30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناگہانی طور پر ’’تیز دھار والاآلہ‘‘ اوپر سے گرا اور ان کے خالو کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اسی طرح کسی ظاہری بیماری یا سبب کے بِغیر والدبھی اچانک انتقال کر گئے اوروالدہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں ۔ اسی کشمکش اور اذیّت میں 8سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ اسی دوران یہ گھرانا دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیااور تمام گھر والے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مُرید ہوکر عطاری بن گئے۔
ایک دن انکے رشتہ دار نے کسی عامل سے رابطہ کیا جس نے گھرمیں آکر جیسے ہی بھائی کے سامنے فتیلہ(یعنی دھونی کا دھاگہ) جلایاایک جنّ انتہائی غصے کے عالم میں ظاہر ہوا۔ اور غضبناک انداز میں اس عامل کو اٹھا کر اس زور سے دیوارپر ماراکہ کافی دیر وہ بیہوش رہاپھر ہوش آنے پربھاگ کھڑا ہُوا۔اب وہ جنّ دیگر اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی غرض سے خوفناک انداز میں بڑھا توگھر والے خوف کے مارے چیخنے لگے مگر بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔اچانک وہ رُکااور دروازے کی طرف چُندھیائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اور’’کسی سے‘‘ سلسلۂ کلام شروع کیا۔گھر والے آنکھیں پھاڑپھاڑ کر دیکھ رہے تھے کہ یہ کس سے باتیں کر رہا ہے؟ مگر آنے والی ہستی نظر نہیں آرہی تھی۔ جنّ(جسے شاید وہ ہستی نظر آرہی تھی) بولاکون ہو تم؟ الیاس قادری(دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ) … اچھا …’’پیر‘‘ ہو ان کے! ہاں ، ہاں مجھے ان کے فُلاں رشتے دار نے بھیجا ہے…(شاید امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ رُوحانی طور پر ہماری مدد کیلئے تشریف لائے تھے اوراُس سے سُوالات پوچھتے جارہے تھے جس کے وہ جنّ جوابات دے رہا تھا)ہاں ان کے خالو کو میں نے قتل کیا ہے ، وغیر ہ وغیرہ۔ اِس طرح وہ سرکش جنّ اپنے سیاہ کارناموں کی رُوداد سنارہا تھا۔ ( پھرامیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے غالباً اُس سے اُس کا مذہب دریافت فرمایا)جس پراُس نے بتایا کہ میں غیر مسلم ہوں ۔ ( پھر ایسا لگا جیسے اُسے سمجھایا جارہا ہو اوروہ خاموشی سے سنتا جارہا ہوپھر اس میں نرمی آتی گئی)امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مَدَنی مٹھاس سے تربتر دعوتِ اسلام سے متاثر ہو کر دیکھتے ہی دیکھتے وہ غیر مسلم جنّ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا اورکہنے لگا،مجھے اپنا مرید بھی بنالیں ۔ پھر وہ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہاتھ پر مُرید ہوکر عطاری بن گیا اور چلے جانے کا وعدہ بھی کرلیا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یوں ہمیں اس خوفناک صورتحال سے نَجَات ملی اور بھائی کی طبیعت بھی بالکل دُرُست ہوگئی ،بہرحال وقتی طور پر گھر میں اَمْن قائم ہوگیا اور اہل خانہ نے سکھ کا سانس لیا۔ اگلے دن رات کے آخری پَہر ایک انتہائی خوفناک چیخ کی آواز سے سب گھر والوں کی آنکھ کھل گئی۔دیکھا تو بڑے بھائی بستر پر بیٹھے تھے اور ان کا پورا جسم بُری طرح کانپ رہا تھا۔انہوں نے انتہائی خوف کے عالم میں بتایا کہ ابھی میں نے بہت ہی بھیانک خواب دیکھا کہ خوفناک شکلوں والے جِنّات کا ایک ٹولہ بڑی تیزی کے ساتھ چلا آرہا ہے جوانتہائی غضبناک ہیں اور انتقام لینے کے ارادے سے بڑھ رہے ہیں ،آگے آگے جو جِنّ چل رہا تھا وہ مُغَلَّظات بک رہا تھااور کہہ رہا تھا کہ تمہارے سارے گھر والوں کو ختْم کردوں گا۔ تمہارے الیاس قادری (دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ) کو بھی دیکھ لوں گا۔ بدھ کو عصْر کے بعد میں پہنچوں گا،تم میں سے کسی کوبھی نہیں چھوڑوں گا۔
یہ سن کر تمام اَہلِ خانہ خوفزدہ ہوگئے۔ منگل کادن جیسے تیسے گزر گیا۔ گھر والے انتہائی شش و پنج میں تھے کہ کیا کریں ۔ صبح کو بڑے بھائی نے بتایا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ رات خواب میں مجھے غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زیارت ہوئی اور غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا، گھبراؤ مت ان شآء اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کچھ نہیں ہوگا،وہ جِنّات تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ان شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں خود آؤں گا۔ بڑے بھائی نے جب یہ خواب سنایا تو سارے گھر والوں کی ڈھارس بندھی ۔خوشی خوشی سارے گھر کو سجانے کے ساتھ خوشبوؤں سے بھی مَہکا دیا۔
بدھ کے روز عَصْر کی نماز کے بعد گھر میں ہم سب جمع ہوگئے۔چھوٹا بھائی بے سُدھ پڑا ہوا تھا۔ اچانک اس میں جِنّ ظاہِر ہوااوروہ اُٹھ کھڑا ہوا اور خوفناک آواز کے ساتھ مُغَلَّظات بکتا ہوا گھر میں موجود لوگوں کی طرف خطرناک ارادے سے بڑھا،ہم سب خوفزدہ تھے مگر فِرار کی راہیں مسدود تھیں ، کیونکہ باہر نکلنے کے دروازے تک پہنچنے کیلئے جنّ کی طرف سے گزر ے بِغیر چارہ نہیں تھا۔ اچانک اس غضبناک جنّ کارخ بیرونی دروازے کی طرف ہوگیا اور ایسا لگا جیسا کوئی آیا ہو۔ جنّ گرجا، اچھا تم ہو الیاس قادری،تم ہی نے میرے بھائی کو مسلمان کیا ہے ؟یہ کہہ کر وہ غصّے میں بپھرکر پہلے تو دروازے کی طرف لپکامگر پھر ٹھٹھک کر رک گیااور کہنے لگا : یہ تم نے ہاتھ کیوں باندھ لئے ! کیا تمہارا غوث(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) آنے والا ہے، دیکھ لوں گا اسے بھی۔‘‘ یہ کہہ کروہ دانت پیستا ہوا جیسے ہی بُرے ارادے سے آگے بڑھا تواچانک ہوا میں اُچھلا اور بُری طرح سے زمین پر آ گرا۔ ایسا لگا جیسے اس خوفناک جنّ کو کسی نے اُٹھا کر پچھاڑ دیا ہو،اب وہ چِت پڑا تڑپ رہا تھا، اس نے اپنی آنکھوں پر اس انداز میں ہاتھ رکھے ہوئے تھے جیسے بہت تیز روشنیاں اُس پر پڑرہی ہوں ۔وہ بڑا بے چین اور اذیّت میں لگ رہا تھا۔پھر وہ بُری طرح اچھلنے اور تڑپنے لگا ، ایسا مَحسوس ہوتا تھا کہ اس کے جسْم میں آگ لگی ہوئی ہو۔ سارے گھر کے افراد مل کر بارگاہِ غوثیت میں یا غَوث المدد، یا غَوث المدد کی صدائیں بُلند کر رہے تھے ۔ غیر مسلم جن کی خوفناک چیخیں بُلند ہوتی جارہی تھیں ۔ جو جنّ کچھ دیر پہلے گرج رہا تھا ، اب فریادیں کر رہا تھا معافیاں مانگ رہا تھا، مجھے معاف کردو، مجھے چھوڑ دو، مجھے مت جلاؤ،میں چلاجاؤں گا،آئندہ کبھی نہیں آؤنگا،میں جل رہا ہوں مجھے چھوڑ دو۔ اس طرح وہ تڑپتا رہا اورایسا لگا جیسے بالآخِر اس سرکش غیر مسلم جنّ کوغوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جَلادیا ہو۔ چھوٹا بھائی بے سُدھ ہو کر زمین پر گر پڑا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس کے بعد سے اس گھر میں اَمْن قائم ہوگیا۔ اور چھوٹے بھائی کوبھی اس جنّ سے نَجات مل گئی اور دوبارہ اب تک ظاہر نہیں ہوا ہے۔
صلّوا علٰی الْحبیب! صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد
جِنّات میں مختلِف مَذاہِب بھی ہوتے ہیں ، مسلمان، ہندو، عیسائی، یَہودی ، رافِضی ہر طرح کے ہوتے ہیں ، پکّے سُنّی جِنّ بھی ہوتے ہیں ، بُزرگوں کی بارگاہوں میں حاضِریاں بھی دیتے ہیں ۔ مُکلّف جِنّات کیلئے جَزا و سَزا بھی ہے،کافِر جِنّ ہمیشہ جہنّم میں رہیں گے۔ مسلمان جنّات جَنَّت اور دوزخ کے درمیان ایک مَقام ہے ’’اَعْراف‘‘ اُس میں رہیں گے ۔