دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Baha Uddin Zakariya Multani | فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

book_icon
فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

بزرگوں کو طریقت کے چار یار بھی کہا جاتا ہے۔ ان حضرات نے سراندیپ، دہلی،  کشمیر، صوبہ سرحد(خیبر پختون خواہ)، بلخ، بخارا، کوہِ سلیمان اور سندھ کے مختلف علاقوں سکھر، سیہون، منگھوپیر اور ان کے مضافات کی طرف سفر فرمایا اور خلقِ خدا کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا۔([1])

کارکردگی

کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ادارے، تنظیم، فیکٹری وغیرہ کو کامیاب کرنے کے لیے ذمہ داران سے کارکردگی طلب کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ شجرِ اسلام کی آبیاری کےلیے قائم کیے گئے اس نظام کو کامیاب کرنےکے لیے شیخ الاسلام حضرت سیدنا بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسال کے اختتام  پر ایک تربیتی نشست کا اہتمام فرماتے جس میں مبلغین اور ذمہ داران حاضر ہوتے اور سال بھر کی کارکردگی پیش کرتے۔([2])

بیابانوں اور ویرانوں میں اسلام کیسے پہنچا؟

حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی سیرت سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کیسےمنظم طریقے پر دعوتِ اسلام کے لیے تربیت گاہیں قائم کیں اوراپنے مبلغین کواسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے کیسے کیسے خطرناک علاقوں، جنگلوں اور دیہاتوں میں بھیجا۔ یہ صوفیائے کرام ہی کی جاں سوز محنتوں کا نتیجہ ہے کہ بَرِّصَغیر پاک و ہند کے تاریک ترین علاقوں میں بھی اسلام کا پیغام پہنچا۔ خوفناک جنگلوں، دیہاتوں، تاریک غاروں اور پُرہَول بیابانوں میں پرچمِ اسلام لہرانے والے یہی صوفیائے کرام تھے۔  ([3])

معذوروں پر توجہ

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس قدر تدبر  سے انتظامات فرمائے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی کسی فرد واحد کا اتنے پہلوؤں سے خدمتِ دین و فلاح ِانسانیت کا انتظام کرنا مشکل ترین دکھائی دیتا ہے۔ رہائشی جامعہ، مسافر خانہ، درویشوں کی رہائش کا انتظام، سب کے لیے لنگر خانہ  وغیرہ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان سب کے ساتھ ساتھ نابینا، لنگڑے اور معذور افراد کے لیے محتاج خانہ بنا رکھا تھا جہاں انہیں کھانا اور ضروریاتِ زندگی فراہم کی جاتی تھیں، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہان کے علاج اور تربیت پر خاص توجہ فرماتے تھے۔([4])

دعوتِ اسلامی اولیا کا فیضان ہے

میٹھے میٹھے  اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول اولیائے کرام ہی کا فیضان ہے۔ اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے کرم و فضل اور اس کے نیک بندوں کے فیضانِ نظر سے شیخِ طریقت امیرِِ اہلسنّت، بانِی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے بھی دعوتِ اسلامی کو اسی نہج پر پروان چڑھایا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے تحت ملک و بیرون ملک ڈھیروں جامعات المدینہ، بے شمار مدارس المدینہ، تقریباً ہر شہر میں ہفتہ وار اجتماع، اندرون وبیرونِ ملک ۳دن، ۱۲دن،ایک ماہ  ، ۶۳دن، ۹۲دن اور ۱۲ماہ کے مدنی قافلے ، مختلف ممالک میں مختلف زبانوں میں اسلام کا پیغام عام کرنے کے لیے مبلغین کی تیاری اور انہیں عربی،انگلش اور دیگر زبانوں کی تربیت دینا، دنیا بھر میں علم دین کو عام کرنے کے لیے نہایت ہی سستے نرخوں پر کتب و رسائل مہیا کرنے کے لیے جگہ جگہ مکتبۃ المدینہ، قرآن و سنّت کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے علمی و تحقیقی شعبہ المدینۃالعلمیہ، تعلیماتِ اسلام کو دنیا بھر کی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لیے مجلسِ تراجم، دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات،  گلی گلی پیغام سنت پہنچانے کے لیے مسجد مسجد میں فیضانِ سنّت کا درس،دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے مدنی چینل، جیلوں میں قیدیوں کی اخلاقی و دینی تربیت کا اہتمام اور اس کے علاوہ کئی  شعبوں میں خدمتِ دینِ متین کا سلسلہ جاری ہے۔ ان شعبوں کی تفصیلی معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ”تعارفِ دعوتِ اسلامی“ کا مطالعہ فرمائیے۔

شیخ الاسلام کا ذریعہ معاش

شىخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو والدین کی طرف سے بہت بڑا خزانہ اور اراضی وراثت میں ملی تھی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تجارت اور زراعت کو اپنایا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا سامانِ تجارت سکھر، بھکر، ٹھٹھہ، دہلى، مرکز الاولیالاہوراور بیرونِ ممالک عراق، حجازِ مُقَدَّس، مصر، افغانستان، ایران اوردیگر دوسرے ممالک میں جاتا تھا۔ تجارت کرنے والے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مریدین، مُعتَمَد خُدَّام، درویش اور مبلغین ہوتے تھے۔ ان سب کو مبلغین کی طرح خاص ہدایت تھی کہ کم نفع پر بىچو اور دىانت دارى سےمعاملہ کرو۔ اس تجارت سے لاکھوں لاکھ آمدن ہوتی جو خالصۃً تبلیغِ دین میں خرچ ہوتی۔ زرعی اراضی سے آنے والی فصلوں اور ان کی آمدن بھی بے حساب تھی۔([5])

آپ کی عبادت و ریاضت  کا جدول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مقولہ ہے :اَلاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ یعنی استقامت کرامت سے بڑھ کر ہے ۔ شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی حیات مبارکہ کے روشن گوشوں سے استقامت کی کرنیں پھوٹ پھوٹ کر نکلتی ہیں۔ ہر رات مکمل قرآن شرىف کی تلاوت فرماتے، تا حیات نمازِ باجماعت کا التزام رکھا، روزانہ فجر، اشراق اور چاشت کى نمازوں کے بعد دىوان خانہ مىں مسندِ ارشاد پر جلوہ فرما ہوتے، اس وقت تمام علما اور مشائخ بالالتزام حاضر ہوتے اور سلوک و معرفت کے دَقائق حَل کرواتے، خدام تجارت، زراعت اور لنگر خانہ کے حسابات بىش کرتے اور آئندہ کی ہدایات پاتے، اسی دوران شہر اور مضافات کے غربا اور مساکىن پىش ہوتے اور ولی کی بارگاہ سے درہم و دىنار، اَجناس اور خلعتوں سے دامن بھرتے، دوپہر کو دولت خانے پر تشرىف لے جا کر کھانا تناول فرماتے اور جب روزے رکھتے تو لگاتار رکھتے۔خانگى امور بھى دوپہر کے وقت پىش ہوتے تھے، اس کے بعد تھوڑى دىر سنّتِ قىلولہ ادا فرماتے، نمازِ  ظہر مسجد میں باجماعت ادا فرماتے، اس کےبعدحُجرے مىں چلے جاتے اور کافى د ىر تک  اَورادو اَذکار مىں مصروف رہتے،  پھر نشست کا آغاز ہوتا اور اس مىں مدنی قافلوں کے ذمہ داران سے ملاقات ہوتی اور ان کى کارکردگی پیش ہوتی نیز تبلیغ میں درپیش مسائل حل کیے جاتے، طلبا بھی اپنے سوالات پیش کرتے اور ملفوظات کا خزانہ سمیٹتے،  اذانِ عصر ہوتی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسجد مىں تشرىف لے جاتے اور نمازِ باجماعت ادا فرماتے، نماز کے بعد مسجد ہی میں منبر پر جلوہ افروز ہوتے ،درسِ قرآ ن اور درسِ حدیث فرماتے، سامعىن کى تعداد بعض اوقات چالىس ہزار تک پہنچ جاتى، غروبِ آفتاب سے پہلے مضافات مىں چہل قدمی کے لىے تشرىف لے جاتے، نمازِ مغرب  باجماعت ادا کرنے کے بعد خَلوَت میں اَورادواَذکار مىں مصروف ہوجاتے، نمازِ عشا باجماعت ادا فرمانے کے بعدرات ڈىڑھ پہر تک عبادت مىں مصروف رہتے، اس کے بعد دولت خانہ مىں تشرىف لاتے اور کھانا تناوُل فرما کر تھوڑی دیر اِستِراحت فرماتے، بىدار ہو کر تہجد کی سعادت پاتے،نمازِ فجر تک تلاوت قرآنِ مجید سے لطف اٹھاتے۔ بعض اوقات اىک آہِ جگر دوز سنائی دیتی۔ایک رُباعی اکثر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زبان مبارک سے سننے میں آتی تھی:

درىادِ تو اے دوست چناں مدہوشم                 صد تىغ اگر بزنى سر نخروشم

آہے کہ بزغمِ بىادِ تو وقتِ سحر                      گر ہر دو جہاں د ہند واللہ نفروشم

 



[1]   تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی،  ص۱۸۹ ملخصاً

[2]   اللہ کے ولی،  ص۴۷۰ ملخصاً

[3]   اللہ کے ولی،  ص۴۷۰ ملخصاً

[4]   تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی،   ص۹۱ ملخصاً

[5]   تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی،   ص۷۶ ملخصاً

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن