30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفسیر :
(۱) غنیمت میں سے کیونکہ وہ تمہارے لیے حلال ہے یا یہ معنی ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہیں جو حکم دیں اس کا اتباع کرو کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع ہر امر میں واجب ہے ۔
(۲) نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت نہ کرو ان کے تعمیل ارشاد میں سستی نہ کر و۔ (خزائن العرفان)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ۴، اٰل عمرٰن : ۱۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان :
اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے (۱)اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں (۲)۔
تفسیر :
(۱)خیال رہے کہ معافی اور درگزر اپنے حقوق میں کی جاسکتی ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مجرم کو معاف نہیں کیا جا سکتا ۔مرتد کو قتل کیا جائے گا اور چور کے ضرور ہاتھ کٹیں گے۔ اس آیت کا یہی مقصد ہے۔
(۲) فضیل بن عیاض فرماتے ہیں کہ احسان کے عوض احسان کرنا بدلہ ہے اور برائی کے عوض برائی کرنا مجازات اور سزاہے۔ برائی کے عوض بھلائی کرنا کرم وجود ہے اور بھلائی کے عوض برائی کرنا خباثت ہے ۔ اس آیت میں کرم و جود کا ذکر ہے انہیں محسن فرمایا گیاہے۔(تفسیر نورالعرفان)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘-وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَاؕ (پ۲، البقرۃ : ۲۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان :
تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں (۱) تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی(۲) اور ان کا گناہ انکے نفع سے بڑا ہے(۳)۔
تفسیر :
(۱) جوئے کو میسر اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں ہارنے والے کا مال آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے ۔جس چیز میں مال کا جاناآنا شرطِ غیر معلوم پر موقوف ہو تو وہ جوا ہے لہٰذا اس معنی کی معمہ بازی خالص جواہے ۔ اسی طرح سٹہ اور وہ تجارتیں جن میں مالی ہار جیت ہے سب حرام ہیں ۔ایسے ہی تاش ، شطرنج وغیرہ۔
(۲) کہ کفار ان کے ذریعے سے کچھ روپیہ کما لیتے ہیں ۔
(۳) اس میں اشارۃً دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ یہ آیت شراب کے حرام ہونے کے بعد نازل ہوئی ورنہ اسے گناہ نہ کہا جاتا۔دوسرا یہ کہ شراب نوشی کا کبیرہ گناہ ہونا اضافی یعنی نفع سے گناہ زیادہ ورنہ شراب نوشی و جوا گناہِ صغیرہ ہے جو ہمیشگی سے کبیرہ بن جاتے ہیں ۔(تفسیر نورالعرفان)
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) (پ۷، الانعام : ۶۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے(۱) تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(۲)
تفسیر :
(۱)یعنی اگر بھول کر تم کفار کے جلسوں میں چلے جاؤ تو یاد آتے ہی وہاں سے ہٹ جاؤ پھر نہ ٹھہرو۔
(۲)اس سے معلوم ہوا کہ بری صحبت سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ برا یار برے سانپ سے بد تر ہے کہ برا سانپ جان لیتاہے اور برا یار ایمان برباد کرتا ہے ۔ (تفسیر نور العرفان)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع