30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) یعنی مجھے زبان سے دل سے ، اعضاء سے یاد کرو ۔ لہٰذا اس میں تمام عبادات آگئیں پھر تم مجھے اپنی زندگی میں یاد کرو میں تمہیں بعدِ موت(یعنی تمہاری موت کے بعد) یاد کرو ں گا کہ دنیاتم پر فداہوگی ۔جیسا اولیاء اللہ کی قبور پر رونق دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے ، یا تم مجھے گناہ کر کے تو بہ سے یاد کر ومیں تمہیں مغفرت سے یاد کرو ں گا ۔ تم مجھے خلوت یا جلوت میں یاد کرومیں تمہیں اسی طر ح یاد کروں گا ۔جیسا کہ حدیث شریف میں ہے غرضیکہ یہ آیت بہت جامع ہے۔
(۲) جب کفر شکر کے مقابل ہو تو اس کا معنی ناشکر ی ہے اور جب اسلام یا ایمان کے مقابل ہو تو اس کے معنی بے ایمانی ہے۔ یہاں ناشکری مراد ہے۔(تفسیر نورالعرفان)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ(۴) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶) (پ۱۸، المؤمنون : ۱تا۶)
ترجمۂ کنزالایمان :
بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے (۱)جو اپنی نماز میں گِڑگِڑاتے ہیں (۲)اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے (۳)اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں (۴) اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں (۵) مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں (۶) کہ ان پر کوئی ملامت نہیں ۔
تفسیر :
(۱) اس طر ح کہ جنت اور وہاں کی نعمتوں کے مستحق ہوئے ۔دیدار الہٰی کے حق دار بنے، یا دنیا میں مقبول الدعاء ہوئے اور ان کی زندگی کامیاب ہوئی۔ معلوم ہوا کہ ایمان اورتقویٰ دونوں جہان کی کامیابیوں کا ذریعہ ہے ۔اس سے دعائیں قبول ، آفات دور ، مرادیں حاصل ہوتی ہیں ۔ رب فرماتا ہے وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ الخ
(۲) اس طر ح کہ نماز کی حالت میں ان کے دلوں میں رب کا خوف ، اعضاء میں سکون ہوتا ہے، نظر اپنے مقام پر قائم ہوتی ہے، نماز میں عبث کام نہیں کرتے ۔ دھیان نماز میں رہتا ہے ، نماز قائم کرنے کے یہ ہی معنیٰ ہیں ۔ اللہ تَعَالٰی نصیب کرے ۔
(۳)یعنی ایساکام نہیں کرتے جس میں دینی یا دنیا وی نفع نہ ہو ، خیال رہے کہ مضر کام باطل ہے او ربے فائدہ کا م لغو ، تقویٰ کے لئے ان دونوں سے بچے ۔
(۴)یعنی ہمیشہ زکوٰۃ دیا کرتے ہیں ۔
(۵) اس طر ح کہ زنا اور لوازم زنا سے بچتے ہیں حتٰی کہ غیر کا ستر دیکھتے نہیں ۔
(۶) اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن اپنی شرعی لونڈی سے صحبت کرسکتا ہے۔ مگر مولاۃ عورت اپنے غلام سے صحبت نہیں کر اسکتی ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ-قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ-قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷)
( پ۳، اٰل عمرٰن : ۳۷ )
ترجمۂ کنزالایمان :
جب زکریااس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے۔ کہا اے مریم یہ تیرے پاس کہاں سے آیا؟ بولیں ، وہ اللہ کے پاس سے ہے ، بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے(۱)۔
تفسیر :
(۱) اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ کرامت ولی برحق ہے ، کیونکہ حضرت مریم کو بے موسم غیبی پھل ملنا ان کی کرامت تھی ۔ دوسرے یہ کہ بعض بندے مادرزاد ولی ہوتے ہیں ، ولایت عمل پر موقوف نہیں ۔ دیکھو حضرت مریم لڑکپن میں ولیہ تھیں ، تیسرے یہ کہ ولی کو اللہ تَعَالٰی علم لدنی اور عقل کامل عطا فرماتا ہے کہ حضرت مریم نے حضرت زکریا علیہ السلام کے سوال کا جواب ایسا ایمان افروز دیا کہ سبحان اللہ ، چوتھے یہ کہ بعض اللہ والوں کے لئے جنتی میوے آئے ہیں ۔ حضرت مریم کو یہ پھل جنت سے ملتے تھے۔پانچویں یہ کہ حضرت مریم کی پرورش جنتی میووں سے ہوئی نہ کہ ماں کے دودھ یا دنیاوی غذاؤں سے (خزائن العرفان) کیونکہ والدہ محترمہ تو ان کے پیدا ہوتے ہی احبار کے سپرد کر گئی تھیں ، اور ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے لئے کوئی دائی مقرر کی گئی ہو۔ (تفسیر نورالعرفان)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع