30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(جیسے اپنے اہل و عیال اور دیگر لوگوں ) کو کھلا یا اور پہنا یا تو اس کا یہ عمل اس کے لئے برکت و پاکیزگی ہے ۔([1]) ہمیں ہمیشہ حلال روزی کمانا، کھانا اور کِھلانا چاہیےاور لقمۂ حلال کی تو کیا ہی بات ہے چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا اِمام محمد غَزَالیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قَول نَقل کرتے ہیں:” مسلمان جب حَلال کھانے کا پہلا لُقْمہ کھاتا ہے ، اُس کے پچھلے گُناہ مُعاف کردئیے جاتے ہیں۔اور جو شخص طَلَبِ حلال کیلئے رُسوائی کے مقام پر جاتا ہے اُس کے گناہ دَرَخت کے پتّوں کی طرح جَھڑتے ہیں۔“([2])
حضرت سیّدناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہےحضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا :جس نے دنیا میں حرام طریقے سے مال کمایا اور اسے ناحق جگہ خرچ کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ذلت و حقارت کے گھر (یعنی جہنم) میں داخل کردے گا ۔([3])مُکاشَفَۃُ الْقُلوب میں ہے:آدَمی کے پیٹ میں جب لقمۂ حرام پڑا تو زمین و آسمان کا ہر فِرِشتہ اُس پر لعنت کرےگا جب تک اس کے پیٹ میں رہے گا اور اگر اسی حالت میں(یعنی پیٹ میں حرام لقمے کی موجودگی میں)موت آ گئی تو داخِل جہنَّم ہو گا۔ ([4])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :ذوقِ عبادت اس حد تک ہونا چاہیے کہ کسی صورت بھی نمازِ باجماعت کی فضیلت کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ جب اعمال و عبادات پر مُداوَمَت ہوجائے گی تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اخلاقِ حسنہ کی توفیق بھی میسر ہو جائے گی۔ اخلاق حسنہ کی پیروی ہی سے تزکیۂ نفس ممکن ہے۔ ([5]) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے تھے: مجھے جو کچھ بھی حاصل ہوا نماز سے حاصل ہوا ۔میں نے ہر وہ نماز پڑھی ہے جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے ادا فرمائی۔ ([6])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! شیخ بہاء الدین زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکونماز سے کیسا شَغَف تھا۔یاد رکھئے ! دینِ اِسْلام میں جو اَہمیَّت نَماز کوحاصِل ہے وہ کسی اور عِبادَت کو حاصِل نہیں۔نَماز اَرْکانِ اِسْلام میں سے ایک اَہَمّ تَرین رُکْن ہے۔قُرآن وحَدِیْث میں نَماز کی فرضیت و اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، چُنانچہ پارہ۵ ، سُوۡرَۃُ النِّسَاء کی آیت نمبر ۱۰۳ میں اِرْشاد ہوتاہے :
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳)
ترجمہ کنزالایمان :بے شک نماز ایمان والوں پر فرض ہے، وقت باندھا ہوا
کثیر احادیث میں نماز پڑھنے کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے، ترغیب کے لئے2 احادیث پیش کی جاتی ہیں :
(1)…حضرت سیّدناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:ایک صاحب نے عرض کی:یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اسلام میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا:وقت میں نماز پڑھنا اور جس نے نماز چھوڑی اس کا کوئی دین نہیں ، نماز دین کا ستون ہے۔([7])
(2)…حضرت سیّدناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضورپُرنور، شافعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’سب سے پہلے قیامت کے دن بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی ٹھیک رہیں گے اور یہ بگڑی تو سبھی بگڑے۔([8])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو بغض و کینہ سے سخت نفرت تھی۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اگر تمہارا بدترین دشمن بھی حق پر ہو تو اس کے بارے میں سچے الفاظ اور سچی بات کرو اور ذاتی عناد سے کسی کے کردار کو گندہ نہ کرو۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :طالبِ صادق کےلیے لازم ہے کہ خَلوَت اور گوشہ نشینی اختیار کرے۔ شب بیداری کی عادت ڈالے اور کم کھانے کو معمول بنالے، ہمیشہ پاک و صاف رہے، نشست و برخاست میں ہمیشہ قبلہ رو رہے اور خود کو زیادہ سے زیادہ نماز، تلاوتِ قرآنِ پاک اور ذکر اللہ میں مشغول رکھے۔ ([9])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نصیحت فرماتے کہ ہر شخص پر لازم ہے صدق و اِخلاص کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرے۔ بِلا ضرورت نہ کوئی بات ہو نہ کام اور ہر قول و فعل سے پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف اِلتجاو تَضَرُّع (یعنی آہ و زاری )ہو اوراسی سے اِمداد ہو تاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔([10])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ ہمیشہ ذکرِ الٰہی میں مشغول رہو کیونکہ ذکر سے طالب اپنے مطلوب تک پہنچتا ہے اور محبت ایسی آگ ہے جو ہر قسم کےمیل کچیل کو جلا ڈالتی ہے اور جب محبت مستحکم ہو جاتی ہے تو ذکر مشاہدہ کے ساتھ ہوتا ہے اور یہی وہ ذکر کثیر ہے جس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فلاح وکامیابی کا وعدہ فرمایا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
[1] الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الرضاع، باب النفقۃ، ذکر کتبۃ اللہ جلّ وعلا الصدقۃ للمنفق۔۔ الخ، ۴/۲۱۸، حدیث: ۴۲۲۲
[2] احیاء العلوم، کتاب الحلال و الحرام، الباب الاول فی فضیلۃ الحلال۔۔۔الخ، ۲/۱۱۶
[3] شعب الایمان، الثامن والثلاثون من شعب الایمان، ۴/۳۹۶، حدیث: ۵۵۲۷ ملتقطا
[4] مکاشَفَۃُ القُلوب، الباب الاول فی بیان الخوف، ص ۱۰
[5] تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ، ص۱۴۸
[6] فوائد الفواد ، پانچویں مجلس ، ص۶۳
[7] شعب الایمان، باب الحادی والعشرون من شعب الایمان الخ، ۳/۳۹، حدیث: ۲۸۰۷
[8] معجم اوسط، باب العین، من اسمہ علی، ۳/۳۲، حدیث: ۳۷۸۲
[9] تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ، ص۱۴۸
[10] اخبار الاخیار، ص۲۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع