30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت کمال الدین علی شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پانچویں صدی ہجری میں سلطان محمود غزنوی کے ساتھ مدینۃ الاولیاءملتان تشریف لائے۔ کچھ عرصہ یہاں قیام کے بعد سلطان محمود غزنوی نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کوٹ کروڑ([1]) کا قاضی مقرر فرمایا۔آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے شیخ جلال الدین،اور پھر پوتے شیخ ابوبکر قاضی کے منصب پر فائز ہوئے۔پھر حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے والدِ بزرگوار حضرت مولانا وجیہہ الدین محمد غوث قاضی مقرر ہوئے۔ اسی عرصے میں شیخ الاسلام بہاؤ الدىن زَکَرىا ملتانى قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے نانا مولانا حسام الدىن ترمذى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھى اپنے وطن سے آ کر کوٹ کروڑ مىں آباد ہو گئے۔ ([2])
شیخ الاسلام حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی مادرزاد ولی تھے۔ بزرگی کے آثار تو وقتِ ولادت ہی پیشانی پر ہُویدا(ظاہر) تھے۔ منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بچپن میں بھی رمضان المبارک میں دن کے وقت دودھ نہ پیتے تھے۔([3]) آثار و علاماتِ ولایت بچپن ہی سے ظاہر ہونے لگی تھیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے والِدِ ماجد حضرت وجیہہ الدین محمدغوث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آپ کے پاس تلاوتِ قرآنِ کریم کرتے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ماں کا دودھ چھوڑ کر تلاوت کی طرف متوجہ ہو جاتے۔گویا قرآن سُن رہے ہوں۔ ([4])
ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآنِ کریم
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے جب ہوش سنبھالا تو والدِ ماجد نے مکتب میں داخل
کرادیا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی تعلیم و تربیت کے لیے مولانا نصیرالدین بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی خدمات حاصل کیں۔ خداداد صلاحیتوں اور کریم استاد کی شفقتوں سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے سات یا بارہ سال کی عمر میں ہی مکمل قرآن پاک قرأتِ سَبعہ کےساتھ حفظ فرمالیا۔پھر مقامی اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا۔ان میں ایک نام مولانا عبدالرشید کرمانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا لیا جاتا ہے ۔([5])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ابھی والد صاحب کی شفقتوں میں ۱۲ بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ ۵۷۷ھ میں ان کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ گیا۔ عَمِّ محترم حضرت شیخ احمد غوث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے سر پر والد ماجد کی دستار باندھی اور آباءواَجداد کی مَسنَد پر بٹھا کرخانقاہ کے سارے انتظامات آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے سپرد کردیے۔ ([6])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے دل میں علمِ دین حاصل کرنے کا جذبہ تھا یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے چچاجان کو سارے انتظامات سنبھالنے کی التجا کی اور خود علم دین حاصل کرنے کے لئے اجازت چاہی ۔ چچاجان نے اپنے بھتیجے کوگلے لگایا اور فرمایا: یہ سِیم وزَر(سونے چاندی) کے چند سکے تمہاری پہچان نہیں، تمہارا تخت مَسندِ علم ہے اور تمہارا تاج دستارِ فضیلت ہےاور یہی تمہاری شناخت ہے۔([7])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! حضرت شیخ بہاء الدین زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے چچا نے کس طرح اپنے بھتیجے کے طلبِ علمِ دین کے جذبے کو سراہا اور بخوشی انہیں علمِ دین حاصل کرنے کے لئے اجازت عطا فرمادی ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی اولاد یا جو ہماری سرپرستی میں ہوں انہیں علم دین حاصل کرنے کا ذہن دیں اور جو علم دین حاصل کرنے کا ذوق شوق رکھتے ہوں ان کی حوصلہ افزائی بھی کریں ۔فی زمانہ بہت سے لوگ اپنی اولاد کو سنّتوں بھرے مدنی ماحول کے قریب نہیں آنے دیتے ،کبھی مدنی قافلے میں سفر سے منع کرتے ہیں تو کبھی ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت پر ناراضی کا اظہارکرتے ہیں۔ایسے لوگ اس واقعے سے عبرت حاصل کریں چنانچہ
مَدَنی ماحول سے روکا تو ہیروئنچی بن گیا
ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ(حیدر آباد،بابُ الاسلام پاکستان) کا ایک نوجوان غالِبًا 1988ء میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوا۔ نَمازوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ چہرے پر داڑھی شریف سجالی،سر پرعِمامہ شریف اپنی بہاریں دکھانے لگا۔اُس نے مدرَسۃُ المدینہ(بالِغان)میں پڑھنابھی شُروع کردیا۔اُس کا تعلُّق ایک ماڈَرن اور امیر گھرانے سے تھا،گھر والوں کو اُس کی زندگی میں آنے والا مَدَنی انقِلاب سمجھ میں نہ آیا چُنانچِہ اس کی مُخالَفت شُروع ہوگئی،طرح طرح سے اُس کی دل آزاریاں کی جاتیں،سنّتوں پر چلنے کی راہ میں رُکاوٹیں کھڑی کی جاتیں اور دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا۔وہ کبھی کبھار بے بس ہوکر فریاد کرتا کہ مجھے اس مَدَنی ماحول سے دُور نہ کرو ورنہ پچھتاؤگے،مگر اُس کی کسی نے نہ سُنی۔مخالَفت کا یہ سلسلہ تقریبًاتین سال تک چلتا رہابِالآخِرتنگ آ کر اُس نے گھر والوں کے سامنے ہتھیارڈال دئیے اور داڑھی شریف مُنڈوا کر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کو ’’ خیر آباد‘‘ کہہ دیا۔بڑے بھائی چُونکہ ڈاکٹر تھے اِس لئے اِسے بھی ڈاکٹر بننے کے لئے سردار آباد (پنجاب،پاکستان) کے ایک میڈیکل کالج میں داخِل کروادیا گیا۔جہاں وہ ہاسٹل (اِقامت گاہ)میں بُری صحبت کی نُحوستوں کا شکار ہوکر چَرَس پینے لگا اور سخت بیمار ہوگیا،گھر والے اُسے واپَس حیدر آباد لے آئے۔ والِدصاحِب نے علاج پر لاکھوں روپے خرچ کرڈالے مگر نہ صحتیاب ہوا نہ ہی سُدھرا بلکہ اب وہ ہیروئن کا نَشہ کرنے لگا۔کثرت سے نشہ کرنے کی وجہ سے وہ سُوکھ کر کانٹاہو گیا،دانتوں کی سفیدی غائِب ہوکر ان پر کالک کی تہ چڑھ گئی اور اب تادمِ تحریر اُس کی حالت پاگلوں کی سی ہوچکی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت سے اب والِد صاحِب دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوچکے ہیں،اور بے چارے بَہُت پچھتارہے ہیں کہ کاش ! اُس وقت مجھے دعوتِ اسلامی کی اَہَمِّیَّت سمجھ میں آ جاتی اور میں اپنے بیٹے کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے دُور نہ کرتاتو شایدآج مجھے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔مگر ’’ اب پچھتائے کیا ہوت جب چِڑیاں چُگ گئیں کھیت۔‘‘ اللہ تعالٰی اُس نوجوان کو نشے کی عادتِ بد چھوڑ کر پھر سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے! آپ کا پیارا بیٹا،آپ کے جگر کاٹکڑا اور اپنی امّی کی آنکھوں کا تاراہی سہی لیکن یہ مت بھولئے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندہ،اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا اُمَّتی اور اسلامی مُعاشَرے کا ایک فرد ہے۔اگر آپ کی تربیَّت اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دُرُست طریقے پر عبادت،سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتیں اور اسلامی مُعاشَرے میں اس کی ذمّے داری نہ سکھا سکی تو اُسے اپنا اطاعت گزار فرزند دیکھنے کے سنہرے خواب بھی مت دیکھئے کیونکہ یہ اسلام ہی تو ہے جو ایک مسلمان کو اپنے والِدَین کی اطاعت اوران کے حُقُوق کی بجا آوَری کا درس دیتا ہے۔دیکھا یہ گیا ہے کہ جب اَولادکی تربیَّت سے غفلت کے اثرات سامنے آتے ہیں تویِہی والِدَین ہرکَس وناکس کے سامنے اپنی اولاد کے بگڑنے کا رَونا روتے دکھائی دیتے ہیں،انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ اولاد کو اس حال تک پہنچانے میں خودان کا اپنا ہی ہاتھ ہے۔انہوں نے اپنے بچے کو ABC بولنا تو سکھایا مگر قراٰن پڑھنا نہ سکھایا،مغرِبی تہذیب کے طور طریقے تو سمجھائے مگررسولِ عَرَبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی سنتّیں نہ سکھائیں، جنرل نالج(معلوماتِ عامہ)کی اَہمِّیَّت پر تواس کے سامنے گھنٹوں لیکچر دیئے مگر فرض دینی عُلوم کے حُصُول کی رَغبت نہ
[1] یہ وہ قلعہ ہے جسے سلطان محمود غزنوی نےہند میں سب سے پہلے فتح کیا تھا۔گلزارِ ابرار، ص۵۵
[2] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۲۹ تا۳۵ ملخصاً، اللہ کے ولی، ص۴۰۲
[3] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۴۰، اللہ کے ولی، ص۴۰۲ ملخصاً
[4] تذکرہ اولیائےپاک و ہند، ص۳۶، تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۴۰، اللہ کےخاص بندے، ص۵۴۰، اللہ کے ولی، ص۴۰۳ ملخصاً
[5] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۴۱، تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ، ص۱۴۲
[6] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۴۱ملخصاً، تذکرہ اولیائےپاک و ہند، ص۳۶ ملخصاً
[7] اللہ کے ولی، ص۴۰۴، ۴۰۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع