30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب تلک یہ چاند تارے جھلملاتے جائیں گے
تب تلک جشنِ وِلادت ہم مناتے جائیں گے
چَراغاں کے لئے لائٹنگ کب کھولی جائے اور کب بند کی جائے؟
سُوال : میں میلاد کمیٹی کا وائس (یعنی نائب)چیئر مین ہوں۔ یہ اِرشاد فرمائیے کہ عیدمیلادُ النبی کے سلسلے میں جو لائٹنگ کی جاتی ہے یہ کتنے بجے کھولنی چاہیے اور کتنے بجے بند کردینی چاہیے؟ (عمران ہارون طیب۔ چاکیواڑہ ، کراچی)
جواب : مَاشَآءَ اللہ۔ اللہ کریم آپ کو بَرکت دے۔ شریعت کے مُطابِق خُوب چَراغاں کریں۔ بتّیاں جَلانے کا ایک عُرف ہوتا ہےکہ جب اندھیرا ہوجائے تو لوگ بتّی جَلاتے ہیں ، تو جشنِ وِلادت کی لائٹنگ بھی اُسی وقت کھولی جائے جب اندھیرا ہوجائے اور جب تک لوگوں کی چہل پہل جاری ہے ، لوگ دیکھنے لئے آتے رہیں اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے رہیں تب تک جَلا کر رکھیں ، جب چہل پہل ختم ہوجائے تو بند کردیں۔ شروع کے دِنوں میں شاید جلدی چہل پہل ختم ہوجائے گی اور جب ہفتہ کا دِن آئے تو چُونکہ اگلے دِن چھٹی ہوتی ہے ، اِس لئے ہوسکتا ہے کہ چَراغاں دیکھنے کےلئے زِیادہ چہل پہل رہے۔ بَہَرحال! جیسا موقع ہو اُس کے حِساب سے ترکیب بنائی جائے۔ جب چہل پہل ختم ہوجائے تو سانس بعد میں لیں ، پہلے بتّیاں بند کردیں ، ورنہ ہوسکتا ہے کہ یہ اِسراف میں آجائے۔
ہمارے ہاں دِن دَہاڑے بھی بتّیاں جَل رہی ہوتی ہیں اور لوگوں کا لاکھوں روپے کا چندہ برباد ہورہا ہوتا ہے۔ ابھی بھلے کوئی دیکھنے والا نہیں ہے ، بجلی کا مِیٹر تیزی سے بھاگ رہا ہے اور لوگوں کے چندے کے پیسے پی رہا ہے ، لیکن آخرت میں کیا جواب دو گے!! لائٹیں لگانے والے صاحب رات کو جاگتے ہیں اور جب فجر کا ٹائم آتا ہے تو سونے چلے جاتے ہیں ، حالانکہ نَمازی ، نَماز کے لئے مسجد جارہے ہوتے ہیں۔ سب کو نَماز کی بھی پابندی کرنی ہے۔ خالی دَرو دیوار نہیں سجانے ، اپنے دِلوں کو بھی سجانا ہے اور سینے کو بھی مدینہ بنانا ہے۔ عشقِ رسول صرف بتّیاں جَلانے کا نام نہیں ہے ، نَماز بھی پڑھنی ہے ، سُنّتوں پر بھی عمل کرنا ہے اور مسلمانوں کو تکلیف سے بھی بچانا ہے ، نیز کسی کاچندہ ضائع نہیں کرنا ، نہ ہی اِسراف اور فضول خرچی سے کام لینا ہے۔ خُوب چَراغاں کریں ، لیکن شریعت کے مُطابِق اور گُناہوں سے بچ کر کریں۔ اللہ کرے دِل میں اُتَر جائے میری بات۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع