30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ
(پ۱۰، التوبۃ : ۴۰ )
ترجمہ کنزالایمان :
اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافر وں کی شرارت سے باہرتشریف لے جاناہواصر ف د وجان سے جب وہ دونوں غارمیں تھے (۱) جب اپنے یار سے (۲) فرماتے تھے (۳) غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے(۴) تو اللہ نے اس پراپناسکینہ اتارا (۵)۔
تفسیر :
(۱)نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور حضرت صدیق جو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے یارِ غار ہیں ۔ لفظ یارِ غار اس آیت سے حاصل ہوا۔آج بھی دلی دوست اور باوفا یار کو یارِ غار کہا جاتا ہے۔
(۲) اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی صحابیت قطعی ایمانِ قرآنی ہے لہٰذا اس کا انکار کفر ہے۔دوسرا یہ کہ صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا درجہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے بڑا ہے کہ انہیں رب عَزَّ وَجَلَّ نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ثانی فرمایا ۔اس لئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں اپنے مصلیٰ پر امام بنایا ۔آپ چار پشت کے صحابی ہیں ۔ والدین بھی ، خود بھی ، ساری اولاد بھی، اولاد کی اولاد بھی صحابی۔ جیسے یوسف علیہ السلام چار پشت کے نبی ۔ یہ آپ کی خصوصیت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد خلافت صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے ہے۔ رب تَعَالٰی انہیں دوسرا بنا چکا پھر انہیں تیسرا یا چوتھا کرنے والا کون ہے ۔ وہ تو قبر میں بھی دوسرے ہیں حشر میں بھی دوسرے ہوں گے۔
(۳)مجھ پر غم نہ کھاؤ کیونکہ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کواس وقت اپنا غم نہ تھا خود تو سانپ سے کٹوا چکے تھے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فدا ہو چکے تھے اگر اپنا غم ہوتا تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کندھے پر اٹھا کر گیارہ میل پہاڑ کی بلندی پر نہ چڑھتے اکیلے غار میں اندھیرے میں داخل نہ ہوتے، سانپ سے نہ کٹواتے ۔ان کا یہ غم بھی عبادت تھا اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ تسکین دینا بھی عبادت ۔چنانچہ رب تَعَالٰی نے ان دونوں ہستیوں کو مکڑی کے جالے اور کبوتری کے انڈوں کے ذریعے بچایا۔
(۴) موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا
اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ(۶۲) (پ۱۹، الشعرآء : ۶۲)
میرے ساتھ میرا رب ہے یعنی تمہارے ساتھ رب نہیں میرے ساتھ ہے۔ مگر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے ساتھ ہے یعنی میرے ساتھ بھی ہے اور تمہارے ساتھ بھی۔جس کے ساتھ رب ہو وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیشہ ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ تھااور رہا جیسے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ۔
(۵) معلوم ہوا کہ سکینہ کا نزول صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر ہوا کیونکہ اس وقت بے چینی انہی کو تھی۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قلبِ مبارک تو پہلے ہی سے چین میں تھا ۔نیز اس سے قریب میں صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہی ذکر ہوا لصاحبہ اور ضمیر حتی الامکان قریب کی طرف رجوع ہوتی ہے۔ حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا خیال تھا کہ کافر غار کے منہ پر آگئے ۔اگر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر مطلع ہو گئے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دُکھ دیں گے۔(تفسیر نورالعرفان)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
(17)راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں خرچ کرنا
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ(۹۲) (پ۴، اٰل عمرٰن : ۹۲)
ترجمۂ کنزالایمان :
تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے (۱) جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو(۲) اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے(۳)۔
تفسیر :
(۱) بھلائی سے مراد تقویٰ اور اطاعتِ الہٰی ہے ۔یا اس کی نعمتیں ہیں تو پانے سے مراد اوّلاً پانا ہے ۔
(۲) اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ سارا مال خیرات نہ کرے۔ کچھ خیرات کرے کچھ اپنے خرچ کے لئے رکھے۔ اسلئے مما فرمایا۔دوسر۱ یہ کہ ہر مال میں سے خرچ کرے اس لئے ما کو عام رکھاگیا۔تیسرا یہ کہ صرف فرض پر کفایت نہ کرے بلکہ صدقہ نفلی بھی دیا کرے اسلئے تُنْفِقُوْنَ کو عام رکھا گیا۔چوتھا یہ کہ اپنی پیاری چیز اللہ تَعَالٰی کی راہ میں خیرات کرے حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شکر کی بوریاں خرید کر خیرات کرتے تھے ۔لوگوں نے عرض کیا کہ آپ ان بوریوں کی قیمت ہی کیوں نہ خیرات فرما دیں ۔ تو فرمایاکہ، مجھے شکر مرغوب ہے اور یہ آیتِ کریمہتلاوت کی۔ پانچواں یہ کہ خیرات کی قبولیت اخلاص پر موقوف ہے زیادتی اور کمی پر موقوف نہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع