30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیک بندے کا احترام کرنا چاہئے، ہمیں کیا معلوم کہ کون گدڑی کا لعل(یعنی چُھپا وَلی)ہے۔
تین چیزیں تین چیزوں میں پوشیدہ ہیں
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، فقیہِ اعظم، مولیٰنا ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نَقْل فرماتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو تین چیزوں میں پوشیدہ رکھا ہے (۱)اپنی رِضا کو اپنی اطاعت میں اور(۲)اپنی ناراضگی کو نافرمانی میں اور (۳)اپنے اولیا کو اپنے بندوں میں۔‘‘ ([1]) تو ہر اطاعت اور ہر نیکی کو عمل میں لانا چاہئے کہ معلوم نہیں کس نیکی پر وہ راضی ہو جائے گااورہر بدی سے بچنا چاہئے کیونکہ معلوم نہیں کہ وہ کس بدی پر ناراض ہو جائےخواہ وہ بَدی کیسی ہی صغیر (چھوٹی ) ہومَثَلاً کسی کی لکڑی کا خِلال کرنا ایک معمولی سی بات ہے یا کسی ہمسایہ کی مٹّی سے اس کی اجازت کے بِغیر ہاتھ دھونا گویا ایک چھوٹی سی بات ہے مگر چُونکہ ہمیں معلوم نہیں۔ اس لئے ممکِن ہے کہ اس برائی میں حق تعالیٰ کی ناراضگی مَخفی ہو تو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی بچنا چاہئے۔([2])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت خواجہ قُطبُ الدىن بختىار کاکى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاقِیجب مدینۃالاولیاء ملتان شریف تشریف لائے توحاکمِ وقت ناصرالدین قباچہ نے خواجہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مدینۃ الاولیاءملتان مىں قىام کى درخواست پیش کی تو حضرت خواجہ قطب الدىن بختىار کاکىعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاقِی نےفرماىا:(مدینۃ الاولیاء) ملتان برادرم بہاءالدین کی تحویل میں دیا جاچکا ہے ہم یہاں کیسے رہ سکتے ہیں۔([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے پیارے آقا ،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ طیبہ کا ایک حسین باب بزرگوں کے ادب و احترام کی تعلیم دینااور بچوں سے پیار کرنا بھی ہے چنانچہ
سرکارِ مدینہ، فیضِ گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’جو نوجوان کسی بزرگ کے سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے اس کی عزت کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے کسی کو مقرر کردیتا ہے جو اس نوجوان کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرے گا۔‘‘([4])
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’اے اَنَس ! بڑوں کا ادب و احترام اور تعظیم وتوقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو ، تم جنت میں میری رَفاقت پالو گے۔‘‘([5])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے ملفوظات ان کی مَدَنی سوچ کے ترجمان ہوتے ہیں جن سے سُننے والوں کو شریعت وطریقت کے آداب معلوم ہوتے ہیں۔نیکیوں کی رغبت بڑھتی اور گناہوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔حضرت شیخ غوث بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے علم و حکمت بھرے ملفوظات بھی ہمارے لئے رہنمائی کا سر چشمہ ہیں اور عوام وخواص کے لئے معلومات کا اَنمول خزانہ ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اِن ملفوظات کو پڑھنے ، یاد رکھنے اور اِن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جو شخص تصوف کی دنیا میں داخل ہونے کا آرزو مند ہو اسے چاہیے کہ سونے سے پہلے توبہ کرے اور اپنے دل کو عاداتِ ذمیمہ(بُری عادتوں) سے پاک کرے۔ حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین عمر سہروردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے قول کے مطابق وہ عاداتِ ذمیمہ یہ ہیں: غِل(یعنی بغض و کینہ)، غَش(دھوکہ)، حِقد(عَدوات)، حسد، حرص، کِبر(تکبر)، بُغض، رِیا اور غضب۔ شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی (قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی) نے فرمایا ہے کہ جب تک آدمی دل کو ان اَوصاف ذَمیمہ سے پاک نہ کرلے، گلیم (گِ-لِ-ی-م)یعنی کمبل اور صوف پہننا روا نہیں۔([6])
حضرت بابا فرید الدین مسعودگنج شکر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں اور بَرادرَم بہاءالدین یکجا بیٹھے تھے۔ زہد کے بارے میں بات چل نکلی۔ شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی نے فرمایا: زہد تین چیزوں کا نام ہے جس میں یہ نہیں اسے زاہد کہلانے کا حق نہیں:
٭…دنیا کو پہچاننا اور اس سے مایوس ہونا
٭…مولا کی خدمت کرنا اور اس کے حقوق کی نگہداشت کرنا
٭…آخرت کی طلب اور اس کے حصول میں لگاتار کوشاں رہنا ۔([7])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مرىدوں کو اکثر ىہ نصىحت فرماتے تھے، اپنے بىوى بچوں کو رزقِ حلال کھلاؤ، اگر ذرا برابر بھى ناجائز اور حرام کمائى کسى نے اپنى زوجہ و اولاد کو کھلائى تو ان کے اندر بھى حرام رزق کى تاثىر پىدا ہوجائے گى۔ آدمى حرام کارى کے کام وَلَدُالحرام ہونے کى وجہ سے ہى نہىں کرتابلکہ بیشتر حرام کاری رزق ِ حرام کے کھانے سے جنم لیتی ہے اس لیے رزقِ طیّب کا حصول اور تلاش جاری رکھنی چاہئے۔
حضرت سیدنا ابو سعیدخُدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے:رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص نے حلال کمایاپھر اسے خود کھایا یا اس کمائی سے لباس پہنا اور اپنے علاوہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی دیگر مخلو ق
[1] تنبیہ المغترین، الباب الاول، خوفھم مماللعبادعلیھم ، ص۵۸
[2] اَخلاقُ الصالحین، ص ٦٠
[3] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص ۶۴
[4] ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی اجلال الکبیر، ۳/۴۱۱، حدیث:۲۰۲۹
[5] شعب الایمان، الخامس والسبعون من شعب الایمان ، ۷/۴۵۸، حدیث:۱۰۹۸۱
[6] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۱۴۲
[7] تذکرہ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی، ص۱۴۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع