30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی اے دوست ہم تیری یاد میں مدہوش ہیں، اگر سو تلواریں بھی ماری جائیں تو ہم سر نہ اٹھائیں، ہم وقتِ سحرتیری یاد میں گم ہیں، اللہ کی قسم ! اس یاد کے عوض اگر دو جہاں بھی دیے جائیں توہم قبول نہ کریں۔([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احادیثِ مبارکہ میں قرآنِ مجید کی تلاوت کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے اَسلاف کثرت سے قرآنِ پاک کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بھی تلاوتِ قرآنِ مجید سے غیر معمولی شَغَف تھا چنانچہ ہر شب کو ایک قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ([2])
ایک رات حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے دوستوں سے ارشاد فرمایا:تم میں کوئى اىسا شخص ہے جو آج کی رات دو رکعت میں تمام کرے اور ایک رکعت میں کامل قرآن شریف پڑھے ۔ حاضرىن مىں سے کسى کو ہمت نہ ہوئى۔شیخ بہاء الدین زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود کھڑے ہو ئے اوردو رکعت نماز شروع کردی ۔ پہلى رکعت مىں پورا قرآنِ مجىد اور چار پارے مزیدتلاوت فرمائےاور دوسرى رکعت مىں سورہ ٔاخلاص پڑھى اور نمازمکمل کر لی ۔ ([3])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کامعمول تھا کہ تہجد کى نماز کے بعد قرآنِ پاک کا آغاز فرماتے اور نمازِفجر سے پہلے مکمل فرمالیتے۔ ([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کہیں شیطان یہ وسوسہ نہ دلائے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ بندہ تہجد سے لے کر فجر تک مکمل قرآنِ پاک کی تلاوت کرلے اور ایک ہی رکعت میں مکمل قرآن ختم کرلے۔ بظاہر ہمیں یہ بہت ہی مشکل اور ناممکن نظر آتاہے مگر یاد رکھئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نیک بندوں کو ایسی طاقت و قوت عطا فرمادیتا ہے کہ ان کےلیے وقت بھی رک جاتا ہے۔
مُفَسِّرِ شہیر حکیمُ الاُمَّت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت (سیّدنا)عثمانِ غنی(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے ایک رات میں ختمِ قرآن کیا ہے۔(حضرت سیّدنا)داؤد عَلَیْہِ السَّلَام چند منٹ میں زبور ختم کرلیتے تھے۔حضرت (سیّدنا)علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)گھوڑا کسنے سے پہلے ختمِ قرآن کرلیتے تھے۔مرقاۃ میں ہے: شیخ موسیٰ سدانی شیخ ابو مدین(شعیب الغوث مغزلی) کے اصحاب میں سے تھے ایک دن و رات میں ستر ہزار ختم کرلیتے تھے ایک دفعہ انہوں نے کعبہ معظمہ میں سنگ اسود چوم کر دروازہ کعبہ پر پہنچ کر ختمِ قرآن فرمالیا اور لوگوں نے ایک ایک حرف سنا۔ ([5])
مولائے کائنات، شیرِخدا حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بارے میں منقول ہے کہ آپ گھوڑے پر سوا رہوتے وقت ایک پاؤں رِکاب میں رکھتے اور قرآنِ مجید شروع کرتے اوردوسراپاؤں رِکاب میں رکھ کر گھوڑے کی زین پر بیٹھنے تک اتنی دیر میں ایک قرآنِ مجید ختم کرلیا کرتے تھے۔ ([6])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہولایت کے عالی رتبہ پر فائز ہونے اور ہزاروں خدام کے ہونے کے باوجود اپنے کام خود کرلىا کرتے تھے۔ کسى کام کو اس لىے نہ روکے رکھتے تھے کہ خادم آکر کرے گا بلکہ بعض اوقات خدام کى موجودگى مىں بھى اپنا کام خود کرلىا کرتے تھے۔ اىسى باتیں جن مىں تکبر پرستى کى جھلک نظر آتى آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو سخت ناپسند تھىں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاجزی بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بڑی نعمت ہے جو سعادت مند ہی پاتے ہیں۔ عاجزی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سرکارِ دوعالم،شفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا، اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کے عفو ودرگزر کی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے اور جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔“([7])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء سیدمحمد چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ کئی بے باک لوگ حضرت خواجہ بہاءالدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں گئے اور کچھ مانگا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے نہ دیا۔انھوں نے باہر جا کر بے ہودہ گالیاں دینا اور پتھر برسانا شروع کر دیے۔ حضرت شیخ بہاءالدین زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا :خانقاہ کا دروازہ بند کر دیا جائے۔حسبِ حکم دروازہ بند کر دیا گیامگر ان نالائقوں نے دروازے پر پتھروں کی بوچھاڑ کر دی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو جوش آیا تو انہیں بلا کر فرمایا : میں یہاں خود نہیں بیٹھا مجھے ایک کاملُ الوَقت ولی نے بٹھایا ہے جن کا نام شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہے ۔یہ سن کر سب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے قدموں میں گر گئے ۔([8])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ واقعہ سے حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حسنِ اخلاق اور صبر و تحمل کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس میں ہمارے لیے درس ہے کہ کوئی کتنی ہی سخت بات کہہ دے ہمیں صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہئے۔ اگر کبھی غصہ آ جائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے برداشت کرنا چاہئے۔اس عادت والے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّدنیا و آخرت میں بڑے بڑے مراتب و درجات عطا فرماتا ہے چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:
وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ۴،آل عمرٰن :۱۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبو ب ہیں ۔
[1] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۷۶ ملخصاً
[2] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۷۶ ملخصاً
[3] فواد الفوائد مترجم، پانچویں مجلس ، ص۶۲
[4] شانِ اولیاء، المعروف ہفتادِ اولیاء، ص۲۵۲ ملخصاً
[5] مراٰۃالمناجیح ، ۳/ ۲۷۰
[6] …شواہد النبوۃ، رکن سادس دربیان شواھد ودلایلی...الخ، ص۲۱۲
[7] صحیح مسلم، کتاب البر، باب استحباب العفووالتواضع، ص۱۳۹۷، حدیث: ۲۵۸۸
[8] فوائد الفواد مترجم، پانچویں مجلس، ص۱۲۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع