30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : اور ہرایسے کی بات نہ سننا جوبڑا قسمیں کھانے والا ذلیل بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھر نے والا بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا گہنگار درشت خُو اس سب پر طرّہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا ۔
سرکارِ مدینہ قرارِقلب وسینہ ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ، فیضِ گنجینہ ، شہنشاہ ِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے غیبت کے بارے میں سوال کیا گیا : ’’غیبت کیا ہے ؟‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس میں پائے جانے والے کسی عیب کا تذکرہ کرو اور اگر تم کسی ایسے عیب کو اس کی طرف منسوب کرو جو اس میں نہ ہوتو بے شک تم نے اس پر بہتان لگا دیا۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی الغیبۃ، رقم۱۹۴۱، ج۳، ص۳۷۵)
نبی کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے : ’’چغل خوری کرنے والے اور دوستوں میں جدائی ڈالنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے بد ترین لوگ ہیں۔‘‘(المسند للامام احمد بن حنبل، الحدیث ۱۸۰۲۰، ج۶، ص۲۹۱)
چغل خور جنت میں نہیں جائے گا :
نبی کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے : ’’ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان، باب بیان غلط تحریم النمیمۃ ، رقم ۱۰۵ ، ص ۶۶ )
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌعنِ العُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : ’’جو دو بندو ں کے درمیان چغل خوری کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی قبر میں ایک آگ مسلط کردے گا جوا سے قیامت تک جلاتی رہے گی اور اس پر ایک اژدھا مسلط فرمادے گا جو اس کے جہنم میں داخل ہونے تک اسے ڈستا رہے گا ۔‘‘(رواہ الکنانی فی تنزیہ الشریعۃ بلفظٍ : من مشی بالنمیمۃ۔۔۔الخ ، رقم ۱۰۱، ج۲، ص۳۱۳)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ پاک ہے : ’’ جس نے دو شخصو ں کے درمیان دشمنی ڈالی وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے اور جس نے ان میں صلح کرائی تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ کرم پرہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے ۔ ‘‘
چغل خور تمہاری بھی چغلی کھاتا ہوگا :
کسی دانا کا قول ہے : ’’ چغل خوری دلوں میں دشمنی پیدا کرتی ہے اور جس نے تمہاری چغلی کی بے شک اس نے تمہیں گالی دی اور جو تمہارے سامنے کسی کی چغلی کرتاہے وہ تمہاری بھی چغلی کر تا ہوگا چغل خورجس کے سامنے چغلی کر تا ہے اس کے لئے جھوٹ بولتاہے اور جس کی چغلی کرتاہے اس سے بد دیا نتی کرتا ہے ۔‘‘
اِحْفَظْ لِسَانَکَ لَاتُؤْذِیْ بِہِ اَحَدً ا مَنْ قَالَ فِیْ النَّاسِ عَیْبًا قِیْلَ فِیْہِ بِمِثلِہِ
ترجمہ : اپنی زبان کی حفاظت کر، اس کے ذریعے کسی کوبھی تکلیف نہ دے ، کہ جوشخص لوگوں پرعیب لگاتاہے ، اس پربھی عیب لگائے جاتے ہیں۔
امام اصمعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے ایک دیہاتی عورت کو دیکھا جو اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہہ رہی تھی : ’’ بیٹا! عمل کی تو فیقاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہے اور میں تجھے نصیحت کرتی ہوں کہ چغلی کرنے سے بچتے رہنا کیونکہ یہ دو قبیلوں میں دشمنی ڈال دیتی ہے ، دو ستو ں کو جدا کردیتی ہے اور لوگو ں کے عیب کی ٹوہ میں رہنے سے بچو کہ کہیں تم بھی عیب دار نہ ہوجاؤ، عبادت میں دکھاوے اور مال خرچ کرنے میں بخل سے بچتے رہنااور دو سروں کے انجام سے سبق حاصل کرنااو رلوگو ں کاجو عمل تمہیں اچھا لگے اس پرعمل کرنااور ان میں جو کام تمہیں برا لگے اس سے بچتے رہنا کیونکہ آدمی کواپنے عیب نظر نہیں آتے ۔‘‘پھر وہ عورت خاموش ہوگئی تومیں نے کہا کہ ’’اے دیہاتن ! تجھے خداعَزَّ وَجَلَّ کی قسم !مزید نصیحت کرو ۔‘‘ اس نے پوچھا : ’’ اے شہری ! کیاتجھے ایک دیہاتی کی باتیں اچھی لگی ہیں ؟ ‘‘میں نے کہا : ’’خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! اچھی لگی ہیں۔‘‘ تو وہ بولی کہ ’’بیٹا ! دھوکا دہی سے بچتے رہنا کیو نکہ تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع