30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عطا کردہ خرقے ہیں،یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے ہی دیے جاتے ہیں ۔میں تو ایک درمیانی واسطہ سے زیادہ کچھ نہیں ہوں اور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دے سکتا اور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت کا معاملہ تو تم رات دیکھ ہی چکے ہو۔([1])
شیخ الاسلام حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو خلافت ملنے پر کچھ مریدوں اور درویشوں کو بڑا رشک آیا کہ ہم ایک عرصے سے شیخ کی خدمت کر رہے ہیں اور بہاء الدین زکریا کو صرف سترہ دن میں خرقہ خلافت مل گیا ہے۔درویشوں کی یہ بات حضرت سیّدنا شہاب الدین سہروردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے نورِباطن سے جان لی اور درویشوں سے فرمایا: ’’مرید پر لازم ہے کہ وہ مرشد کے فیصلے سے اختلاف نہ کرے‘‘اور اپنے دل و دماغ کو اندیشوں کے غبار سے آلودہ نہ ہونے دے۔([2]) تم سب گیلی لکڑی کی مانند ہوجس پر آگ جلدی اثر نہیں کرتی اور اسے جلانے کے لیے شدید محنت درکار ہوتی ہے۔ جبکہ بہاءالدین سوکھی لکڑی کی طرح تھا کہ ایک ہی پھونک سےبھڑک اٹھا اور عشقِ الٰہی کی آگ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض لوگ پیرو مرشد کے ادب واحترام سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے ان پر اعتراض کر بیٹھتے ہیں یاد رکھئے ! یہ انتہائی خطرناک کام ہے چنانچہ
شیخ الشیوخ حضرت سیدنا شہاب الدین سہروردی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:پیر پر اعتراض کرنے سے ڈرنا چاہئے کہ یہ مریدوں کے لئے زہرِ قاتل ہے۔شايدہی کوئی مرید ہو جو پیر اعتراض کرنے کے باوجود فلاح پائے۔شیخ کےوہ تصرفات جو اسے سمجھ نہ آتے ہوں ان میں حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حضرت سیدنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کےساتھ پیش آنے والے واقعات یاد کرلے کیونکہ حضرت سیدنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام سے وہ باتیں صادر ہوتی تھیں بظاہر جن پر سخت اعتراض تھا (جیسے مسکینوں کی کشتی میں سوراخ کردینا، بچے کو قتل کردینا) پھر جب وہ اس کی وجہ بتاتے توظاہر ہوجاتا کہ حق یہی تھا جو انہوں نے کیا۔ یونہی مریدکو یقین رکھنا چاہئے کہ شیخ کا جو فعل مجھے صحیح معلوم نہیں ہوتا شیخ کے پاس اس کی صحت پر دلیل ِقطعی ہے۔([4])([5])
شیخ الاسلام حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکے چچا جان حضرت احمد غوث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے مخدوم عبدالرشید رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے خانقاہ کا نظم و نسق سنبھالااور کوٹ کروڑ سے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف منتقل ہو گئے ۔ ایک دن حضرت مخدوم عبدالرشید رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے والد ماجد حضرت احمد غوث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خواب میں دیکھاجو فرما رہے تھے: بیٹا چار دن بعد تمہارے چچازاد بھائی بہاءالدین زکریا دین و دنیا کی سعادتوں سے مالا مال ہو کر (مدینۃ الاولیاء)ملتان میں داخل ہوں گے تم ان سے اپنی ہمشیرہ کا نکاح بھی کر دینا اور مسند و خانقاہ کا سارا نظام ان کے سپر د کرکے خود حرمین شریفین روانہ ہوجانا۔([6])
حضرت بہاءالدین زکریا ملتانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب مدینۃالاولیاء ملتان شریف میں داخل ہوئے تو آپ کے چچازاد مخدوم عبدالرشید رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے شہر سے باہر آکر استقبال فرمایا۔ بعد ازا ں حکم پدری کے تمام جائیداداور مسند کے معاملات شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے کیے اور اپنی ہمشیرہ محترمہ” رشیدہ بانو “ کا نکاح آپ سے کیا اور خود حرمین شریفین روانہ ہوگئے۔([7])
شیخ الاسلام حضرت بہاءالدین زکریا ملتانیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہجب مدینۃ الاولیاء ملتان شریف جلوہ فرما ہوئے تو وہاں کے علماءو صوفیا نے بطور کنایہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ بھیجا ۔ مطلب یہ تھا کہ یہ شہر علماو صوفیا سے دودھ کے اس پیالے کی طرح بھرا ہوا ہے اور مزید گنجائش نہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس پیالے کے اوپر ایک گلاب کا پھول رکھ کر واپس بھیج دیا جس کا مطلب تھا کہ ہم یہاں اس گلاب کی طرح رہیں گے جو کسی پر بھاری اور تکلیف دہ نہ ہوگا ہاں البتہ خوشبو ضرور دے گا۔ اکابر ملتان آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اس ادا پرحیران رہ گئے اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے معتقد ہو گئے ([8])
شىخ الاسلام حضرت بہا ء الدىن زکرىاملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دروىشى کے ستر ہزار علوم طے کرکےان پر اپنے عمل کو حدِ کمال تک پہنچادىا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکواتنى روحانى قوت حاصل ہوچکى تھى کہ اگر آسمان کى جانب نظر اٹھاتےتو عظمتِ عظىم بے حجاب مشاہدہ کرتے اور اگر زمىن پر نظر کرتے تو تَحتَ الثَرى تک کى چىزىں دکھائى دىنے لگتىں، باىں ہمہ وہ بارہا فرماتے تھے کہ دروىشى کا مرتبہ اس سے بھى ارفع و اعلىٰ ہے، اگر کہہ ڈالوں تو سننے والوں کا زَہرہ آب (یعنی خوف و دہشت طاری)ہوجائے، ىہ تو دروىشى کا ادنىٰ درجہ ہے۔([9])
حضرت شیخ بہاء الدین زکریاسہروردیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور بابا فریدالدین مسعود گنج شکرچشتیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قریبی تعلقات تھے۔ ایک دوسرے سے ملاقات کے ساتھ ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ بھی رہتا تھا ۔حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک روز میں نے حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو خط لکھنا چاہا۔سوچا آپ کو کس لقب سے مخاطب کروں؟ اتنے میں لوحِ محفوظ پرنظر پڑی وہاں آپ کا لقب” شیخ الاسلام“لکھا دیکھاچنانچہ یہی لقب لکھ دیا۔ ([10])
حضرت شیخ بہاءالدین زکریاملتانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آمد سے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ایک عظیم روحانی وعلمی انقلاب برپا ہوا۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مدینۃالاولیاملتان شریف میں سلسلۂ سہروردیہ کاآغاز فرمایا۔
[1] خزینۃ الاصفیاء، ۴/۳۹ ملخصاً ، محفلِ اولیاء، ص۲۳۴ملخصاً، اللہ کے خاص بندے، ص۵۴۱ ملخصاً
[2] اللہ کے ولی، ص۴۱۲ ملخصاً
[3] گلزار ابرار، ص۵۶ ملخصاً ، فوائد الفواد ، ص ۱۱۴ ملخصاً ، تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ، ص۱۴۳ملخصاً
[4] عوارف المعارف، الباب الثانی عشر فی شرح خرقۃ المشائخ الصوفية، ص۶۲
[5] پیرو مرشد کے ادب و احترام اور طریقت کی معرفت کے لیے مکتبۃ المدینہ کے رسائل”پیر پر اعتراض منع ہے“ ” کامل مرید“ اور ”جامع شرائط پیر“ کا مطالعہ فرمائیے۔
[6] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۶۰
[7] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۶۲، اللہ کے ولی، ص۴۲۰ ملخصاً
[8] اخبار الاخیار، ص۲۷، محفلِ اولیاء، ص۲۳۵ ملخصاً
[9] تذکرہ حضرت بہاء الدىن زکرىا ملتانى، ص۲۴۳
[10] گلزار ابرار، ص۵۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع