30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگوں سے جو معاملات کرتا ہے دھوکا دینا ان میں سب سے برا ہے ۔ سخاوت، علم، تواضع اورحیا ء کو اپنا لینا اور اب میں تجھے خدا عَزَّ وَجَلَّ کے سپر د کرتی ہوں ، تم پر سلامتی ہو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم کرے یاد رکھو کہ غیبت کرنا حالت اسلام میں تیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی سخت گناہ ہے ۔‘‘
بعض علماء رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں : ’’ غیبت وضو توڑ دیتی ہے اور روزہ دار کا روزہ بھی غیبت کرنے سے ٹو ٹ جاتاہے ۔‘‘(مگرصحیح قول یہ ہے کہ’’ غیبت کی توروزہ نہ گیا اگرچہ غیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیت جاتی رہتی ہے ۔‘‘بہارشریعت، حصہ۵ص۵۸)
اوربعض فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں : ’’غیبت ہوجانے کی صورت میں دوبارہ وضوکیاجائے ۔‘‘(یعنی دوبارہ وضوکرنا مستحب ہے ۔بہارشریعت، حصہ۲ص۱۳)
منقول ہے : ’’ غیبت کرنے والا اس شخص کی طر ح ہے جس نے ایک منجنیق (توپ)نصب کی ہواور اس کے ذریعے اپنی نیکیاں دائیں ، بائیں اور مشرق ومغرب کی جانب پھینکنے لگے ۔‘‘
سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والا :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت ِ سَیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وحی فرمائی : ’’ کیاتم پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے دشمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرو ں۔‘‘ عرض کیا : ’’ وہ کیسے ؟‘‘فرمایا : ’’تمہیں لوگو ں کی غیبت سے بچا کر(پھرفرمایا) غیبت اور چغل خوری سے توبہ کر کے مرنے والا سب سے آخرمیں جنت میں داخل ہوگا اورجو ان دو نوں گناہوں پر اصرار کرتے ہوئے مرے گا وہ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہوگا۔‘‘
حضرت ِ سَیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہ ِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں عرض کی : ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ ! کون سا عمل سب سے افضل اور تیرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا : ’’اے سلیمان !وہ دس خصلتیں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم میرے ہر بندے کا تذکرہ بھلائی ہی کے ساتھ کرو اور نہ توکسی کی غیبت کرواور نہ کسی کی عیب جوئی کرو۔‘‘ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا : ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ ! بقیہ سات چیزوں کو مجھ سے روک لے کیونکہ مجھے ان تین باتو ں ہی نے کرب میں مبتلا کر دیا ہے ۔‘‘ (کتاب الزھد لابن مبارک ، باب ذکر الانبیاء صلوات علیھم ، رقم ۴۷۱، ص ۱۶۱، بتصرف وفیہ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام )
حضرت ِ سَیِّدُنا عطاء سُلَیْمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ عذابِ قبر کے تین حصے ہیں ، ایک تہائی عذاب پیشاب کے سبب ، ایک تہائی غیبت کے سبب اورایک تہائی چغل خوری کے سبب ہوتاہے ۔‘‘
اس لئے اے میرے اسلامی بھائی! عزت دری کرنے اور کسی کی اُس عیب پرغیبت کرنے سے بیچتے رہو جواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس میں پیدا فرمایا ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے زیادہ جانتا ہے اور تجھ سے زیادہ اس پر قادر ہے اگر وہ چاہتا تو اسے ہلاک کر کے انتقام لے لیتا۔
منقول ہے کہ حضرت ِ سَیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کسی نہر کے قریب سے گزرے تو کچھ بچو ں کو اس نہر میں کھیلتے دیکھا ان کے ساتھ ایک نابینا بچہ بھی تھا جسے وہ پانی میں غوطہ دے کر دائیں بائیں بھاگ جاتے اور وہ انہیں تلاش کرتا رہتا مگر کامیاب نہ ہوتا۔ حضرت ِ سَیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اس کے بارے میں غور وفکر کرنے لگے پھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اس بچے کی بصارت لوٹ آنے کی دعا کی تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس بچے کی بینائی لوٹادی ۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں اور بچو ں کو دیکھا تو ایک بچے کو پکڑ کراسے چمٹ گیا اورپانی میں ا س قدر غوطہ دیا کہ وہ مرگیا پھر دوسرے کو پکڑا اور اسے بھی غوطے دیکر قتل کردیا ۔یہ دیکھ کر باقی بچے بھاگ گئے ۔ جب حضرت ِ سَیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے یہ معاملہ دیکھا تو بہت حیران ہوئے اور عرض کی : ’’ یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! اے میرے آقا ومولیٰ ! تو اپنی مخلوق کو زیادہ جاننے والا ہے پھر اس بچے کوپچھلی حالت پر لوٹانے اور اس کے معاملہ کی کفایت کی دعا مانگی۔‘‘ تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت ِ سَیِّدُنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع