دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Baha Uddin Zakariya Multani | فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

book_icon
فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

کو بیٹھتے نہیں دیکھا ۔([1])

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                            صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سب کے ساتھ روزہ افطار کیا

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تھا۔ مسلمان اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّکی طرف سے آئے ہوئے مہمان مہینے کی خوب برکتیں لوٹ رہے تھے۔ ایک آدمی حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی خانقاہ میں آیا اور معجزات و کرامات پر اعتراض اور انکار کرنے لگا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے سمجھایا مگر وہ اپنی ضد پر ڈٹا رہا۔ معجزات و کرامات پر دلائل پیش کرنے اور میٹھے بول سے سمجھانے کے باوجود جب وہ مسلسل انکار ہی کرتا رہا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو جلال آگیا اور فرمایا: آج تم اور تمہارے مصاحب ہمارے ساتھ روزہ افطار کریں گے۔  اس کے بعد ایک خادم کو حکم فرمایا کہ شہر بھر میں اعلان کردو کہ ہر کوئی اپنے گھر پر رہے آج ہم ان کے  ساتھ افطار کریں گے۔ وہ شخص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی اس بات پر حیران وششدر بیٹھا تھا۔ جب افطار کا وقت ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کے ساتھ افطاری فرمائی اور نماز مغرب کے لیے تشریف لے گئے۔ بعد میں جب اس آدمی نے تحقیق کروائی توپتا چلا کہ ہر کوئی یہ کہہ رہا تھا  کہ حضرت نے ہمارے ساتھ افطاری فرمائی ہے۔([2])

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                            صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

وفات

۷ صفر ۶۶۱ھ  مطابق ۲۱دسمبر۱۲۶۲ءکی بات ہے ، شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاپنے حُجرے میں محوِ یادِخدا تھے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بڑے صاحبزادے حضرت شیخ صدرالدین عارف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحجرے کے باہر تشریف فرما تھے۔ اچانک ایک نیک صورت بزرگ تشریف لائے اور شیخ صدرالدین عارف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو ایک خط دیتے ہوئے فرمایا: بیٹا یہ بڑا اہم خط ہے اپنے والدِ گرامی کو دے دو۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہوالد ماجد کی اجازت سے حجرے میں داخل ہوئےا ور خط دے کر واپس آگئے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ آواز آئی:”وَصَلَ الْحَبِیْبُ اِلَی الْحَبِیْب“ دوست دوست سے مل گیا۔ ىہ آواز سنتے ہى شىخ صدر الدىن عارف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حجرے مىں داخل ہوئے تو دیکھا کہ شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔([3])

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                            صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مزار فیض الانوار

مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کا وصال ہوا اوراسی شہر میں قلعہ محمد بن قاسم کے آخر میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کا مزار پُر انوار زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ باب الاسلام سندھ سے بھی مریدین و معتقدین کے قافلے پا پیادہ حاضر ہوتے ہیں۔

خلفاء

شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی بارگاہ سے کئی ہستیوں نے خلافت پائی جن میں سے چند ایک کے اسمائے گرامی یہ ہیں:حضرت مخدوم سید جلال الدین حسین بن علی سرخ  پوش بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی، نواب الاولیاء شیخ محمد موسیٰ نواب سہروردی قریشی ہاشمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ،صاحب نزہۃ الارواح امیر حسینی سادات ہروی، صاحبِ لمعات شیخ فخرالدین  ابراہیم عراقی، خواجہ حسن افغان، سلطان التارکین شیخ حمید الدین حاکم، شیخ کبیر الدین عراقی،  خواجہ کمال الدین مسعود شیروانی، خواجہ فخر الدین گیلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ  ۔ ([4])

اولاد امجاد

شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے دو عقد فرمائے۔ دونوں حرموں سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے سات شہزادے اور تین شہزادیاں عطا فرمائیں۔ صاحبزادگان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

شیخ صدرالدین عارف، شیخ قطب الدین، شیخ شمس الدین، شیخ شہاب الدین، شیخ علاءالدین یحییٰ، شیخ برہان الدین قمر، شیخ ضیاءالدین حامداور شہزادیوں میں سے ایک حضرت شرف الدین بو علی قلندر پانی پتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد ماجد کے عَقد میں تھیں، دوسری حضرت سلطان حمید الدین حاکم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے عَقد میں تھیں۔([5]) 

تصنیف و تالیف

٭ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے کئی کتابیں بھی تصنیف فرمائیں۔ ” اوراد “ کے متعلق آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اسی نام سے رسالہ تحریر فرمایا ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کے ایک مرید مولانا علی بن احمد غوری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے”کنزالعباد“کے نام سے اس کی مَبسوط شرح فرمائی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اعتکاف کےآداب و شرائط پر ایک رسالہ ”شروطِ اربعین“تصنیف فرمایا تھا۔ ([6])   

بہاؤالدين زکريا کی  قدم بوسی کا حکم

                 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ 24،25مارچ1988 ؁ حیدرا ٓبا د(باب الاسلام سندھ) ميں دعوتِ اسلامی کا دو روزہ عظيم الشان سنّتوں بھراجتماع ہوا۔اجتماع کے اختتام پرحسبِ معمول اميراَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعا سے قبل اپنے مخصوص و منفرد انداز پر’’ تصوُّرِ مدينہ ‘‘کرايا۔يہ نہايت ہی پُر کيف گھڑياں ہوتی ہيں۔اس وقت رَحمتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چھَما چَھم بارش ہوتی ہے اوربعض اوقات کئی خوش نصیب عُشَّاق کی نگاہوں کے پردے اُٹھا دئیے جاتے ہیں ۔کوئی مدينے جاپہنچتا ہے تو کوئی خوش نصيب تاجدارِ مدينہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدار سے مشرّف ہوجاتا ہے ۔چنانچہ اس سنّتوں بھرے اجتماع ميں موجود ايک نابينا حافظِ قرآن بھی دورانِ تصورِ مدينہ،شہرِ مدينہ جا پہنچے، حافظ صاحب کا بيان ہے کہ مجھے اچھی طرح يہ حدیثِ پاک معلوم ہے کہ ہمارے پيارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمايا ہے :’’جو جان بُوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے‘‘اس حدیثِ مبارَکہ کو پيش نظر رکھتے ہوئے حلفيہ کہتا ہوں کہ دورانِ تصورِ مدينہ مجھ پر غنودگی طاری ہوئی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مجھے مدينہ شريف کی زيارت نصيب  ہوئی اور ميں سنہری جاليوں کے رو برو حاضر ہوا۔وہاں مجھے ايک نور نظر آياپھر ميں نے مَحسوس کيا کہ ہمارے دلوں کے چين ،سرورِ کونين صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلوہ افروز ہيں اور مجھ سے فرما رہے ہيں، يہ آواز مجھے واضح سنائی دے رہی تھی:’’محمد الياس قادری کو ميرا سلام کہنا ‘‘اور اس کو ميرا يہ پيغام دينا کہ ۸ ،۹ شَوَّالُ الْمُکَرَّم۱۴۰۸ھ کو وہ ملتان ميں تبليغ کريں اور يہ بھی کہنا کہ غوث بہاؤالدين زکريا  ملتانی (رحمۃ اللہ تعالٰی عليہ)کی قدم بوسی کریں۔ہم بے کسوں کے مددگار،با ذنِ پروردگاردوعالم کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانِ حَق تَرجمان سے ميں نے



[1]   احوال و آثار حضرت بہاءالدین زکریاملتانی،  ص۹۷، اللّٰہ  کے ولی ، ص۴۲۶

[2]   احوال و آثار حضرت بہاءالدین زکریاملتانی،  ص۱۶۶،  اللّٰہ  کے ولی ، ص۴۶۰

[3]   سیرت بہاءالدین زکریا،  ص۱۸۹ملخصاً، تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریاملتانی، ص۳۰۱ ملخصاً

[4]   تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ،  ص۱۴۷ وغیرہ

[5]   ملتان اور سلسلۂ سہروردیہ،  ص۱۱۰

[6]   تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریاملتانی ،  ص۲۶۹تا ۲۷۹ملتقطاً

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن