30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔‘‘کی رعایت کرتے ہوئے ہم نے تمہارے حق کی پاسداری نہ کی ؟‘‘ وہ کہنے لگا : ’’ خداکی قسم !آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مجھے ضائع نہیں کیابلکہ میری رعایت کی، اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو پڑوسیوں کی جانب سے اچھی جزاء دے اورمیں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو گواہ بنا کراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں تو بہ کرتا ہوں۔‘‘پھر وہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی اتباع کرنے لگا اور مرتے دم تکاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مشغول رہا۔
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭…
سرکارِ مدینہ قرارِقلب وسینہ ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ، فیضِ گنجینہ، شہنشاہ ِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت ِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا کہ ’’اے ابوہریرہ ! اگر تم یہ بات پسند کرتے ہو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا اور آخرت میں تمہیں مقبول بنائے تو تم اپنی زبان کو مسلمانوں کے معاملا ت میں بولنے سے روکے رکھو ۔ ‘‘
غیبت کرنے والا روزہ دار نہیں :
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ پاک ہے : ’’جو دن کے وقت لوگو ں کاگو شت کھانے میں لگا رہا اس نے روزہ نہیں رکھا۔‘‘(المصنف لابن ابی شیبۃ ، کتاب الصیام ، باب مایؤمربہ الصائم۔۔۔الخ، الحدیث۱۳، ج۲، ص ۴۲۳)
حضرت ِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ ہر طعن وتشنیع اور لعنت بھیجنے والا شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّ کوسب سے زیادہ ناپسندہے ۔‘‘(کتاب الزھدلابن مبارک ، باب ماجاء فی الشح ، رقم ۶۸۰، ص ۲۳۷، عن ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)
حضرت ِ سَیِّدُنا سعیدبن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کاارشادِ حقیقت بنیادہے :
’’جس نے کسی مسلمان کو اس کے نام کے علاوہ کسی لفظ(یعنی اُسے برے نام )سے پکارا اس پر ملائکہ لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘(الجامع الصغیر ، حرف المیم ، رقم۸۶۶۶، ص۵۲۵)
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌعنِ العُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : ’’ بندے کو قیامت کے دن جب اس کا اعما ل نامہ دیا جائے گا تو وہ اس میں ایسی نیکیاں بھی دیکھے گا جو اس نے کبھی نہ کی تھیں۔ وہ عرض کرے گا : ’’یارب عَزَّ وَجَلَّ ! یہ کہاں سے آئیں ؟ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا : ’’ تیری بے خبری میں لوگوں نے تیری غیبت کی( یہ نیکیاں ان کے غیبت کرنے کی وجہ سے تجھے ملی ہیں )۔‘‘(کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ، باب الغیبۃ الاکمال ، رقم ۸۰۴۴، ج ۳، ص ۲۳۶)
حضرت ِ سَیِّدُنا حاتم اصمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں : ’’ جس مجلس میں تین باتیں ہوتی ہیں وہاں سے رحمت پھیرلی جاتی ہے : (۱)دنیاکا ذکر(۲)ہنسی مذاق (۳) لوگو ں کی عزت دری کرنا ۔‘‘
پیارے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے جان لو!کہ چغل خوری دین ودنیا کو بر بادکرتی، دلوں کوبدل دیتی، دشمنی پیدا کرتی، خون بہاتی اورنااتفاقی کا باعث بنتی ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے :
لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ(۱۰) هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ(۱۱) مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ(۱۲) عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ(۱۳) (پ ۲۹، القلم : ۱۰تا۱۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع