30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(مجمع الزوائد ، کتاب الزہد ، باب ماجاء فی الصمت و حفظ اللسان ، الحدیث ۱۸۱۷۲، ج۱۰ ص۵۴۲)
اسی لئے امیر المؤمنین حضرت ِ سَیِّدُنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پنے منہ مبارک میں پتھر رکھا کرتے تھے تا کہ اس کے ذریعے سے اپنے آپ کو (فضول)گفتگو کرنے سے روک سکیں۔ (المعجم الاوسط من اسمہ محمد ، رقم ۶۵۴۱، ج ۵، ص ۴۷)
حضرت ِ سَیِّدُنا معا ذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ، فیض گنجینہ ، شہنشاہ ِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے پوچھا : ’’کونسا عمل سب سے افضل ہے ؟‘‘تونور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنی زبان مبارک باہر نکال کر اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ (یعنی زبان کی حفاظت کرنا سب سے افضل کام ہے ) (ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت وآداب اللسان، باب حفظ اللسان وفضل الصمت، رقم۸، ج۷، ص۳۰۔۳۱)
امیر المؤمنین حضرت ِ سَیِّدُنا علی بن ابو طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے اپنے بیٹے سیدناامام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا : ’’اپنی زبان کو قابو میں رکھو کیونکہ آدمی کی ہلاکت زیادہ گفتگو کرنے میں ہے ۔‘‘
امیرالمؤمنین حضرت ِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک دن لوگو ں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے : ’’ اے ابن آدم ! تم لوگو ں کو تونیک کام کرنے کی ترغیب دیتے ہو لیکن اپنے آپ کو چھوڑ دیتے ہو، اے ابن آدم!تم لوگو ں کو تو نصیحت کرتے ہو جبکہ اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، اے ابن آدم! تم مجھے پکارتے ہو پھر بھی مجھ سے دور بھا گتے ہو اگر ایسا ہی ہے جیسا تم کہہ رہے ہو تو اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور اپنے گناہوں کویاد رکھو اور اپنے گھر میں بیٹھے رہو۔‘‘
حضرت ِ سَیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے صحیفو ں میں ہے : ’’عقلمند آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے پر نظر رکھنے والا ہو ، اپنے کام سے کام رکھنے والا ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا ہو۔‘‘(التر غیب والترھیب ، کتاب الادب ، باب الترغیب فی الصمت ، الحدیث ۴۴۰۵، ج۳، ص۴۱۷، ولم اجد اسمہ علیہ الصلوۃ و السلام)
حضرت ِ سَیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفّار فرماتے ہیں : ’’ اگر تو اپنے دل میں سختی یااپنے بدن میں سستی یا اپنے رزق میں محرومی دیکھے تو یقین کرلے تو نے کوئی فضول گفتگو کی ہے ۔‘‘
حضرت ِ سَیِّدُنا لقمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’بیٹا ! جو رحم کرتا ہے اس پر رحم کیاجاتاہے اور جو خاموش رہتا ہے وہ سلامت رہتاہے اور جو اچھا کام کرتاہے وہ غنیمت پاتا ہے اورجو برا کام کرتاہے وہ گنہگا ر ہوتا ہے اور جو ا پنی زبان کو قابو میں نہیں رکھتا وہ نادم ہوتا ہے ۔‘‘
اِحْفَظْ لِسَانَکَ اَیُّھَا الْاِنْسَانُ لَایَقْتُلَنَّکَ اِنَّہُ ثُعْبَانُ
کَمْ فِیْ الْمَقَابِرِ مِنْ قَتِیْلِ لِسَانِہِ کَانَتْ تَھَابُ لِقَائَہُ الشِّجْعَانُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع