30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک صحابی سے فرمایا:تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پسند فرماتا ہے ایک حلم اور دوسری بُردباری۔([1])
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’حلم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘([2])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی صبر وتحمل کی دولت عطا فرمائے۔
حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مال و دولت کے انبار لگے ہونے کے باوجود ان خزانوں سے مستغنی تھے۔ دولت کی محبت و طلب دل میں ذرہ برابر جگہ نہ پا سکتی تھی۔ ایک روز ایک خادم سے فرماىا: جاؤ جس صندوقچہ مىں پانچ ہزار سرخ دىنار رکھے ہىں اسے اٹھا لاؤ۔ خادم حکم کی تعمیل میں روانہ ہوا مگر اس صندوقچہ کو غائب پایا ہرچند تلاشا مگر بے سود، بالآخر بارگاہِ مرشد میں عرض گزار دی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اَلْحَمْدُ لِلّٰہفرمایا۔ مگر خادم پھر بھی جاکر تلاش کرتا رہا اور بالآخر مل ہی گیا اور خوشی خوشی اٹھا کر قدموں میں لا ڈالا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہکہا۔ حاضرىن نے عرض کى: حضور گم ہونے پر بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور مِل جانے پر بھی، آخر اس میں کیا حکمت ہے؟ حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے ارشاد فرماىا کہ فقىروں کے لىے دنىا کا وجود اور عدم دونوں برابر ہىں،نہ جانے کا غم نہ آنے کی خوشی، یہ کہہ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تمام دىنار حاجت مندوںمىں تقسىم کروادىئے۔([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکس قدر سخی اور مالِ دنیا سے بے رغبت و بے نیاز تھے۔ سخاوت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک بہت ہی عظیم نعمت ہے جو خوش بختوں ہی کا حصہ ہے وگرنہ آج لاکھوں ایسے لوگ ہیں جن کی آمدن اس قدر زیادہ ہے کہ وہ اُسے گن نہیں سکتےمگر راہِ خدا میں دینے کی توفیق نہیں ملتی۔ راہ ِ خدا میں مال خرچ کرنے کے بہت فضائل و فوائد ہیں چنانچہ
حضرتِ سیّدنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اے لوگو! مرنے سے پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں تو بہ کرلو اور مشغولیت سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرلو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کثرت سے ذکر کرنےاورپوشید ہ اور ظاہر ی طور پر کثر ت سے صدقہ کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنا رابطہ جوڑ لوتو تمہیں رزق دیا جائے گا اور تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری مصیبتیں دور کی جائیں گی۔ “([4])
شىخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی عادتِ مبارکہ تھی کہ لنگر خانہ میں جو بھی کھانا پکتا فقرا کے ساتھ مل کر کھانا تناول فرماتے تھے چنانچہ اىک مرتبہ فقرا کى اىک بڑى جماعت دستر خوان پر شرىک تھى۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ہر فقىر کے ساتھ اىک اىک لقمہ کھاىا۔ اىک فقىر کو دىکھا کہ وہ روٹى شوربے مىں بھگوکر (ثرید بنا کر )کھارہا ہے۔فرماىا:سبحان اللہ! ان سب مىں سے ىہ خوب کھانا جانتا ہے، کىونکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرماىا: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ([5]) یعنی عائشہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا )کی بزرگی ساری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی بزرگی تمام کھانوں پر۔ ([6])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت شیخ بہاء الدین زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جس طرح بے بہا مال و دولت عطا فرمائی تھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اسی طرح اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ بھی فرماتے تھے آپ کی سخاوت صرف مریدین و محبین تک ہی محدود نہ تھی بلکہ اگر کبھی سرکاری سطح پر بھی مالی ضرورت درپیش ہوتی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے خزانوں کے منہ کھول دیتےتھے ۔چنانچہ
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء سید محمد چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک مرتبہ یہ حکایت ارشاد فرمائی کہ شیخ بہاء الدین زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب کسی کو کوئی شے عنایت فرماتے تو اچھی اور زیادہ مقدار میں دیتے تھے ۔مُعَلِّم جو آپ کے بچوں کو پڑھاتا تھا اسےتنخواہ کےعلاوہ انعام بھی مرحمت فرماتے تھے۔ایک مرتبہ (مدینۃ الاولیا) ملتان میں سخت قحط پڑا ملتان کے حاکم ناصر الدین قَباچہ کوغلہ کی ضرورت پڑی۔ اس نے آپ سے طلب کیا تو آپ نے اس کی اِلتماس قبول فرما کر کئی مَن غلہ عطا فرمادیا۔ جب غلے کو یہاں سے لے جایا گیا تو اس میں سے ناگہاں طور پر بھاری مقدار میں نقدی رقم بھی نکل آئی ۔والیٔ شہر نے آپ کے پاس وہ رقم واپس بھیجی کہ میں نے تو صرف غلے کا سوال کیا تھا ۔جس وقت وہ روپیہ حضرت کے پاس لایا گیا آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس روپیہ کا حال معلوم تھا لیکن میں نے یہ نقد رقم اور غلہ حاکم کو دے دیا تھا ۔اس کے پاس لے جاؤکہ وہ اپنے صَرف میں لائے ۔ ([7])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا خزانہ غُرباء اورمستحقین کے لئے ہر وقت کھُلا رہتا۔ محتاج و مساکین آتے اور آپ کے دربار سے مالامال ہو کر جاتے ۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحجرہ مبارکہ میں مصروف عبادت تھے ۔چند درویش بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔اچانک آپ اپنے مُصَلّے سے اُٹھے اور رقم کی ایک تھیلی ہاتھ میں لیے باہر نکل گئے ۔درویش بھی حیرانی کے عالَم میں آپ کے ساتھ ہو لیے، باہر آکر دیکھا کہ چند آدمی ایک غَریبُ الحال شخص کو اپنے قرض کی وصولی کے لئے تنگ کر رہے ہیں اور اس شخص کے پاس ایک کوڑی بھی نہیں تھی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے قرض خواہوں کو بلا کر فرمایا : یہ تھیلی لے لو اور جس قدر اس شخص سے لینے ہیں نکال لو ۔قرض خواہ نے اپنے قرض سے کچھ روپے زیادہ لینے چاہے ۔فوراًاس کا ہاتھ خشک ہو گیا ۔چِلّا کربولا :حضور معاف فرمائیے،میں زیادہ لینے سے توبہ کرتا ہوں۔فوراً اس کا ہاتھ ٹھیک ہو گیا ۔مَفلوکُ الحال مقروض آپ کو دعائیں دینے لگا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ درویشوں کے ہمراہ خلوت خانہ واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: خداوندِ کریم عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اس شخص کی مدد کے لئے بھیجا تھا ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس کا مطلب پورا ہو گیا ۔([8])
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اسے مہلت دینی چاہئے اور اگر حاجت نہ ہو تو قرض کا کچھ حصہ یا پورا ہی قرض معاف کر دینا اجرِ عظیم کا سبب ہے چنانچہ
[1] صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الامر بالایمان با للہ تعالی ورسولہ الخ، ص۲۹، حدیث: ۱۷
[2] مجمع الزوائد، کتاب الادب، باب ماجاء فی الرفق، ۸/۴۳، حدیث:۱۲۶۵۲
[3] اولیائے ملتان، ص۳۱ ملخصاً
[4] ابن ماجہ، کتاب اقامة الصلاة، باب فی فرض الجمعة، ۲/ ۵، حدیث:۱۰۸۱
[5] بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، بَاب قَوْلِهِ تَعَالٰى: إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ الخ، ۲/۴۵۴، حدیث:۳۴۳۳
[6] اللہ کے خاص بندے ، ص۵۴۵، فوائد الفواد ، نویں مجلس ، ص ۲۰۲ملخصاً
[7] فوائد الفوادمترجم ، تیسری مجلس، ص۳۵۰ملخصاً، تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی، ص١١٥
[8] تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی، ص۱۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع