30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًاؕ-وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَاؕ-اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پ۲۰، العنکبوت : ۸ )
ترجمۂ کنزالایمان :
اور ہم نے آدمی کو تاکید کی(۱) اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی(۲) اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرااسے جس کا تجھے علم نہیں (۳) توتُوان کا کہا نہ مان(۴) میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں بتا دوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے(۵)۔
تفسیر :
(۱) یہ آیت حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی۔یہ اپنی والدہ کے بڑے فرما بردار تھے۔ جب ایمان لائے تو ان کی ماں نے کہا کہ اسلام چھوڑ دو ورنہ میں کھاؤں گی ، نہ پیؤں گی نہ سایہ میں بیٹھوں گی ، سوکھ کر مرجاؤں گی اور میرے خون کا وبال تجھ پر ہوگا۔ یہ کہہ کر اس نے کھانا پینا چھوڑدیا دھوپ میں بیٹھ گئی، چوبیس گھنٹے اسی حال میں رہی اور بہت ضعیف ہو گئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ماں اگر تیری سو100جانیں بھی ہوں اور ایک ایک کر کے سب قربان ہوجائیں تو بھی میں ایمان نہ چھوڑوں گا ۔ جب ماں مایوس ہو گئی تو اس نے کھانا پینا شروع کر دیا۔ اس موقع پر یہ آیتِ کریمہ اتری۔
(۲) معلوم ہوا کہ ماں باپ کا مادری پدری حق ضرور ادا کرے اگرچہ وہ کافر ہوں ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حقِ فرزندی ہر قوم میں مانا گیا۔ اس لئے وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ فرمایاگیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ احکامِ شرعی کے مقابلے میں کسی قرابت دار کا کوئی حق نہیں جیسا کہ آیت سے معلوم ہو رہا ہے۔ لہٰذا ماں باپ کے کہنے پر شرعی احکام نماز وغیرہ نہ چھوڑے ۔
(۳) شرک سے مراد مطلقاً کفر ہے ۔یعنی ماں باپ کے کہنے سے کفر نہ کرو، جب کفر میں ماں باپ کی بھی اطاعت نہیں تو کسی دوسرے کا ذکر کیا۔
(۴) ماں باپ کے کہنے سے ایمان نہ چھوڑے نہ فرض عبادت۔نفل عبادت ماں کے منع پر چھوڑے۔ حجِ نفل کے لئے سفر بغیر ماں باپ کی اجازت کے نہیں کر سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان میں تقلید جائز نہیں ۔
(۵) یہ آیت پچھلی آیت کی دلیل ہے کہ چونکہ تمہیں رب عَزَّ وَجَلَّ کی طرف ہی رجوع کرنا ہے لہٰذا تمہیں لازم ہے کہ کسی کو راضی کرنے کے لئے اسے ناراض نہ کر لو۔(تفسیر نورالعرفان)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا(۸۶)(پ۵، النسآء: ۸۶ )
ترجمہ کنزالایمان :
اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو(۱) بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے(۲)۔
تفسیر :
(۱) معلوم ہوا کہ سلام کا جواب دینا فرض ہے ۔لطیفہ : بعض سنتوں کا ثواب فرض سے زیادہ ہے سلام سنت ہے اور جوابِ سلام فرض ہے۔ مگر ثواب سلام کرنے کا زیادہ ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر جگہ سے ہمارے سلام سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں ۔ کیونکہ ہر نماز میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سلام کیا جاتا ہے اور جواب دینا فرض ہے۔ جو جواب نہ دے سکے اسے سلام کرنا منع ۔ جیسے سونے والا یا استنجا کرنے والا وغیرہ۔السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنا بہتر جواب ہے اور صرف وعلیکم السلام کہنا ردِ جواب ہے ۔پہلا بِاَحْسَنَ مِنْھَا سے مراد ہے اور دوسرا رُدُّوْھَا سے مراد ہے۔اچھا جواب دینا بہتر ہے ۔ردِ سلام فرض لہٰذا فَحَیُّوْا امر استحبابی اور رُدُّوْھَا امر وجوب کیلئے۔
(۲) سلام کے مسائل فقہ کی کتابوں میں ملاحظہ کریں یہاں چند مسائل عرض کئے جاتے ہیں ۔کافر ، مرتد ، مشرک کو سلام کرنا حرام ہے کہ وہ بددعا کے مستحق ہیں اور سلام میں دعا۔ جو سلام نہ سنے یا جواب نہ دے سکے اسے سلام کرنا منع ہے۔جیسے سونے والا یا نماز پڑھنے یا استنجا کرنے والا۔جو مسلمان فسق و فجور کر رہا ہو اسے سلام کرنا مکروہ ہے جیسے جو گابجا رہا ہو ، تاش، شطرنج کھیل رہا ہو۔ گھر میں داخل ہوتے وقت اپنے بیوی بچوں کو سلام کرو۔ سنت یہ ہے کہ کھڑا بیٹھے کو اور سوار پیدل کو سلام کرے ۔خالی گھر میں جاؤ تو یوں سلام کرو اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ ۔ کیونکہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی روحِ انور ہر امتی کے گھر میں جلوہ گرہوتی ہے (حاضر و ناظر) ۔ اجنبی جوان عورتوں کو سلام نہ کرو کہ اس میں فتنہ کا خوف ہے۔(تفسیر نورالعرفان)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ ط(پ۳، اٰل عمرٰن : ۸۱)
ترجمہ کنزالایمان :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع