30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آڑھتی اور کسان کے درمیان پیش آنے والے قرض کے مسائل
سوال نمبر:9
کچھ آڑھتی کسان کوقرض کے علاوہ ٹیوب ویل کے لیے پیٹرول ،ڈیزل اور کاشتکاری کے لیے بیج،مختلف قسم کی کھاداورفصل کی حفاظت کی ادویات ادھار بیچتے ہیں اور ان چیزوں کی قیمت اپنے پاس لکھ لیتے ہیں اور یہاں بھی مختلف شرطیں ہوتی ہیں،مثلاً کسان اپنی پیداوار اسی آڑھتی کو بیچے گا،اسی کے ذریعے بکوائے گا،مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر فروخت کرے گایا زیادہ آڑھت دے کر بکوائے گا وغیرہ ۔توکیا آڑھتی کا مذکورہ چیزیں بیچتے وقت اس طرح کی شرائط لگانا درست ہے؟
جواب:
آڑھتی کا کسان کوپیٹرول،ڈیزل،بیج اور کھاد وغیرہ بیچتے وقت اس طرح کی شرائط لگانا کہ’’ کسان اپنی پیداوار اسی آڑھتی کو بیچے گایااسی کے ذریعے بکوائے گایامارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر فروخت کرے گایا زیادہ آڑھت دے کر بکوائے گا وغیرہ ‘‘تویہ بھی جائز نہیں ہے ،بلکہ ان شرائط کی وجہ سے مذکورہ اشیاء کی خریدوفروخت بھی ناجائز و فاسد ہو جاتی ہے ،کیونکہ یہ شرائط مقتضائے عقد کے خلاف ہیں(یعنی خریدوفروخت والامعاہدہ/ایگریمنٹ ان شرائط کا تقاضا نہیں کرتا)اوران کی وجہ سے عاقدین یعنی معاہدہ/ایگریمنٹ کرنے والوں میں سے کسی ایک (یعنی آڑھتی ) کا فائدہ بھی ہےاوران پر عُرف بھی جاری نہیں اور ایسی شرائط کی وجہ سے عقد فاسد ہوجاتا ہے،نیز عاقدین گنہگار ہوتے ہیں اورگناہ کو ختم کرنے کے لیے اس عقد کو ختم کرنا بھی واجب ہوتا ہے جب تک مبیع، مشتری کے پاس موجود ہو۔
خریدوفروخت میں فاسد شرط لگانے سے منع کیا گیا ہے۔چنانچہ معجم الاوسط للطبرانی میں ہے:’’ نهى عن بيع وشرط ‘‘ ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع اور شرط سے منع فرمایا ہے ۔
(المعجم الاوسط،جلد4،صفحہ 335، دار الحرمین ،قاھرہ)
فاسد شرائط کی تفصیل کے بارے میں تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:’’ والاصل فيه ان كل شرط لا يقتضيه العقد وهو غير ملائم له ولم يرد الشرع بجوازه ولم يجر التعامل فيه وفيه منفعة لاهل الاستحقاق مفسد ‘‘ترجمہ:اورقاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ شرط جس کا عقد تقاضا نہیں کرتا اور نہ وہ اس کے لائق ،نہ شریعت میں اس کا جواز وارد اور نہ لوگوں کا اس میں تعامل ہواور اس میں اہل استحقاق (مثلا بائع یامشتری )میں سے کسی ایک کا نفع ہو، تو ایسی شرط بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔
(تبیین الحقائق،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،جلد4،صفحہ57،مطبوعہ ملتان)
اور فاسدمعاہدے/ایگریمنٹ کی وجہ سے عاقدین گنہگار ہوتے ہیں،لہذا اس کو ختم کرنا ضروری ہے۔چنانچہ العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:’’ ويجب على كل واحد منهماای من البائع والمشتري فسخه قبل القبض او بعده ما دام فی يد المشتری اعداما للفساد،لانه معصية،فيجب رفعها ‘‘ترجمہ:بائع اور مشتری دونوں میں سے ہر ایک کےلیے(مبیع پر)قبضہ کرنے سے پہلے اور قبضہ کے بعد بھی جب تک مبیع خریدار کے پاس ہو ،بیع فاسدکوختم کرنا ضروری ہے،تاکہ فساد ختم ہو جائے،کیونکہ عقد ِ فاسد کرنا گناہ ہے،لہذا اس کو ختم کرنا واجب ہے ۔ ( العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،جلد2،صفحہ120، دار المعرفہ ،بیروت )
سوال نمبر:10
بہت سے آڑھتی کسان کو قرض دیتےاور مختلف قسم کی اشیاء ادھار بیچتے وقت یہ بھی طے کرتے ہیں کہ کسان فصل تیار ہونے پر قرض یاادھار بیچی گئی اشیاء کی قیمت کے ساتھ تین ،چار،پانچ یا چھ فیصد تک کمیشن بھی ادا کرے گااور کمیشن لینے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق فصل کی ایک قیمت طے کر لی جاتی ہے،مثلاً: اگر دس لاکھ طے ہوتی ہے،تو آڑھتی دس لاکھ میں سے اولاً تین سے چھ فیصد تک اپنا کمیشن رکھتا ہے،پھر قرض اور ادھار بیچی گئی اشیاء کی قیمت وصول کر کے بقیہ رقم فصل کی قیمت کے طور پر کسان کو دے دیتا ہےاور فصل خود رکھ لیتا ہے۔یوں آڑھتی کا قرض اور ادھار بیچی گئی اشیاء کی قیمت کے علاوہ کمیشن لینا کیسا ہے؟
جواب:
پوچھی گئی صورت میں آڑھتی کا کسان کو قرض دیتے وقت یا مختلف اشیاء بیچتے وقت یہ طے کرنا کہ’’ کسان آڑھتی کو قرض اور اشیاء کی قیمت کے علاوہ مخصوص کمیشن بھی ادا کرے گا‘‘یہ سخت ناجائز، حرام اور گناہ ہے،کیونکہ قرض دے کر اس پر کمیشن کے نام پہ رقم حاصل کرنابھی قرض پر نفع حاصل کرنا ہے اور قرض کی وجہ سے جو بھی نفع حاصل کیا جائے، وہ سود ہوتا ہے۔
اور اشیاء بیچتےوقت کمیشن لینے کی شرط لگانافاسد شرط ہے اور شرطِ فاسد کی وجہ سےعقد(معاہدہ
/ایگریمنٹ) فاسداور ناجائز ہوتا ہے،جس کی وجہ سے عاقدین یعنی معاہدہ/ایگریمنٹ کرنے والے گنہگار ہوتے ہیں اورایسےعقد کو توڑنا شرعاًواجب ہے،جیسا کہ اوپر تفصیل کے ساتھ یہ(قرض پر نفع لینے اور خریدوفروخت میں فاسد شرائط لگانے کے) مسائل بیان ہوچکے۔
کمیشن کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں آڑھتی خود گندم خرید رہاہوتا ہےاور جو شخص خود کوئی چیز خرید یا بیچ رہا ہو،تو اس کے لیے سامنے والے سے کمیشن وصول کرنا ،جائز نہیں ہوتا۔اس کو یوں سمجھئے کہ ایک شخص بازار سے کوئی چیز خریدنے جاتا ہے،جب وہ چیز خرید لیتا ہے،تو جس طرح یہاں خریدنے والے کا بیچنے والے سے بیچی جانے والی چیزکے علاوہ کسی قسم کا کمیشن وصول کرنا، یونہی بیچنے والے کا خریدنے والے سے بیچی جانے والی چیز کی قیمت کے علاوہ کسی قسم کا کمیشن وصول کرنا،جائز نہیں ہوتا،بالکل اسی طرح یہاں آڑھتی کا کسان سے کمیشن وصول کرنا،ناجائز اورصریح ظلم ہے۔
بیچنے والے یا خریدنے والے کا دوسرے فریق سے کمیشن وصول کرنا ،جائز نہیں ہے،چنانچہ فتاوی شامی میں ہے:’’ ولیس لہ اخذ شیء من المشتری ،لانہ ھو العاقد حقیقۃً شرح وھبانیہ وظاھرہ انہ لا یعتبر العرف ھنا ،لانہ لا وجہ لہ ‘‘ترجمہ:اور بیچنے والے کے لیے خریدنے والے سے(چیز کی قیمت کے علاوہ ) کچھ بھی وصول کرنا ،جائز نہیں ہے،کیونکہ حقیقت میں وہی عقد کرنے والا ہے اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہاں عرف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا،کیونکہ یہاں عرف کا اعتبار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ( فتاوی شامی،جلد4،صفحہ560،دار الفکر ،بیروت )
سوال نمبر:11
کچھ افراد کسانوں کو بیج ،کھاد اور فصل کی حفاظت کی دوائیں بیچتے وقت کوئی شرط نہیں لگاتے اور نہ ہی وہ گندم خریدنے اور بیچنے کا کام کرتے ہیں ،ان کا کام فقط اتنا ہوتا ہے کہ وہ کسانوں کی ضرورت کی اشیاء انہیں ادھا ربیچتے ہیں۔البتہ ادھار خریدوفروخت کی وجہ سے مارکیٹ سے زیادہ ریٹ لگاتے ہیں؟کیا ادھار کی وجہ سے چیز کاریٹ زیادہ مقرر کیا جا سکتا ہے،یہ سود تو نہیں ہے؟
جواب:
ادھار خریدو فروخت میں چیز کا ریٹ نقد کے مقابلے میں زیادہ مقرر کرنا، جائز ہے، مثلاً: ایک چیز بازار سے نقد ہزار روپے کی ملتی ہے اور اسی چیز کو کوئی شخص ادھارگیارہ سویا بارہ سومیں فروخت کرتاہے،تو یہ جائز ہے۔کئی لوگ کم علمی کی وجہ سے اسے سود سمجھتے ہیں ،حالانکہ یہ سود نہیں،کیونکہ سود، معاہدے میں طے کی گئی اُس زیادتی کو کہتے ہیں،جو عوض سے خالی ہو اور یہاں ایسی کوئی زیادتی نہیں ہےجو عوض سے خالی ہو،اگر یہاں نقد کے مقابلے میں ریٹ زیادہ ہے،تووہ تمام نفسِ مبیع ،یعنی بیچی جانے والی چیز کی قیمت ہے،قیمت سے ہٹ کراور کوئی چیز نہیں اور شریعتِ مطہرہ کی جانب سے اپنی چیز سے نفع کمانے کی کوئی حد مقرر نہیں،جھوٹ اور دھوکے سے کام لیے بغیر بندہ جتناچاہے نفع کما سکتا ہے ،کیونکہ ہر شخص اپنی چیز کا مالک ہوتاہے،جتنے کی چاہے بیچے،خریدار کی مرضی وہ خریدے یا نہ خریدے،لہذا اگر کوئی شخص شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی چیز نقد کے مقابلے میں ادھارمہنگی بیچتا ہے،تو اس میں شرعا ً کوئی حرج نہیں ہے۔
البتہ ادھار خریدو فروخت میں چند چیزوں کا لحاظ بہت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ شروع میں ہی طے کر لیا جائے کہ سود ا نقد ہے یا ادھار، دوسری یہ کہ ادھار کی صورت میں قیمت کی ایک مقدار اور اس کی ادائیگی کی مدت معلوم و مقرر ہو۔ تیسری یہ کہ کوئی ناجائز شرط بھی نہ ہو، مثلاً: مقرر کردہ مدت سے تاخیر کی صورت میں جرمانہ وغیرہ کی شرط نہ ہو۔ ان چیزوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اگر کوئی ادھار خریدو فروخت کی صورت میں قیمت زیادہ مقرر کرتا ہے،تو یہ جائز ہے۔
باہم رضا مندی سے جتنی بھی قیمت طے ہو جائے،اتنے میں اپنی چیز بیچ سکتے ہیں ۔چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوالَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْباطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ﴾ ترجمہ:اے ایمان والو !آپس میں ایک دوسرے کے مال نا حق نہ کھاؤ،مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو ۔ ( پارہ5،سورۃ النساء،آیت29 )
دررالحکام شرح غرر الاحکام اور فتاوی شامی میں ہے:’’ لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ‘‘
ترجمہ:اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ایک ہزار روپے کے بدلے میں بیچا ، تویہ جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں ۔
(فتاوی شامی،کتاب الکفالہ،مطلب فی بیع العینہ،جلد7،صفحہ655،مطبوعہ پشاور)
اپنی چیز سے زیادہ نفع لینے کے بارے میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا:”جب غلہ بازار میں نقدوں 16 سیر کا ہو ، تو قرضوں 15 یا 12 سیر کا بیچنا جائزہے یا حرام یامکروہ؟“ تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا:”یہ فعل اگر چہ نرخ بازار سے کیساہی تفاوت ہو حرام یا ناجائز نہیں کہ وہ مشتری پر جبر نہیں کرتا ، نہ اسے دھوکا دیتا ہے اور اپنے مال کاہر شخص کو اختیارہے ،چا ہے کوڑی کی چیز ہزار روپیہ کودے،مشتری کو غرض ہو، لے، ( غرض )نہ ہو ، نہ لے ۔ “
( فتاوی رضویہ ، جلد 17 ، صفحہ 97تا98 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )
اور اس خریدوفروخت میں کن چیزوں کا لحاظ ضروری ہے،اس بارے میں صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:” بیع میں ثمن کا معین کرنا ضروری ہے ۔ در مختار میں ہے:’’ و شرط لصحتہ معرفۃ قدرمبیع وثمن ‘‘اور جب ثمن معین کر دیا جائے ، تو بیع چاہے نقد ہو یا ادھار، سب جائز ہے ۔ اسی میں ہے: و صح بثمن حال و مؤجل الی معلوم ‘‘اور یہ بھی ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کو کم یا زیادہ، جس قیمت پر مناسب جانے ، بیع کرے ،تھوڑا نفع لے یا زیادہ ، شرع سے اس کی ممانعت نہیں ، مگر صورت مسئولہ میں یہ ضرور ہے کہ نقد یا ادھار دونوں سے ایک صورت کو معین کر کے بیع کرے اور اگر معین نہ کیا ، یونہی مجمل رکھا کہ نقد اتنے کو اور ادھار اتنے کو ، تو یہ بیع فاسد ہوگی اور ایسا کرنا ، جائز نہ ہوگا ۔ “
( فتاوی امجدیہ ، جلد 3 ، صفحہ 181 ، مکتبہ رضویہ ، کراچی )
نقد اور ادھار کی صورت میں چیز کا ریٹ مختلف ہونا سود میں شامل نہیں ہے۔چنانچہ فتح القدیر میں ہے: ” ان كون الثمن على تقدير النقد ألفا وعلى تقدير النسيئة ألفين ليس في معنى الربا “ ترجمہ:کسی چیز کی قیمت نقد کی صورت میں ایک ہزار اور ادھار کی صورت میں دو ہزار ہو ، تو یہ سود کی صورت نہیں ہے ۔
( فتح القدیر ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، جلد 6 ، صفحہ 447 ، دار الفکر )
سود کی تعریف کے بارے میں ہدایہ میں ہے:” الربا ھو الفضل المستحق لاحد العاقدین فی المعاوضۃ الخالی عن عوض شرط فیہ “ترجمہ: سود عاقدین میں سے کسی ایک کے لیے عقد معاوضہ میں ثابت ہونے والی اس مشروط زیادتی کو کہتے ہیں، جو عوض سے خالی ہو۔
(ھدایہ، جلد 3 ،صفحہ 82،مطبوعہ لاھور)
نوٹ:اپنی چیز سے نفع کمانے کی شریعت میں اگرچہ کوئی حد مقرر نہیں ہے،لیکن اس میں بھی ہمیشہ لوگوں کی خیر خواہی پیشِ نظر ہونی چاہیے اور اُنہیں مناسب داموں میں چیز فروخت کرنی چاہیے، بالخصوص جب وہ چیز ضرورت کی ہو اور مہنگی ملنے کی صورت میں لوگوں کو مشکل پیش آتی ہو۔دین خیر خواہی کا نام ہے اور لوگوں کو مناسب قیمت پر اشیاء بیچنا بھی ان کے ساتھ ایک طرح کی خیر خواہی ہے۔
سوال نمبر:12
بعض اوقات کسان کو رقم کی ضرورت ہوتی ہےاور وہ آڑھتی کے پاس رقم لینے کے لیے جاتاہے،تو آڑھتی اسے یوں کہتا ہے کہ آپ رقم لینے کے بجائے مجھ سےاجناس،مثلاً گندم اورچاول وغیرہ میں سے کوئی چیز خرید لو اور اسے مارکیٹ میں فروخت کر کے رقم حاصل کر لو اور اتنی مدت بعد مجھے قیمت لوٹا دینا،پھر کسان آڑھتی سے وہ چیز خرید لیتا ہے۔خریدوفروخت کے بعد بعض اوقات کسان خریدی ہوئی چیز مارکیٹ میں بیچ دیتا ہے اور بعض اوقات جلدی کے پیشِ نظر اسی آڑھتی کو نقد فروخت کر دیتا ہے،لیکن آڑھتی پہلے کی بنسبت کم قیمت میں چیز خریدتا ہے۔کیا آڑھتی اپنی قیمت وصول کرنے سے پہلے کم قیمت میں چیز خرید سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
سوال میں دو صورتیں بیان ہوئی ہیں ،لہذا ذیل میں دونوں کا الگ الگ حکم بیان کیا جاتا ہے:
(١) پہلی صورت یہ ہے کہ کسان آڑھتی سے جنس مثلاً: گندم اور چاول وغیرہ ادھار خرید لیتا ہے اور پھر مارکیٹ میں کسی اور کو نقد بیچ کر حاصل ہونے والی رقم سے ضرورت پوری کر لیتا ہے، تو یہ صورت بالکل جائز ہے،البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ جب آڑھتی سے ادھار جنس خریدے تو اس کی قیمت بھی متعین ہو جائے اورقیمت ادا کرنے کی مدت بھی طے ہو جائے۔ نیزجنس پر قبضہ کرنے کے بعد ہی مارکیٹ میں کسی کو فروخت کرے۔قبضے سے پہلے بیچنا جائز نہیں۔
(٢) دوسری صورت یہ ہے کہ کسان آڑھتی سے جنس ادھار خرید تا ہے اور پھراسی کو نقد فروخت کر دیتا ہے ۔اس کا حکم یہ ہے کہ اگر آڑھتی سے ادھار خریدتےوقت چیز کی قیمت اورادھار کی مدت معین ہوجاتی ہےاور یہ شرط نہیں رکھی جاتی کہ آڑھتی واپس خریدے گا،تو یہ پہلا معاہدہ/ ایگریمنٹ تو درست ہو جاتا ہے ،لیکن بعد میں جب وہی چیز آڑھتی واپس خریدتا ہے تو کم قیمت میں واپس خریدتا ہے، تو یوں کم قیمت میں واپس خرید لینا حرام و گناہ ہے،کیونکہ قیمت وصول کرنے سے پہلے اپنی بیچی ہوئی چیز بعینہ واپس خریدی جائےاور قیمت بھی سابقہ قیمت کی جنس میں سے ہو(مثلا اگر پہلے سونے کے بدلے خریداری ہوئی تھی اور اب بھی سونے کے بدلے ہے یا پہلے کرنسی نوٹوں کے بدلے خریداری تھی اور اب بھی کرنسی نوٹوں کے بدلے میں ہے۔)اور اس چیز میں کوئی کمی یا نقص بھی نہیں آیا، تواب پہلے سے کم قیمت میں نقد خرید لینا شرعاً جائز نہیں ہوتا کہ یہ حدیث و فقہ کی اصطلاح میں ’’ ربح مالم یضمن ‘‘یعنی ایسی چیز پر نفع ہے،جو اس کے ضمان میں نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نفع سے منع فرمایا ہے ،کیونکہ جب آڑھتی نے کسان کو ادھارمثلاً:ایک لاکھ میں کوئی چیز فروخت کی اور ثمن پر قبضہ کرنے سے پہلےوہی چیزمثلاً:پچانوے ہزار میں دوبارہ خرید لی،تو اسے پانچ ہزار کا نفع ہوا اور یہ نفع اسی ایک لاکھ کی وجہ سے ہوا،جس پر آڑھتی نے ابھی تک قبضہ نہیں کیا اورایسا نفع سود ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے ۔
کسان سے واپس خریدتے وقت اگر آڑھتی پہلے جتنی یا ا س سے زیادہ قیمت میں واپس خریدے،تو یہ صورت جائز ہو جائے گی۔لیکن واضح رہے کہ یہاں بھی یہ ضروری ہے کہ کسان ادھار خریدنے کے بعد چیز پر قبضہ کر کے پھر واپس بیچے ۔ قبضہ کرنے سے پہلے بیچے گا،تو یہ معاملہ ناجائز ہی رہے گا،اگرچہ قیمت کچھ بھی ہو۔
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ لا يحل بيع ما ليس عندک ولا ربح ما لم يضمن ‘‘ترجمہ:جو چیز تیرےپاس نہیں،اس کی بیع اور جو چیز ضمان میں نہ آئی ،اس کا نفع حلال نہیں۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات،باب النھی عن بیع ما لیس عندک،صفحہ158،مطبوعہ کراچی)
درمختار میں ہے:’’ فسد شراء ما باع بنفسه اوبوکیلہ من الذی اشتراه۔۔بالاقل من قدر الثمن الاول قبل نقدكل الثمن الاول،صورته:باع شيئا بعشرة ولم يقبض الثمن ثم شراه بخمسة،لم يجزوان رخص السعر للربا ‘‘ترجمہ:جو چیز خود اس نے یا اس کے وکیل نے بیچی ،اسی چیز کو مشتری سے ثمنِ اول کی مکمل ادائیگی سے پہلے ،اس سے کم ثمن میں خریدنا فاسد ہے ۔اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی چیز دس درہم کی بیچی اور ابھی ثمن پر قبضہ نہیں کیا ،پھر اسی چیز کو پانچ درہم کے بدلے میں خرید لیا ،اگرچہ اس کا ریٹ کم ہو گیا ہو،تب بھی یہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائزہے ۔
’’للربا‘‘کے تحت فتاوی شامی میں ہے:’’ علة لقوله ’’لم يجز‘‘ای:لان الثمن لم يدخل في ضمان البائع قبل قبضه،فاذا عاد اليه عين ماله بالصفة التي خرج عن ملكه وصار بعض الثمن قصاصا ببعض بقي له عليه فضلا بلا عوض،فكان ذلك ربح ما لم يضمن،وهو حرام بالنص‘‘ترجمہ:یہ ’’لم یجز ‘‘کی علت ہے (یعنی مذکورہ خریدوفروخت سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے)،کیونکہ قبضہ سے پہلے ثمن بائع کے ضمان میں داخل نہیں ہوا ،پس جب (ثمن پر قبضہ کرنے سے پہلے)بائع کا بعینہ وہی مال(جو اس نے بیچا تھا)اس کے پاس اسی صفت کے ساتھ واپس آگیا ،جس صفت پر وہ اس کی ملکیت سے نکلا تھااور بعض ثمن بعض کے بدلے میں ہو گیا،تو کچھ زیادتی بلا عوض باقی رہ گئی اور یہ زیادتی اس چیز کا نفع ہےجو اس کے ضمان میں نہیں اور یہ نص کی وجہ سے حرام ہے ۔
(فتاوی شامی،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،جلد7،صفحہ268تا269،مطبوعہ پشاور)
مذکورہ مسئلے کی نظیر ایک حدیث پاک میں بھی موجود ہے ۔چنانچہ ایک عورت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حاضر ہو کر عرض کرنے لگی:’’ ياا م المؤمنين!انی بعت غلاما من زيد بن ارقم بثمانمائة درهم نسيئة،وانی ابتعته بستمائة درهم نقدا، فقالت لهاعائشة:بئسما اشتريت وبئسما شريت،ان جهاده مع رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قد بطل،الا ان يتوب ‘‘ترجمہ: اے ام المؤمنین!میں نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک غلام ادھار آٹھ سو دِرہم کے بدلے میں بیچا،پھر(ثمن پر قبضہ کرنے سے پہلے)وہی غلام نقد چھ سو درہم کے بدلے میں خرید لیا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشادفرمایا: تم نے کتنی بُری خریدوفروخت کی ہے ۔ زید بن ارقم کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا جہاد باطل ہو گیا ہے،مگر یہ کہ وہ توبہ کر لیں ۔ ( سنن دار قطنی،کتاب البیوع،جلد3،صفحہ478،بیروت )
سوال نمبر:13
کسان کو بیج کے لیے اچھے چاول اور اچھی گندم وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے، تووہ آڑھتی سے اپنے پاس موجود نارمل چاول کے بدلے میں اعلیٰ کوالٹی کے چاول،یونہی نارمل گندم کے بدلے میں اعلیٰ کوالٹی کی گندم خرید لیتا ہےاور کوالٹی میں فرق ہونے کی وجہ سے یہ خریدوفروخت کمی بیشی کے ساتھ ہوتی ہے،مثلاً: کسان کو سو کلواچھے چاولوں کی ضرورت ہو،توانہیں ایک سو بیس کلونارمل چاولوں کے بدلے خریدتاہے۔یہی معاملہ گندم وغیرہ میں ہوتا ہے۔کیا اس طرح گندم کی گندم کے بدلے اور چاول کی چاول کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ خریدوفروخت درست ہے؟
جواب:
چاولوں کی چاولوں کے بدلےیونہی گندم کی گند م کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ خریدوفروخت
کرنا،سود ہونےکی وجہ سے ناجائز و حرام اور گناہ ہے،اگرچہ ان چیزوں کی کوالٹی میں فرق ہی کیوں نہ ہو۔تفصیل اس مسئلہ کی یوں ہے کہ سود کی دو علتیں ہیں ۔
(١) قدریعنی بیچی جانے والی چیزوں کا مکیلی یا موزونی ہونا۔(مکیلی سے مرادایسی چیز جو ماپ کر بکتی ہو اور موزونی سے مرادایسی چیز جو وزن کے ساتھ بکتی ہو۔)
(٢ )ان کی جنس کاایک ہونا،مثلاً:اگر ایک طرف چاول ہیں ،تو دوسری طرف بھی چاول ہی ہوں۔
اصول:اگر خریدوفروخت میں یہ دونوں علتیں پائی جائیں ،تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حرام ہیں اور دونوں نہ پائی جائیں ،تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حلال ہیں اور اگر ان میں سے ایک پائی جائے اور دوسری نہ پائی جائے ،تو کمی بیشی جائز اور ادھار حرام ہے۔
اب چاول کی چاول کے بدلے بیع کو دیکھا جائے،تو اس میں قدر اور جنس دونوں علتیں پائی جاتی ہیں، جنس یوں کہ دونوں طرف چاول ہیں اور قدر یوں کہ انہیں وزن کے ساتھ بیچا جاتا ہے،لہذا سوال میں ذکر کردہ طریقے کے مطابق کمی بیشی کے ساتھ خریدوفروخت حرام ہے ،یونہی ادھار (مثلاً: گندم کی گندم کے بدلے خریدوفروخت میں ایک طرف سے گندم دے دی جائے اور دوسری جانب سے ادھار کر لیا جائے،تو یہ)بھی حرام ہے۔یاد رہے کہ یہاں کوالٹی میں فرق کا اعتبار نہیں کیا جائے گا،کیونکہ اموالِ ربویہ (وہ اموال جنہیں کمی بیشی کے ساتھ بیچنے کی صورت میں سود پایا جاتا ہے،مثلاً: گندم اور چاول وغیرہ)کی آپس میں خریدوفروخت ہو،تو حکمِ حدیث کے مطابق ان کا وصف یعنی اعلیٰ اور گھٹیا ہونا نہیں دیکھا جاتا،بلکہ وزن کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا:’’ الذهب بالذهب مثلا بمثل، والفضة بالفضة مثلا بمثل، والتمر بالتمر مثلا بمثل، والبر بالبر مثلا بمثل، والملح بالملح مثلا بمثل، والشعير بالشعير مثلا بمثل، فمن زاد أو ازداد فقد أربى ‘‘ترجمہ:سونے کو سونے کے بدلے،چاندی کو چاندی کے بدلے،کھجور کو کھجور کے بدلے،گندم کو گندم کے بدلے،نمک کو نمک کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے برابر ، برابر بیچو۔پس جس نے زیادہ دیا یا لیا اس نے سود کا لین دین کیا۔ (جامع ترمذی،جلد3،صفحہ533،مطبوعہ مصر)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سود کی علتوں کے بارے میں تفصیلی کلام کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:’’نص علماؤنا قاطبۃ ان علۃ حرمۃ الربا القدر المعھود بکیل او وزن مع الجنس، فان وجدا حرم الفضل والنسا،وان عدما حلا، وان وجد احدھما حل الفضل وحرم النسا، وھذہ قاعدۃ غیر منخرمۃ، وعلیھا تدور جمیع فروع الباب‘‘ ترجمہ:ہمارے تمام علمائےکرام رحمہم اللہ السلام نے تصریح فرمائی ہے کہ حرمت ربا کی علت وہ خاص اندازہ یعنی ناپ یا تول ہے، اتحاد جنس کے ساتھ۔پس اگردونوں علتیں (قدر و جنس)پائی جائیں ،تو زیادتی اور ادھار دونوں حرام ،اگر دونوں نہ پائی جائیں،تو دونوں (زیادتی و ادھار)حلال اور ان میں سے ایک پائی جائے،تو زیادتی حلال اور ادھار حرام ہے ۔ یہ ایک ایسا قاعدہ ہے جو کہیں نہیں ٹوٹتا اور باب ربا کے جمیع مسائل اسی پر دائر ہیں۔‘‘ ( فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 446، رضا فاؤنڈیشن، لاھور )
اموالِ ربویہ میں وصف کا نہیں،بلکہ وزن کااعتبار ہو گا۔چنانچہ مجمع الانہر میں ہے:’’ ( ولا يجوز بيع الجيد بالرديء ) إذا قوبل بجنسه مما فيه الربا ( إلا متساويا ) لقوله عليه الصلاة والسلام:جيدها ورديئها سواء ‘‘ترجمہ:اموالِ ربویہ میں جنس کا جنس کے ساتھ مقابلہ ہو،تو اعلیٰ چیز کی ادنی کے ساتھ بیع برابری کے صورت میں ہی جائز ہے،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اموالِ ربویہ میں اعلیٰ اور ادنی برابر ہیں۔
(مجمع الانھر،جلد2،صفحہ89،مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ، بیروت )
اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’اور اموال ربویہ میں شرع مطہر نے وصف کا اعتبار ساقط فرمایا ہے ولہٰذا ان کا جید و ردی یکساں ہے ۔۔ایک قسم کی چیز(مثلاً اعلیٰ کوالٹی کی گندم) زید کو مطلوب ہے، اس کے پاس اس قسم کی نہیں، دوسری قسم(کم کوالٹی) کی ہے اور اس قسم (اعلیٰ کوالٹی)کی شے عمرو کے پاس ہے، اسے اس قسم (کم کوالٹی)کی مطلوب ہے، جو زید کے پاس ہے، تو باہم دست بدست یکساں برابر مبادلہ کرکے ہر ایک اپنے مطلوب کو پہنچ سکتا ہے۔‘‘
( فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 324، رضا فاؤنڈیشن، لاھور )
سوال نمبر:14
اگر اس طرح گندم كا گندم كے بدلے اور چاولوں کا چاولوں کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ ناجائز ہے،توجائز صورتیں کونسی ہیں ؟کیونکہ کسانوں کو یہ صورت کثرت کے ساتھ پیش آتی رہتی ہے؟
جواب:
اس کے جواز کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں،جو درج ذیل ہیں:
(۱)ایک جنس کو کسی دوسری جنس کے بدلےخرید لیا جائے، مثلاً: گندم کو گندم کے بدلے خریدنے کے بجائے گندم کی چاول کے بدلے خریدو فروخت کر لی جائے۔اس صور ت میں کمی بیشی جائز ہو جائے گی،لیکن اس صورت میں خریدوفروخت نقدہونا ضروری ہے۔اگرکسی ایک جانب بھی ادھار ہوا،تو یہ معاملہ پھرسود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہو جائے گا۔
(۲)اگر جنس کی اسی جنس مثلاً: چاول کی چاول یا گندم کی گندم کے بدلے ہی خریدوفروخت کرنی ہے،تو نقد و نقد اور برابری کے ساتھ کر لی جائے۔
(۳)اس کے علاوہ ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ خرید و فروخت رقم کے بدلے کی جائے ۔ مثلا : یوں کریں کہ پہلے آڑھتی کسان سے اس کے کم کوالٹی والے ایک سو بیس کلو چاول مخصوص رقم کے بدلے خرید لے اورچاول وصول کر کے رقم کسان کے حوالے کر دے۔ پھر کسان اسی رقم کے بدلے آڑھتی سے اعلیٰ کوالٹی کے سو کلو چاول خرید لے۔ یوں دونوں کا مقصد بھی پورا ہو جائے گا اور سود بھی نہیں ہوگا۔
(٤)ایک اورطریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مثلاً: اگرسو کلو اعلیٰ کوالٹی کے چاولوں کی ایک سو بیس کلو نارمل کوالٹی کے چاولوں کے ساتھ خریدوفروخت کرنی ہے،تو جس کے چاول کم ہیں وہ ساتھ میں کوئی اور چیز مثلاً گندم یا رقم وغیرہ ملا کر خریدو فروخت کرلے۔اب یوں ہوگا کہ ایک طرف اعلیٰ کوالٹی کے سوکلو چاول اور ساتھ میں کچھ گندم یا کچھ رقم ہوگی اور دوسری طرف ایک سو بیس کلو کم کوالٹی کے چاول ہوں گے۔تو ا ب یہ معاملہ جائز ہو جائے گا، کیونکہ سوکلو چاول دوسری طرف سو کلو چاولوں کا بدل ہو جائے گا اور ایک طرف جو بیس کلو اضافی چاول ہیں ان کا بدل دوسری طرف وہ گندم یا رقم بن جائے گی۔
سوال نمبر:15
بعض اوقات کسان مال فروخت کرنے کے لیے منڈی میں لاتا ہے اور آڑھتی سے منڈی کا ریٹ معلوم کرتا ہے کہ آج فلاں فلاں چیز کا کیا ریٹ چل رہا ہے؟تو آڑھتی کسان کو کم بھاؤ بتا کر سستے داموں چیز خرید لیتا ہے،پھرمنڈی کے اصل ریٹ کے مطابق مہنگے داموں مال فروخت کردیتا ہے۔ آڑھتی کا کسان کو منڈی کا بھاؤ کم بتانا اور سستے داموں خریدکر بعد میں مہنگے داموں بیچنا کیسا ہے؟
جواب:
آڑھتی کا کسان سے اس کی رضا مندی کے ساتھ سستے داموں چیز خرید کر مہنگے داموں فروخت کرنا،شرعاً جائز ہے ،لیکن آڑھتی کا کسان سے جھوٹ بولنا ،اسے دھوکہ دیناسخت ناجائزحرام اور گناہ ہے،مثلا:کسان آڑھتی سے پوچھے کہ آج کل فلاں چیز کا کیا ریٹ چل رہا ہے؟تو آڑھتی جان بوجھ کر کم قیمت بتائے یا کہے کہ آج کل اس کے خریدار نہیں ہیں وغیر ہ اور یہ بات حقیقت کے خلاف ہو،تو اس طرح آڑھتی کا جھوٹ بولنا اور اسے دھوکہ دینا، ناجائز اور گناہ ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایاہےاور جھوٹ اور دھوکے وغیرہ کی صورت نہ ہو،تو اس میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں ہے۔
معجم الاوسط میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،وہ فرماتے ہیں :’’ نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أن يتلقى الجلب ‘‘ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقی جلب سے منع فرمایا ہے۔ ( المعجم الاوسط،جلد6،صفحہ263،مطبوعہ دار الحرمین،القاھرہ )
اور تلقی جلب کی تفصیل فتح القدیر میں یوں بیان کی گئی ہے:’’ وللتلقي صورتان: إحداهما أن يتلقاهم المشترون للطعام منهم في سنة حاجة ليبيعوه من أهل البلد بزيادة، وثانيتهما أن يشتري منهم بأرخص من سعر البلد وهم لا يعلمون بالسعر ‘‘ ترجمہ:تلقی جلب کی دو صورتیں ہیں۔ان میں سے ایک یہ کہ حاجت کے زمانے میں شہر کے خریدار باہر سے غلہ لانے والے تاجروں سے ملاقات کر کے ان سے غلہ خرید لیں،تاکہ شہریوں کو مہنگے داموں بیچیں اور دوسری صورت یہ کہ ان سے شہر کے ریٹ سے کم ریٹ میں غلہ خرید لیں اس حال میں کہ باہر کے تاجر شہر کے ریٹ سے ناواقف ہوں۔ (فتح القدیر،جلد6،صفحہ477،مطبوعہ دار الفکر)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تلقی جَلب سے ممانعت فرمائی۔ یعنی باہر سے تاجر جو غلہ لا رہے ہیں،اُن کے شہر میں پہنچنے سے قبل باہر جاکر خریدلینا، اس کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ اہل شہر کو غلہ کی ضرورت ہے اوریہ اس لیے ایسا کرتا ہے کہ غلہ ہمارے قبضہ میں ہوگا، نرخ زیادہ کرکے بیچیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ غلہ لانے والے تجار کو شہر کا نرخ غلط بتا کر خریدے، مثلاً شہر میں پندرہ سیر کے گیہوں بکتے ہیں، اس نے کہہ دیا: اٹھارہ سیر کے ہیں، دھوکہ دےکر خریدنا چاہتا ہے اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں، تو ممانعت نہیں۔ ‘‘ ( بھارِ شریعت،جلد2،صفحہ724،مکتبۃ المدینہ،کراچی )
آڑھتی اور کسان کے درمیان پیش آنے والے قرض کے مسائل
سوال نمبر:16
اگر کسان نے آڑھتی سے قرض یا کاشتکاری کے لیے مختلف اشیاء ادھار لی ہوں،لیکن پیداوار اس آڑھتی کو بیچنے کی بجائے کسی اور کو بیچ دی،تو کئی آڑھتی کسان سے تین سے چھ فیصد تک جرمانہ وصول کرتے ہیں کہ اس نے فصل ہمیں بیچنے کی بجائے کسی دوسرے کو کیوں بیچی۔کیا آڑھتی اس طرح جرمانہ وصول کر سکتے ہیں ؟
جواب:
اگر کسان نے فصل اپنے آڑھتی (جس سے قرض وغیرہ لیا ہوا تھا،اس)کے علاوہ کسی اور کو بیچ دی،تواس وجہ سے قرض دینے والے آڑھتی کا کسان سے جرمانہ وصول کرنا ،ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔اولاً آڑھتی کاقرض دیتے وقت یا ادھار بیچتے وقت یہ شرط لگانا ہی جائز نہیں کہ کسان اپنی فصل اسی کو بیچے گا،کیونکہ یہ سودیا بیع فاسد کی صورت بنتی ہے،جو جائز نہیں،جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا۔ ثانیاً یہ مالی جرمانہ ہے اور مالی جرمانہ اسلام میں منسوخ ہو چکا ہے اورمنسوخ پر عمل حرام ہے۔
اسلام میں مالی جرمانہ جائز نہیں ۔چنانچہ بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:’’ التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام، ثم نسخ ‘‘ ترجمہ:مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا۔ ( بحرالرائق شرح کنز الدقائق،جلد5،صفحہ68، دارالکتب العلمیہ،بیروت )
اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں:’’تعزیر بالمال منسوخ ہےاور منسوخ پر عمل جائز نہیں ۔درمختار میں ہے:’’ لا باخذمال فی المذھب ‘‘ترجمہ:مالی جرمانہ مذہب کی رو سے جائز نہیں ہے۔‘‘ ( فتاوی رضویہ،جلد5،صفحہ111،رضافاونڈیشن،لاھور )
سوال نمبر:17
کئی منڈیوں میں آڑھتیوں نے باقاعدہ یہ طے کیا ہوتا ہے کہ اگر مقروض کسان اپنے آڑھتی کے علاوہ کسی اورآڑھتی کے ذریعے سے سامان بکوائے گا،تو سامان بیچنے والے آڑھتی پر لازم ہے کہ وہ اس مال پر حاصل ہونے والا تمام کمیشن قرض دینے والے آڑھتی کو ادا کرے گا،ان کا اس طرح طے کرنا کیسا ہے؟
جواب:
آڑھتیوں کاآپس میں یوں طے کرنا کہ ’’اگر کسان اپنے آڑھتی کے علاوہ کسی دوسرے آڑھتی کے ذریعے سامان بکوائے گا،تودوسرا آڑھتی کل یا بعض کمیشن قرض دینے والے آڑھتی کو اداکرے گا‘‘یہ جائز نہیں،کیونکہ جس نے سامان بیچا ہے، شرعاً اس کےکمیشن کا حقدار بھی وہی ہے،کسی دوسرے کا بلاوجہ شرعی اس سے وہ کمیشن لیناباطل طریقے سے مسلمان کا مال کھانا ہےاور باطل طریقے سے مسلمان کا مال کھانے کی حرمت واضح طور پر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِترجمۂ کنز الایمان :’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھاؤ ۔‘‘ ( پارہ2،سورۃ البقرہ،آیت188 )
اس آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے :’’ الخطاب بھذہ الایۃ یتضمن جمیع امۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،والمعنی:لا یاکل بعضکم مال اخیہ بغیر حق ،فیدخل فی ھذا :القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق ومالا تطیب بہ نفس مالکہ او حرمتہ الشریعۃ وان طابت بہ نفس مالکہ کمھر البغی و حلوان الکاھن و اثمان الخمور والخنازیر وغیر ذلک ‘‘ترجمہ:اس آیت میں خطاب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت کو شامل ہے اور معنی یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا مال ناحق طریقے سے نہ کھائے،اس عموم میں جوا ،دھوکہ ، غصب، حق دینے سے انکار( کر کے حق کھا جانا) ،جس چیز کے دینے پر مالک راضی نہ ہو وہ لینا اور جس کی حرمت شریعت سے ثابت ہواسے لینا،اگرچہ مالک دینے پر راضی ہو،جیسے زانیہ کی کمائی ، کاہن کا نذرانہ اور خنزیر وشرابوں کی قیمتیں وغیرہ سب داخل ہیں ۔
(تفسیر قرطبی،جلد2،صفحہ338،مطبوعہ دار الکتب المصریہ ،القاھرہ)
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ لا یحل لامرء ان یاخذ مال اخیہ بغیر حقہ وذلک لما حرم اللہ مال المسلم علی المسلم ‘‘ترجمہ:مرد کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا ناحق مال کھائے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا(بلا وجہ شرعی ) مال لیناحرام فرمایا ہے۔
(مسند امام احمد بن حنبل، جلد39،صفحہ19، مؤسسۃ الرسالہ ،بیروت)
سوال نمبر:18
کسان آڑھتی کی دوکان میں اپنا مال پہنچا دیتے ہیں اور مال بکنے میں ابھی ٹائم باقی ہوتا ہے،تو کسان آڑھتی سے کچھ رقم لے کر چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب مال بکے گا ،تو حساب کر لیں گے، کیا یہ درست ہے؟
جواب:
اس رقم لینے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں:
(۱)ایک صورت یہ ہے کہ کسان آڑھتی سے یہ رقم بطورِ قرض لیتا ہے اورکہتا ہے کہ جب میرا مال بکے گا،توحساب کر کے قرض تمہیں واپس کر دوں گا،تو آڑھتی کی رضا مندی سے یہ قرض لیناجائز ہے،اسے اس پر مجبور نہیں کر سکتے ۔
(۲)دوسری صورت یہ ہے کہ کسان آڑھتی کو سامان بیچ کر اس سے اپنے سامان کی کچھ قیمت لیتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ سامان بکنے پر کمی بیشی کر لیں گے یعنی قیمت طے کرلیں گے،تو یہ حرام ہے،کیونکہ خریدو فروخت درست ہونے کے بنیادی اصولوں میں قیمت طے ہونا بھی ضروری ہے،اگر سودا ہو جائے،لیکن قیمت میں ایسی جہالت باقی ہو جو بعد میں جھگڑے کا باعث بنے،تو اس کی وجہ سے عقد(معاہدہ/ایگریمنٹ) فاسد اور ناجائز ہوتا ہے اور عقدِ فاسد کی وجہ سے عاقدین یعنی معاہدہ
/ایگریمنٹ کرنے والے گنہگارہوتے ہیں اور اس عقد کو ختم کرنا بھی واجب ہوتا ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:’’ جهالة المبيع او الثمن مانعۃ جواز البيع اذا كان يتعذر معها التسليم ‘‘ترجمہ:مبیع یا ثمن کی جہالت بیع جائز ہونے کے مانع ہے،جبکہ اس کی وجہ سے سپرد کرنا متعذر ہو۔ ( فتاوی ھندیہ،جلد3،صفحہ122،مطبوعہ دار الفکر )
صدرُ الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بیع کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بیان کرتے ہیں:’’مبیع وثمن دونوں اس طرح معلوم ہوں کہ نزاع(جھگڑا)پیدا نہ ہوسکے، اگر مجہول ہوں کہ نزاع ہو سکتی ہو ،تو بیع صحیح نہیں، مثلاً :اس ریوڑ میں سے ایک بکری بیچی یا اس چیز کو واجبی دام پربیچا یا اس قیمت پر بیچا جو فلاں شخص بتائے۔‘‘
(بھارِشریعت،جلد2،صفحہ 617،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:’’اگر علی الحساب بطور قرض لیتاہے، تو دکاندار کی مرضی سے لے سکتاہے،اس پر جبر نہیں کرسکتا اور اگر دکاندار سے اس مال کی قیمت لیتا اور یہ شرط کرتاکہ فروخت پر کمی بیشی کا حساب ہوجائے گا، تو یہ حرام ہے ۔‘‘ ( فتاوی رضویہ،جلد17،صفحہ 126،رضا فاؤنڈیشن،لاھور )
سوال نمبر:19
بعض اوقات آڑھتی بھی کسان سے اپنی اجرت پیشگی وصول کر لیتا ہے۔کیا آڑھتی مال بیچنے سے پہلےاپنی اجرت لے سکتا ہے؟
جواب:
آڑھتی یا کوئی بھی ملازم عام اصول کے مطابق کام کرنے کے بعد ہی اجرت کا مستحق ہوتا ہے ، البتہ اگر کام کروانے والا اپنی مرضی سے کام مکمل ہونے سے پہلے ہی اجرت دے دے ،تو یہ بھی جائز ہے ۔ یونہی اگر معاہدہ کرتے وقت دونوں فریق باہم رضا مندی سے پیشگی اجرت یعنی کام سے پہلے اجرت لیناو دینا طے کر لیں ،تو یہ صورت بھی جائز ہے اور اس صورت میں آڑھتی یا ملازم کام سے پہلے ہی اجرت کا مطالبہ بھی کر سکے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:’’ ولا یستحق المشترک الاجر حتی یعمل کالقصار ونحوہ کفتال وحمال ودلال وملاح ‘‘ترجمہ:اجیر مشترک کام سے پہلے اجرت کا مستحق نہیں ہوتا،جیسے دھوبی اور اس کی مثل دیگر افراد جیسے رسی بنانے والا،بوجھ اٹھانے والا،کمیشن پہ چیزیں بیچنے والا اور کشتی چلانے والا۔ ( فتاوی شامی،جلد6،صفحہ64،دار الفکر،بیروت )
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ پیشگی اجرت لینے کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں:’’اجارہ میں اجرت محض عقد سےمِلک میں داخل نہیں ہوتی یعنی عقد کرتے ہی اُجرت کامطالبہ درست نہیں یعنی فوراً اُجرت دینا واجب نہیں، اُجرت ملک میں آنے کی چند صورتیں ہیں:(۱) اُس نے پہلے ہی سے عقد کرتے ہی اُجرت دےدی، دوسرا اس کا مالک ہوگیا یعنی واپس لینے کا اُس کو حق نہیں ہے،(۲)یاپیشگی لینا شرط کرلیا ہو،اب اُجرت کا مطالبہ پہلے ہی سے درست ہے۔۔الخ‘‘
(بھارِ شریعت،جلد3،صفحہ110،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
سوال نمبر:20
آڑھتی کسان کی رضا مندی سے اس کاسامان مقررہ مدت تک کے لیے ادھار بیچ دیتاہے،پھر مقررہ مدت کے بعد جب کسان ا سے سامان کی قیمت وصول کرنے کا کہتا ہے،توآڑھتی خریدار سے تعلقات بحال رکھنے کے لیے خوامخواہ قیمت وصول کرنے میں تاخیر کرتا ہے اور کئی دفعہ تو کسان کویہاں تک کہہ دیتا ہے کہ آپ خود وصول کرلو،حالانکہ کسان کے لیے خود قیمت وصول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔آڑھتی کا یہ فعل شرعاً درست ہے؟
جواب:
پوچھی گئی صورت میں آڑھتی کا ادھار کی مقررہ مدت کے بعد سامان کی قیمت وصول کرنے میں خوامخواہ تاخیر کرنا اور کسان کو خود قیمت وصول کرنے کاپابند کرنا شرعاً درست نہیں ہے،کیونکہ آڑھتی اجرت لے کر کام کرتا ہے اور جو شخص اس طرح اجرت لے کر کام کرے اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ خریدار سے خود سامان کی قیمت وصول کر کے مالک کے حوالے کرے،لہذا آڑھتی پر بھی لازم ہے کہ وہ مقررہ مدت پر خود قیمت وصول کر کے کسان کے سپرد کرے،اس کے برعکس قیمت کی وصول یابی میں بلا عذرِ شرعی تاخیر کرنایا کسان کو قیمت وصول کرنے کا پابند بنانا ،خلاف شرع اور سراسرظلم ہے۔
فقہ حنفی کی مشہورومعروف کتاب الہدایہ میں ہے:’’ والبياع والسمسار يجبران على التقاضي لأنهما يعملان بأجر عادة ‘‘ ترجمہ:بیاع(اجرت پر چیز بیچنے والا)اور سمسار(بائع اور مشتری کے مابین واسطہ بننے والا)دین کا تقاضا کرنے پر مجبور کیے جائیں گے،کیونکہ یہ عام طور پر اجرت کے بدلے کام کرتے ہیں۔ ( الھدایہ،جلد3،صفحہ207، دار احیاءالتراث العربی ،بیروت )
اورصدرالشریعہ مفتی محمدامجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’دلال اور آڑھتی ۔۔۔یہ ثمن وصول کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘
(بھارِ شریعت،جلد3،صفحہ18، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
سوال نمبر:21
آڑھتی کا کسان کے لیے ضامن بننا کیسا ہے ،یعنی آڑھتی کسان سے یوں کہے کہ اگر خریدار رقم نہیں دے گا،تو اس کی جگہ میں دوں گا، کیا یہ درست ہے؟
جواب:
آڑھتی کا کسان کے لیے سامان کی قیمت کا ضامن بننا(یعنی یوں کہناکہ اگر خریدار قیمت ادا نہیں کرےگا،تو میں ادا کروں گا) صحیح نہیں، بلکہ باطل ہےاور ایسا کہنے سے یہ شرعی طور پر کفیل ( ضامن ) نہیں بنے گا ،کیونکہ آڑھتی وکیل بالاجرت ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ خریدار سے سامان کی قیمت وصول کر کے مالک کے حوالے کرے،اگر وہ خود ہی رقم دینے کاضامن بن جائے،تو گویا وہ اپنا ضامن خودہی بن رہا ہے اور یوں اس کا اپنی ذات کے لیے کام کرنا لازم آئے گا،جبکہ ضامن دوسرے کے لیے کام کرتا ہے ۔
چونکہ یہ ضمانت باطل ہے اس لیے نتیجہ یہ نکلے گا کہ اگر بعد میں آڑھتی نے اپنے آپ کو ضامن سمجھتے ہوئے کسان کو اپنی رقم ادا کی، تو وہ اس کسان سے اپنی رقم واپس لے سکتا ہے (لیکن اب بھی خریدار سے قیمت وصول کر کے کسان تک پہنچانا اسی کے ذمے ہوگا۔)ہاں اگر آڑھتی کو پتا تھا کہ اس طرح میں شرعی ضامن نہیں بنا اور اپنے پلے سے رقم دینا مجھ پر لازم نہیں،لیکن اس کے باوجود احساناً اس نے کسان کو اپنے پلے سے رقم دے دی، تو یوں دینا جائز ہے اور اب یہ کسان سے واپس بھی نہیں لے سکتا۔
در مختار میں ہے:’’ ضمان الدلال والسمسار الثمن للبائع باطل، لأنه وكيل بالأجروذكروا أن الوكيل لا يصح ضمانه، لأنه يصير عاملا لنفسه ‘‘ترجمہ:دلال اور آڑھتی کا بائع کے لیے ثمن کا ضامن بننا باطل ہے،کیونکہ یہ افراد وکیل بالاجرت ہوتے ہیں اور فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام نے ذکر کیا کہ وکیل بالاجرت کا ضامن بننا درست نہیں ،کیونکہ اس صورت میں وہ اپنی ذات کے لیے کام کرنے والا ہو جائےگا۔
(در مختار،جلد5،صفحہ334،مطبوعہ دار الفکر،بیروت)
’’ يصير عاملا لنفسه ‘‘کے تحت فتاوی شامی میں ہے:’’ إذ ولاية القبض له والضامن يعمل لغيره ‘‘ترجمہ:کیونکہ ثمن پر قبضہ کرنے کی ولایت (پہلے سے)دلال کے لیے ہے،حالانکہ ضامن تواپنے علاوہ دوسرے کے لیے کام کرتا ہے۔
(فتاوی شامی،جلد5،صفحہ334،مطبوعہ دار الفکر،بیروت)
اور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’وکیل بیع نےمشتری کی طرف سے بائع کے لیے ثمن کی ضمانت کر لی،یہ جائز نہیں، پھر اگر اس ضمانت باطلہ کی بنا پر وکیل نے بائع کو ثمن اپنے پاس سے دے دیا،تو بائع سے واپس لے سکتا ہے اور اگر ادا کیا، مگر ضمانت کی وجہ سے نہیں، تو واپس نہیں لے سکتا کہ متبرع ہے۔‘‘
(بھارِ شریعت،جلد2،صفحہ1007، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع