَنی پھول اپنی تصنیف یا تالیف میں شامل کرنے کے لیے بار بار کتب کی جانب رجوع کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ، ان دشوار گزار اور کٹھن مراحل کے بعدہی کوئی کتاب منظر ِعام پر آتی ہے لیکن کشف المحجوب کے مراحل ِ تصنیف ہی جداگانہ رہے کیوں کہ حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تمام کتب غزنی میں رہ گئی تھیں اس لیے دورانِ تصنیف آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس کوئی کتاب موجود نہ تھی۔(10) لیکن ان کے مضامین آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پیشِ نظر تھے یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنےحافظہ کی بنیاد پر کتابُ اللُمَع ، اَلرِّسالَۃُ القُشَیرِیَۃ اور طَبَقاتُ الصُّوفِیَۃ وغیرہ جیسی کم و بیش ۲۲ کتب ِ تصوف کے جا بجا اقتباسات تحریر فرمائے ہیں اس کے علاوہ ۲۳۶آیات ، ۱۳۴ احادیث اور ۳۰۰ سے زائد اشعار اور بزرگان دین کے اقوال نقل فرمائے ہیں اس کے علاوہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے تجربات اور مشاہدات کو بھی ان صفحات میں محفوظ فرمادیا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ” کشف المحجوب“میں کم و بیش ایک لاکھ الفاظ ہیں جن میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نفس و شیطان کے ایسے دھوکوں کی نشاندہی فرمائی ہے جن کے ذریعے نفس و شیطان انسان کو سیدھی راہ سے ہٹا دیتے ہیں ۔ حکایات او ر نصیحت آموز کلمات کے ذریعے صبر و قناعت اور صدق واخلاص جیسے حسین اخلاق اپنانے پر ابھارا ہے۔ کتب دستیاب نہ ہونے کے باوجود اس قدر اہم ،مستند اور محققانہ تصنیف کا منظر عام پر آجانا درحقیقت حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کئی علوم پر دسترس اور حیرت انگیز قوتِ حافظہ کی واضح دلیل ہے ۔

اہلِ علم کا اعتراف

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کتاب”کشف المحجوب“وہ لازوال تصنیف ہے جس میں بیک وقت کئی علوم کا خزانہ ہے یہی وجہ ہے کہ یہ مبارک کتاب صدیوں سے اہل ِعلم کی توجہ کا مرکز رہی ہے مثلاً (۱)حضرت سیدنا فرید الدین عطار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”تذکرۃ الاولیاء “میں حضرت سیدنا حسن بصر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ، حضرت سیدنا ابو حازم مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وغیرہ جیسےآٹھ بزرگوں کا تذکرہ کے لیےکشف المحجوب سے استفادہ کیا ۔(11) (۲)حضرت سیدنا عبد الرحمٰن جامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ”نَفحاتُ الْاُنس“ میں اس کتا ب کے بارے میں ارشاد فرمایا:کشف المحجوب اس فن میں مشہور کتابوں میں سے ہے جس میں بہت سے لطائف و حقائق جمع ہیں۔(12) (۳)مخدومِ بِہارحضرت سیدنا شرف الدین یحییٰ منیر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے مکتوبات میں کشف المحجوب کے اقتباسات کو بطورِ سند نقل فرمایا۔ حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاسیّد محمد بخاری چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا : جسے پیر نہ ملتا ہو وہ اس کتاب (کشف المحجوب )کا مطالعہ کرے تو پیر مل جائے گا ۔(13) حضرت علامہ فقیر محمد جہلمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری اولیاء متقدمین میں سے جامع علوم ظاہری و باطنی ،عابد و زاہد،متقی ، مظہر خوارق و کرامت اور حنفی المذہب تھے ۔(14) اس کتاب کی اہمیت کا اعتراف غیر مسلموں نے بھی کیا ہے ،ایک غیرمسلم حضرت داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شہرۂ آفاق کتاب ’’ کشف المحجوب ‘‘ کی تعریف یوں کرتاہے: ’’ اس بزرگ نے عربی وفارسی میں بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں چنانچہ کتاب ’’ کشف المحجوب‘‘ بزبانِ فارسی تصوف کے علم میں ایسی لکھی ہے کہ اس کا ثانی روئے زمین پر نہیں ہے‘‘ ۔(15) جرمن مستَشرقَہ ڈاکٹر این میری شمل كشف المحجوب کےبارے میں لکھتی ہے :”ان کی کتاب ’’ کشف المحجوب ‘‘ ابتدائی صوفیانہ نظریات اور اعمال کا ایک اہم مآخذ ہے اور فارسی زبان میں تحریر شدہ تصوف کی اوّلین نظریاتی کتب میں سے ایک ہے ۔“(16)
1 کشف المحجوب، ص۲ 2 کشف المحجوب، ص۲ 3 کشف المحجوب، باب لبس المرقعات، ص۵۳ 4 کشف المحجوب ، باب فی فرق فرقہم فی مذاہبھم، ص۲۸۳ 5 کشف المحجوب ، باب فی فرق فرقہم فی مذاہبھم، ص۲۸۳ 6 حیات و افکار حضرت داتا گنج بخش، ص۵۲، سیدِ ہجویر، ص۱۵۱ 7 فوائد الفوادمترجم، پانچویں مجلس، ص۱۱۸ماخوذاً 8 مسلم، کتاب الذکر والدعاء الخ، باب فضل الاجتماع۔۔۔الخ، ص۱۴۴۸، حدیث: ۲۶۹۹ملتقطا 9 سید ہجویر، ص۱۶۶ماخوذا 10 کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من تبع الخ ، ص۹۶ 11 سید ہجویر ، ص۲۰۶ 12 نفحات الانس مترجم، ص۳۵۲، سیدِ ہجویر، ص۲۳۱ 13 سیدِ ہجویر، ص۲۳۱ 14 حدائق الحنفیۃ، ص۲۲۳ 15 تاریخِ لاہور، ص۲۹۲ 16 Islam in the Indian Subcontinent,p8

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن