30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملک کے گوشےگوشے سے لوگ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زیارت کے لئے آکر آپ کے وعظ و نصیحت سے مستفیض ہونے لگے ۔تھوڑے ہی عرصے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مریدوں کی تعدادکاٹھیا وار،پنجاب ،باب الاسلام سندھ اور دہلی تک پہنچ گئی۔ لاکھوں افراد نے فیوض و برکات پائے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عظىم الشان جامعہ، رَفىع ُالمَنزِلَت خانقاہ، وسىع و عرىض لنگر خانہ، پُر شکوہ اجتماع گاہ،خوبصور ت و عالىشان محل سَرائىں اور مَساجد تعمىر کروائىں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے دم قدم سے اس وقت کا مدینۃالاولیاملتان مدینۃ العلوم بن گیا۔ ([1])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عصر کی اذان سنتے ہی مسجد میں تشریف لا کر عصر کی نماز باجماعت ادا فرماتے۔ اس کے بعد منبر پر جلوہ اَفروزہوتے۔ قرآن وحدیث کا وعظ فرماتے ۔ اس موقعہ پر دور ونزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور بیان سنتے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی زبان میں ایسی تاثیر تھی کہ جو مسلمان سنتا ضرور متأثر ہوتا اور برے کام چھوڑ کر زہد و تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرلیتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی کوششوں سے دیگر مذاہب کے ہزاروں لوگ دینِ اسلام سےمشرف ہوئے۔([2])صاحب ِ شَوَاہِدُ النبوۃحضرت علامہ عبدالرحمٰن جامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے ہر روز ستر عالم و فاضل اِستفادہ کرتے تھے۔([3])
انٹرنیشنل اِسلامِک یونیورسٹی کا قیام
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا جامعہ ایک انٹرنیشنل اسلامک ىونىورسٹى کى حىثىت رکھتا تھا جس مىں جملہ اسلامی علوم کى تعلىم ہوتى تھى۔ بڑے بڑے لائق و فائق علما و اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، جو نہ صرف ہندوستان بلکہ بلادِ ایشیاء عراق، حجاز، شام تک سے آنے والے تشنگانِ علم کو فقہ واصولِ فقہ، حدیث و اصولِ حدىث، تفسیر و اصولِ تفسىر، صَرف ونَحَو، بلاغت، ادب و اِنشاء، فلسفہ، منطق، رىاضى اورہىئت جیسے علوم و فنون کے جام پلاتے تھے۔ جامعہ کا نظم ونسق براہِ راست خودشیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسنبھالتے تھے۔ جامعہ کے کئی ہزارطلبا اور دیگر آنے والے مریدین و معتقدین اور مسافروں کے لیے روزانہ کئی من لنگر تیار ہوتا۔ جامعہ کے طلباء کو کتب اور دیگر تعلیمی ضروریات مکمل طور پر مفت فراہم کی گئی تھیں۔ جبکہ ان کے قىام کے لىے کمرے بھی تعمیر کیے گئے۔ اس جامعہ اور دیگر فلاحی کاموں کے تمام کُلّى اور جُزوِى مَصارِف کى کفىل صرف اىک ہستى حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تھے۔ ارضِ ہند پر یوں باقاعدہ مفت تعلىمی سہولیات اور اىک عظىم الشان جامعہ کا قیام آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہی کے دور میں ہوا۔([4])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے جامعہ میں ایک شعبہ ”تخصص فی اللغۃ“بھی قائم فرمایاتھا۔ اس شعبہ میں فارغ التحصیل علما کو دیگر علاقوں میں تبلیغِ دین کا فریضہ انجام دینے کی تربیت دی جاتی یوں اس شعبہ میں مبلغین کی تربیت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مبلغین کے لیے ضروری تھا کہ جس ملک یا علاقے میں انہیں بھیجا جائے وہاں کی زبان اور معاشرتی رسم و رواج سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہوں تاکہ تبلیغِ اسلام کے دوران کسی قسم کی اَجنبیت کا سامنا نہ ہو۔ چنانچہ جس مبلغ کو جس ملک یا علاقے میں بھیجنا ہوتا اسے وہاں کی زبان سکھائی جاتی یعنی تخصص فی اللغۃ کروایا جاتا۔ شعبہ تخصص فی اللغۃ کے لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کئی ممالک سے ماہرین زبان و فن کو جمع کیا تھا۔ انہیں مَعقول اجارہ اور دیگر اِقامتی سہولیات فراہم کی تھیں۔ فارغُ التحصیل طلبا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ انہیں فرماتے: کیا تم فی سبیل اللہ اپنے رب کا پیغام عام کرنے کے لیے تیار ہو؟ اس طرح بہت سارے اپنے آپ کو وقفِ مدینہ(یعنی فی سبیل اللہ تبلیغِ دین کےلیے خود کو پیش ) کر دیتے۔ جس کو جس ملک یا علاقہ میں بھیجنا ہوتا وہاں کی زبان کی تربیت دےکر روانہ کر دیا جاتا۔([5])
جن علما کو تخصص فی اللغۃ کے بعد دوسرے ملکوں میں بھیجا جاتا تھا حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی ان کے استاد صاحب کو پانچ ہزار اشرفیاں دے کر فرماتے کہ اس ملک کے لیے ضروری اور مفید اشیاء شہر سے خرید کر جہاز میں رکھوا دیں اور مبلغین کو وقتِ روانگی دعاؤں سے نوازتے اور فرماتے:سامان کم منافع پر فروخت کرنا، لین دین کے ہر معاملے میں اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھنا، ناقص چیزیں فروخت نہ کرنا، خریداروں سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آنا، جب تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہوجائےا ن کے سامنے اسلامی تعلیمات پیش نہ کرنا۔ ([6])
اس طرح یہ نوجوان مبلغین ِاسلام جہازوں پر سامانِ تجارت لاد کر مدینۃ الاولیاملتان سے روانہ ہوجاتے اور جاوا، سماٹرا، فلپائن، اور چین کے علاقوں میں پہنچ کر اپنی دکانیں کھولتے جو کہ تبلیغِ اسلام کا مرکز ہوتیں۔ مقامی غیر مسلم آبادیوں کے ساتھ اسلامی اصولوں کی روشنی میں کاروبار کرتے اور جب ان سے قربت اور اعتماد حاصل ہوجاتا تو نظریۂ وحدانیت و رسالت سے ناآشنا لوگوں کے سامنے اسلام پیش کرتے۔ ان تبلیغی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کا خاطرخواہ نتیجہ برآمد ہوتا اور غیرمسلم حضرات، مبلغینِ اسلام کےحسنِ اخلاق، دینداری، خداترسی، دیانت داری اور معاملات کی صفائی دیکھ کر اسلام قبول کرلیتے۔ آج مشرقِ بعید کے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں جو مسلمان نظر آتے ہیں یہ ان ہی مبلغین تاجروں کی سعی ٔ مسلسل کا ثمرہ(نتیجہ) ہیں۔([7])
اندرونِ ملک مدنی قافلے اور تربیت گاہیں
بیرونِ ملک کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کا بھی خاص اہتمام کیا گیا تھا۔ جامعہ کے اندر باقاعدہ تربیت گاہ سے تربیت یافتہ مدنی قافلے ملک بھر میں سفر کرتے۔ اسی طرح ملک بھر میں کئی مقامات پر تربیت گاہیں بنائی گئی تھیں۔ کشمیر سے راس کماری تک اور گوادر سے بنگال تک مبلغین اور واعظین کے کئی قافلے اور باقاعدہ تربیت گاہیں مصروفِ تبلیغ ِ دین تھیں۔ حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے ملک بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے اور مخلوقِ خدا کی شرعی رہنمائی کرنے کے لیے دس دس میل کے فاصلے پر تربیت گاہیں قائم کیں جن میں علمائے کرام اور مبلغینِ اسلام کو مقرر فرمایا۔([8])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شیخ الاسلا م حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود تبلیغِ قرآن و سنّت کے لیے راہِ خدا میں سفر فرماتے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے شرکائے قافلہ میں اکثر اوقات حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ، حضرت سیّدنا عثمان مروندی لعل شہباز قلندر سہروردیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاورحضرت مخدوم سید جلال الدین حسین بن علی سرخ بخاری سہروردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہوتےتھے۔ان چار
[1] محفل اولیاء، ص۲۳۵، تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ، ص۱۶۶ملخصاً
[2] احوال و آثار حضرت بہاء الدین زکریاملتانی، ص۸۹
[3] نفحات الانس مترجم، ص۵۲۸
[4] ملتان اور سلسلہ سہروردیہ، ص۱۰۳ملخصاً، محفل اولیاء، ص۲۳۵ ملخصاً
[5] اللہ کے ولی، ص۴۶۸ ملخصاً
[6] ملتان اور سلسلۂ سہروردیہ، ص۱۰۴ ملخصاً، تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۷۱ ملخصاً
[7] اللہ کے ولی، ص۴۶۹
[8] اللہ کے ولی، ص۴۶۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع